ہجومی تشدد معاملے میں سپریم کورٹ سخت

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 08-September-2018

نئی دہلی،(ایجنسی): ہجومی تشدد پر قدغن لگانے کے معاملے پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں کو اس کے رہنما ہدایات کو نافذ کرنے کے لئے ایک ہفتے کا مزید وقت دیاہے۔ آج سماعت کے دوران نو ریاستی سرکاروں اور تین مرکز کے زیر انتظام ریاسوں نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کی ہے ۔ کورٹ نے باقی ریاستوں کو بھی ایک ہفتے میں حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا۔کورٹ نے کہا کہ ریاستی سرکاریں 13ستمبر تک حکم پر عمل کریں ورنہ متعلقہ ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو ہم طلب کریں گے ۔ سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے سرکاری ویب سائٹ پر کورٹ کے حکم پر عمل آوری کی رپورٹ اپلوڈ کریں۔ کورٹ نے راجستھان کے الور میں مبینہ گؤ رکشکوں کے ذریعہ رکبر خان کے قتل کے معاملے میں ریاستی سرکار سے قصور وار افسروں کے خلاف کی گئی کارروائی سے متعلق رپورٹ طلب کی ہے ۔ سماعت کے دوران مرکزی سرکار کی جانب سے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ مرکزی سرکار نے وزراء با اختیار گروپ کی تشکیل کی ہے جو ہجومی تشدد کے ذریعہ قتل کے معاملوں کو روکنے کے لئے نیا قانون بنانے پر غور کرے گا۔پچھلے 20اگست کو کورٹ نے راجستھان کے پرنسپل سکریٹری (ہوم ) سے الور میںمبینہ گؤ رکشکوں کے ذریعہ رکبر خان کے قتل کے معاملے پر رپورٹ مانگی تھی ۔ کورٹ نے 30 اگست تک رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ تحسین پونہ والا نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کر کے راجستھان سرکار اور افسروں پر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا ہے ۔ اس معمالے پر ایک دوسری عرضی تشار گاندھی نے دائر کی ہے ۔ انہوں نے راجستھان سرکار کے خلاف توہین عدالت کا الزام لگایا ہے۔پچھلے17جولائی کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کسی بھی شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے ۔ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ سے اپیل کی تھی کہ وہ بھیڑ کے ذریعہ قتل سے نمٹنے کے لئے الگ سے قانون بنائیں۔ کورٹ نے ملک بھر میں ہجومی تشد کے ذریعہ قتل کی مذمت کی تھی ۔ کورٹ نے کہا تھا کہ لوگوں میں قانون کا خوف پیدا ہونا چاہئے ۔کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھاکہ بدنظمی کے حالات میں ریاستی سرکاروں کو کام کرنا ہوگا۔ کسی کوبھی تشدد کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے ۔ ریاستی سرکاروں کو بھیڑ سے نمٹا ہوگا اور قانون و انتظام پر عمل کرنے کے لئے قدم اٹھانا ہوگا۔