انڈونیشیا کے زلزلے اور سونامی سے ہلاکتیں 832 تک پہنچ گئیں

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 01-October-2018

جکارتہ،( اے یوایس ) انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں زلزلے اور اس کے بعد سونامی سے ہلاکتوں کی تعداد 832۔تک پہنچ گئی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ابتدائی اندازوں کے برعکس بہت وسیع علاقوں میں تباہی ہوئی۔انڈونیشیا کے ایک سرکاری اہلکار نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ اس زلزلے سے جس کی شدت ریکٹر اسیکل پر سات اعشاریہ پانچ تھی تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے بہت سے لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔اس زلزلے سے سمندر میں چھ میڑ یا بیس فٹ اونچی سونامی لہر بھی پیدا ہوئی۔حکام کے مطابق پالو شہر میں لوگ ہاتھوں سے ملبے ہٹا رہے ہیں تاکہ ملبے تلے پھنسے لوگوں کو نکالا جا سکے۔ملک کے امدادی ادارے کے سربراہ محمد سایوگی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ انھیں ہنگامی بنیادوں پر بھاری مشینری درکار ہے تاکہ ملبے کو ہٹایا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا عملہ متاثرہ علاقوں میں موجود ہے لیکن اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی سے نمٹنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ڈونگالا کے قصبے کے بارے میں بھی تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ وہاں ہونے والے نقصانات کے بارے میں دو دن گزر جانے کے باوجود مکمل تفصیلات موصول نہیں ہو سکیں ہیں۔بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس کے مطابق اس قدرتی آفات میں کم از کز سولہ لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس آفات میں ہونے والا اصل نقصانات ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔جمعے کو آنے والے زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں بدستور ہلکے اور تیز جھٹکے محسوس ہو رہے ہیں اور پورے ملک میں خوف و ہراس کی کیفیت پائی جاتی ہے۔انڈونیشیا کے نائب صدر یوسف کالا نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔صدر جوکو ودودو پالو شہر میں ہیں اور انھوں نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ہے جس میں تالیسی کا سیاحتی ساحلی علاقہ بھی شامل ہے۔ یہ ساحلِ سمندر جو سیاحوں میں بہت مقبول ہے شدید ترین متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔پالو شہر میں کیا صورت حال ہے۔اس ساڑھ تین لاکھ نفوس پر مشتمل ساحلی شہر میں ہزاروں لوگ اب بھی لاپتہ ہیں جن میں بہت سے تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔امدادی کام کرنے والے عملے نے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر اور کئی فٹ مٹی کھود کر چوبیس افراد کو ایک ہوٹل کی عمارت کے ملبے سے بحفاظت نکالا لیکن خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ بہت سے افراد اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔کئی جگہوں پر لاشیں سڑکوں اور گلیوں میں پڑی ہوئی ہیں اور زخمیوں کو عارضی خیموں میں طبی امداد مہیا کی جا رہی ہے۔ ہستپالوں کی عمارتیں بھی اس قدرتی آفت میں تباہ ہو گئی ہیں۔خوف زدہ اور پریشان شہریوں نے پالو شہر میں کھلے آسمان تلے رات بسر کی۔ حکام نے انھیں اپنے گھروں میں نہ جانے کی ہدایت کی ہے ۔ ریسا کوسوما زلزلے میں بچ جانے والی ایک خاتوں نے اے اپف پی کو بتایا کہ ‘میں بہت پریشان ہوں’۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ہر لمحے ایمبولینسیں لاشیں ہسپتال پہنچا رہی ہیں۔ پینے کا صاف پانی نایاب ہے اور دکانوں کو لوٹ لیا گیا ہے۔زلزلوں پر نظر رکھنے والے امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ سات اعشاریہ پانچ شدت کا زلزلہ زمین کی سطح سے صرف دس کلو میٹر نیچے آیا۔جس وقت زلزلہ اور سونامی کی لہر اٹھی اس وقت بہت سے لوگ پالو شہر کے ساحل پر ایک تہوار کی تیاریاں کر رہے تھے۔ سنمدر کی لہریں کئی عمارتیں، ایک مسجد اور ایک پل کو بہا کر لے گئیں۔پالو شہر کے ہوائی اڈے پر ایئر ٹریفک عملے کا ایک اہلکار ایک جہاز کو بحفاظت پرواز کرنے میں معاونت کرتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔ جہاز بحفاظت اڑان بھر گیا۔ہے۔