امریکی دھمکی کے باوجود بھارت۔ روس نے کیا ایس 400 میزائل کا سودا

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 06-October-2018

نئی دہلی،(یو این آئی)امریکہ کی دھمکی کے باوجود ہندوستان اور روس نے اپنے خصوصی اور اسٹریٹیجک تعلقات کو نئی جہت دیتے ہوئے آج باہمی تعاون کے آٹھ معاہدوں کے علاوہ دفاعی شعبے میں نہایت اہم ایر ڈیفنس سسٹم ایس 400میزائل کے سودے پر دستخط کئے اور دہشت گردی سے مقابلہ ، ماحولیاتی تبدیلی اور ہند بحرالکاہل خطہ میں باہمی تال میل کو فروغ دینے کے عزم مصمم کا اظہار کیا۔دونوں ملکوں کے درمیان ہائیڈرو کاربن کے شعبے میں تعاون کو فرو غ دینے اور روس کے سخالین سے ہندوستان کو سپلائی بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔وزیر اعظم نریندر مودی اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان انیسویں ہندروس اقتصادی چوٹی میٹنگ کے دوران یہ فیصلے کئے گئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان جن آٹھ معاہدوں پر دستخط کئے گئے ان میں صلاح و مشورہ کے پروٹوکول کو وسعت دینے، نیتی آیوگ اور روس کے اقتصادی تعاون کی وزارت کے درمیان تعاون، خلاء کے شعبے میں اسرو اور روسکاسموس کے درمیان تعاون، ریلوے، نیوکلیائی، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور چھوٹی صنعتوں کے شعبوں میں تعاون کے معاہدے شامل ہیں۔ فرٹیلائزر کے شعبے میں انڈین پوٹاش لمیٹیڈ اور فوس ایگو کے درمیان معاہدہ پر بھی دستخط ہوئے ہیں۔میٹنگ کے بعدمسٹر مودی اور مسٹر پوتن کے بیانات میں ایس 400 میزائیل ڈیفنس سسٹم کے سودے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا لیکن بعد میں جاری مشترکہ بیان میں اس سودے پر دستخط ہونے کی جانکاری دی گئی۔مسٹر مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستان اور روس کے درمیان انسانی وسائل کے فرو غ سے لے کر قدرتی وسائل تک، تجارت سے لے کر سرمایہ کاری، نیوکلیائی توانائی کے پرامن تعاون سے لے کر شمسی توانائی، تکنیک سے لے کر شیروں کے تحفظ، سمندر سے لے کر خلاء تک تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ، افغانستان اور ہند بحرالکاہل کے واقعات، ماحولیاتی تبدیلی، شنگھائی تعاون تنظیم، برکس جیسی تنظیموں اور جی 20اور آسیان جیسی تنظیموں میں تعاون کرنے میں ہمارے دونوں ملکوں کے مشترکہ مفادات ہیں۔ ہم بین الاقوامی اداروں میں اپنے سود مند تعاون کو جاری رکھنے پر متفق ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہندوستان روس دوستی اپنے آپ میں انوکھا ہے۔ اس خصوصی رشتے کے لئے مسٹر پوتن کی شخصیت سے ان تعلقات کو مزید توانائی ملے گی۔ اور ہمارے درمیان مستحکم دوستی مزید مستحکم ہوگی اور ہماری خصوصی اور اسٹریٹیجک شراکت کوئی نئی بلندیاں حاصل ہوں گی۔مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستان اور روس کے تعلقات کی یہ توسیع ہمارے تعاون کو ماضی کے کچھ محدود دائروں سے باہر لے جائے گا۔ اس سے ہمارے تعلقات کے اہم بنیادی ستون مزید مضبوط ہوں گے۔ ہندوستان کی ترقی کے سفر میں روس ہمیشہ ہمارے ساتھ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا خلاء میں اگلا ہدف ہندوستان کے گگن یان میں ہندوستانی خلا بازوں کو بھیجنا ہے ۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ مسٹر پوتن نے اس مشن میں روس کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔مشترکہ بیان میں ایس 400 میزائیل سودے کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دونوں فریقین نے اس سودے کو حتمی شکل دئے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ دونوں فریقین نے ہندوستان اور روس کے درمیان فوجی تکنیکی تعاون میں اضافہ کرنے کے عزم کو دہرایا جو طویل مدت سے اعتماد اور باہمی مفادات پر مبنی ہے۔ دونوں فریقین نے فوجی تکنیکی آلات کے مشترکہ پیداوار اور ریسرچ پروجیکٹوں میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔مسٹر پوتن نے اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستان اور روس کے درمیان دوستانہ تعلقات کو وہ انتہائی اہم سمجھتے ہیں۔ آج کی میٹنگ میں دونوں ملکویں کے درمیان تمام پہلووں بات چیت ہوئی ہے اور آگے بڑھنے کے لئے کئی ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال ہند۔روس باہمی کاروبار میں اکیس فیصد کا اضافہ ہوا جسے مزید بڑھانے سے اتفاق رائے کیا گیا ہے۔ اس طرح 2025 تک دونوں ملکوں کا ایک دوسرے کے یہاں سرمایہ کاری تیس ارب ڈالر سے زیادہ لے جانے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ دونوں ملک باہم روپے اور روبل میں تجارت کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔روسی صدر نے کہا کہ میٹنگ میں ہندوستان کو ہائیڈروکاربن کی سپلائی کے بارے میں بھی بات ہوئی ہے۔ سخالین ون پلانٹ سے سپلائی بڑھانے ، قدرتی گیس کی سپلائی کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی امور میں شام کی صورت حال اور ایران کے ساتھ معاہدے سے امریکہ کے باہر نکل جانے سے پیدا صورت حال پر بھی با ت چیت ہوئی ۔ ہندوستان اور روس کے درمیان فوجی تعاون کو مستحکم کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور روس فوجی تعاون صرف ہتھیاروں کی خریدوفروخت تک ہی محدود نہیں ہے۔مسٹر پوتن نے کہا کہ وہ اس موقع پر مسٹر مودی کو آئندہ سال ہونے والی ولادی ووستک فورم میں مہمان خصوصی کے طورپر مدعو کررہے ہیں۔مشترکہ بیان میں دونوں فریقین نے عالمی کشیدگی کو کم کرنے اور ملکوں کے درمیان تعلقات میں رواداری ، تعاون ، شفافیت اور کھلا پن لانے کے لئے مل کر کام کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ دونوں ملکوں نے ہندوستان او رروس کے درمیان سرکاری رابطہ میں اضافہ ہونے اور پچاس سے زیادہ وزارتی سطح کے دورے ہونے پر اطمینان کااظہار کیا اور کہا کہ اس سے ہمارے تعلقات کو نئی توانائی ملی ہے۔دونوں فریقین نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور سرحد پار سے ہونے والے جرائم کا مل کر مقابلہ کرنے ، داخلی سلامتی اور ڈیزاسٹر منجمنٹ کے شعبے میں تعاون پر بھی اتفاق کیا۔ اقتصادی محاذ پر دونوں ملکوں نے یوریشیائی اقتصادی فیڈریشن کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ پر بات چیت شروع ہونے، انویسٹ انڈیا کے ذریعہ سے روسی سرمایہ کاروں کو سہولت دینے اور روس حکومت کے ذریعہ اس کے لئے سنگل ونڈو سسٹم کا نظم کرنے کی تعریف کی گئی۔دونوں ملکوں نے بین الاقوامی شمال جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور کا کام تیزی سے پورا کرنے پر زور دیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان جویلری، زیورات ، قیمتی دھات اور لکڑی وغیرہ کے شعبے میں مل کر کام کرنے کے امکانات تلاش کرنے اور دونوں ملکوں کے تعلیمی اداروں کے درمیان رابطہ اور توانائی وغیرہ کے شعبوں میں مل کرکام کرنے سے بھی اتفاق کیا۔