اردوزبان کی فروغ کے لئے سیمینار کا انعقادآج

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 15-October-2018

مظفرپور(اسلم رحمانی)، اردو کے مسائل اور اس کا حل کے موضع پر مورخہ 15اکتوبر بروز سوموار بمقام عابدہ ہائی اسکول چندوارا میں ایک سیمنار کا انعقاد کیاجارہاہے۔ یہ سیمنار بہار اردو اکیڈمی کے مالی تعاون سے ساحل سوشل ویلفئر ٹرسٹ مظفرپور کے زیراہتمام منعقد ہوگا۔ سیمنار کی تیار ی کے جائزہ کے سلسلہ میں ایک نشست ڈاکٹر منصور معصوم کے رہائش گاہ پر رکھی گئی ہے۔ نشست کو خطاب کرتے ہوئے محمد رفیع الدین نے کہا کہ بچوں کی ابتدائی تعلیم اس کی مادری زبان میں دی جائے۔ ابتدائی تعلیم کا انسانی شعور کی آبیاری میں ایک اہم رول ہے۔ اس لئے ہمارے بچوں کی ابتدائی تعلیم اپنی تہذیبی پس منظر اور مادری زبان اردو میں ہونی چاہئے اردو نہ صرف ہماری مادری زبان ہے بلکہ یہ ہماری مذہبی ، لسانی، تہذیبی اور ملی شناخت کی زبان ہے۔ وارث پرویز نے کہا کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہے جو اپنی تہذیب کا تحفظ وبندوبست کرتی ہے۔ اردو ایک زبان ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب بھی ہے۔ تہذیب کا بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ سرفراز عالم نے کہا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے کہاتھا کہ میر وغالب اور حالی وشبلی کی کتابیں تو رہ جائیں گی لیکن اگر ان کے پڑھنے والے نہیں ہوں تو کتب خانوں کی الماڑیوں میں ایک نہ ایک دن کیڑے پڑجائیں گے اور ان کتابوں کا پڑھنے والا نہیں ہوگا۔ محمد عارف نے کہاکہ اردو کا دائرہ روز بروز سمٹتا جارہاہے۔ پہلے اردو کے رسائل میں سائنسی مضامین بھی ہوکرتے تھے مگر اب اردو کی اصناف ادب پر کام کرنے والوں کو ہی اردو والا سمجھا جاتاہے۔ جبکہ دیگر علوم کے لکھنے والوں اردو والانہیں سمجھا جاتا۔ زبا اسی وقت وسیع ہوگیجب سائنسی سماجی اور طبی علوم کو اس میں منتقل کیاجائے گا۔ محمد منظر نے کہا کہ زبان کی بقا اور ارتقا ء کے لئے اس کی تعلیم روح کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جب روٹی روزی سے جوڑ دی جاتی ہے تو یہ اس کی خوراک ہوتی ہے۔ جو زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے۔ سیمنار کے کنوینر ڈاکٹر منصور معصوم نے کہا کہ ہمارے اسلاف نے جس زبان کو سزا سنوار کر ہمیں سونپا ہے اس امانت کو آئندہ نسل تک پہونچانا ہمارا ملی تہذیبی اور لسانی فریضہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سیمنار میں معزز اور معتبر اور ادبی شخصیتوں میں پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی ، مفتی محمد ثناء اللہ قاسمی ، پروفیسر خورشید سمیع، ڈاکٹر ممتازاحمد خواں ، پروفیسر توقیر عالم، امتیازاحمد کریمی، عظیم اللہ انصاری، ڈاکٹر ریحان غنی، پروفیسر عبدالواسیع، پروفیسر ابوذر کمال الدین فخرالدین عارفی، انورالحسن وسطوی، اورڈاکٹر یاسمین خاتون وغیرہ شرکت فرمارہے ہیں۔ اس سیمنار میں کثیر تعداد میں شرکت فرماکر اپنی اردو دوستی کاثبوت دیں اور اس کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں۔