گاڑی بنانے والی کمپنیاں متبادل ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری پر زور دیں: گڈکری

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 08-September-2018

نئی دہلی، (یو این آئی) وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے گاڑی ساز کمپنیوں سے سستے نقل و حمل کے لئے متبادل ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کرنے اور آلودگی کی کمی کی سمت میں تحقیق تیز کرنے کی اپیل کی ہے۔ مسٹر نتن گڈکری نے جمعہ کو یہاں گلوبل موبیلٹي سمٹ میں گاڑی سازکمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ نقل و حمل کے نظام میں تنوع لائیں ۔ شہری علاقے میں سڑکوں پر جام کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے وہ پبلک ٹرانسپورٹ کے بارے میں بھی سوچیں۔ انہوں نے کہا کہ سڑک پر ٹریفک کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کام کر رہی ہے لیکن آبی راستےسے بھی نقل و حمل کے متبادل پر غور کیا جانا چاہئے۔ وزیر موصوف نے دو پہیہ گاڑی اور آ ٹورکشا کو برقی گاڑی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے غریب طبقہ کے لوگوں کو کافی فائدہ ہوگا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ایک دو سال میں ملک میں بجلی سے چلنے والی گاڑی کی ترقی کر لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی ملک کی مجموعی گھریلو مصنوعات (جی ڈی پی) میں گاڑی ساز کمپنیوں کی شراکت سات فیصد ہے جس سال 2026 تک بڑھ کر 12 فیصد ہو جانے کی توقع ہے۔ مسٹر نتن گڈکری نے کہا کہ ملک میں آلودگی کو کم کرنے کے لئے ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی ترقی اہم ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ اس میں قانون کوئی رکاوٹ نہیں بنے۔ ملک میں گاڑیوں سے تقریبا 27 فیصد آلودگی ہوتی ہے جسے کم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایتھنال پٹرول کا متبادل بن کر ابھرا ہے اور اسے چینی کی صنعت کے علاوہ زرعی شعبے کی مصنوعات اور كچڑے بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں روایتی ایندھن کے استعمال پر ہونے والے اخراجات اور متبادل ایندھن کے استعمال پر ہونے والے اخراجات کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی میں بسوں کے ایک کلو میٹر چلنے پر ایک سو روپے سے زیادہ کا خرچ آتا ہے، جبکہ ناگپور میں ایتھنال سے چلنے والی بس پر خرچ 70 روپے آتا ہے جبکہ الیکٹرک بسوں کے ایک کلومیٹر چلنے پر خرچ 50 روپے آتا ہے۔مسٹر گڈکری نے کہا کہ حکومت نئے نیشنل ہائی وے اور ایکسپریس وے کی تعمیر کر رہی ہے لیکن اس کے لئے زمین کی تحویل پر بڑی رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑی ریاستوں میں عوامی نقل و حمل کا نظام سب سے زیادہ مناسب ثابت ہو اہے اور ایسی ریاستوں میں اس کی ترقی پر سب سے زیادہ غور کرنا چاہیے۔