ہندوستان کو امریکہ سے ملے گی اعلی دفاعی ٹکنالوجی

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 07-September-2018

نئی دہلی،  (یو این آئی) فوجی ساز و سامان کے تبادلہ سے متعلق معاہدہ کرنے کے دو سال بعدہندوستان اور امریکہ نے آج ایک اور انتہائی اہم فوجی معاہدہ ‘مواصلاتی موافقت وسلامتی معاہدہ(COMCASA )پر دستخط کئے جس سے اب ہندوستان کو اعلی دفاعی ٹکنالوجی حاصل ہوسکے گی۔دونوں ملکوں نے وزرائے دفاع اور وزرائے خارجہ کے درمیان ہاٹ لائن شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا جس سے دونوں وزرائے دفاع اور وزرائے خارجہ کے درمیان براہ راست رابطہ ہو جائیگا۔ دونوں ملکوں کے تینوں افواج کے درمیان پہلی مرتبہ اگلے سال ہندوستان میں مشترکہ فوجی مشق منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ یہ مشق ملک کے مشرقی ساحل پر کیا جائے گا۔وزیر خارجہ سشما سوراج ، وزیر دفاع نرملا سیتا رمن اور امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو اور وزیر دفا ع جیمس میٹیس کے درمیان یہاں ہوئی پہلی ‘ٹو پلس ٹو مذاکرات میں یہ فیصلے کئے گئے ۔میٹنگ کے بعدمحترمہ سوراج، محترمہ سیتارمن، مسٹر پومپیو اور مسٹر میٹس نے مذاکرات کے دوران کئے گئے فیصلوں کے بارے میں میڈیا کو بتایا۔ محترمہ سوراج نے بتایا کہ ہندوستان اور امریکہ نے نیوکلیائی سپلائر گروپ میں ہندوستان کی رکنیت جلد سے جلد یقینی بنانے کے لئے مل کر کام کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے امریکہ کے ذریعہ ہندوستان کو اسٹریٹیجک ٹریڈ اتھارٹی اول(ایس ٹی اے1)کے اہل ملکویں میں شامل کئے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستان کی برآمداتی کنٹرول پالیسیوں کی معتبریت کا ثبوت ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے مسٹر پومپیو کو امریکہ کے ایچ ون ویزا سسٹم کو غیرامتیازی اور معتبر بنانے کی ہندوستان کی خواہش سے آگاہ کرایا اور کہا کہ اس کا اختراعی، مسابقتی ماحول اور لوگوں کی باہمی شراکت پر گہرا اثر پڑے گا جو ہمارے تعلقات کو مستحکم کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے مسٹر پومپیو سے لوگوں کے باہمی تعلقات کو آگے بڑھانے میں تعاون طلب کیا ہے۔محترمہ سوراج نے کہا کہ میٹنگ میں انسداد دہشت گردی کی بھی نئی تشریح کے ساتھ مستحکم کیا گیا ہے۔ہم نے گذشتہ سال دہشت گردوں کو نثان زد کرنے والے مذاکرات اور اس سلسلے میں سیکورٹی تعاون کے نظام کی اہمیت کو واضح کیا ہے او راقو ام متحدہ اور مالیاتی ورکنگ فورس جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے ذریعہ حال ہی میں لشکر طیلبہ کے دہشت گردوں کو فہرست بند کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس بات پراطمینان کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی برادری پاکستانی سرزمین سے ہونے والے دہشت گردی کے خطرے کو سمجھ رہی ہے ۔ جس نے ہندوستان اور امریکہ دونوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے ممبئی دہشت گردانہ حملے کی دسویں برسی کے موقع پر حملہ آوروں اور سازش کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لانے پر زور دیا۔محترمہ سوراج نے بتایا کہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ دونوں وزرائے دفاع کے درمیان مسلسل رابطہ برقرا ررکھنے کے لئے ہاٹ لائن قائم کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میٹنگ میں جنوبی ایشیا کی صورت حال پر بھی کافی بات چیت ہوئی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی کی ہندوستان حمایت کرتا ہے اور پاکستان سے سرحد پار دہسٹ گردوں کی حمایت دینے کی پالیسی کو بند کرنے کی اپیل ہندوستان کی پالیسی سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں وہاں کے لوگوں کے درمیان بات چیت چل رہی ہے اور میل ملاپ کے عمل پر ہندوستان او رامریکہ کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا۔وزیر دفا ع سیتارمن نے بتایا کہ امن اور استحکام یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن طریقے سے تعاون میں اضافہ کرنے کا دونوں ملکوں نے عہد کیا تاکہ لوگوں کی ترقی اور خوشحالی کی امیدوں کو پورا کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی اور سلامتی کے لئے ہر چیلنج کا مل کر مقابلہ کریں گے۔ اس سلسلے میں دونوں ملکوں نے ہدف حاصل کرنے کے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ فوجی ساز و سامان کے تبادلہ سے متعلق اہم معاہدے لیمووا اور طیارہ بردار جہازوں کے علاوہ دیگر جہاں وں سے بھی ہیلی کاپٹروں کی مہم سے متعلق سمجھوتے کے بعد آج دونوں ملکوں نے ایک اور اہم فوجی معاہدہ پر دستخط کئے ہیں۔ کوم کاسا معاہدہ سے ہندوستان کو امریکہ سے اعلی دفاعی ٹکنالوجی آسانی سے حاصل ہوگی اور اس سے ہندوستان کی دفاعی تیاریاں مستحکم ہوں گی۔وزیر دفا ع نے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے اسٹریٹیجک شراکت میں دفاعی تعاون کو باہمی تعلقات کا اہم عنصر قرا ردیا انہوں نے کہاکہ اس شعبہ میں تال میل بڑھانے کے لئے دونوں ملکوں کی تینوں افواج کے درمیان اگلے سال مشترکہ فوجی مشق کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلی مرتبہ منعقد یہ مشق ہندوستان کے مشرقی ساحل پر کیا جائے گا۔