اپوزیشن کا اتحاد ہی نفرت کی آندھی روکنے میں معاون ثابت ہوگا :طارق انور

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 17-October-2018

نئی دہلی ،(محمد گوہر)آل انڈیا قومی تنظیم کے قومی صدر طارق انور نے ایک میٹنگ میں قومی تنظیم کی دہلی اکائی کو خطاب کرتے ہوئے ملک کے موجودہ صورتحال پر دکھ کا اظہار کیا، ساتھ ہی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ نفرت کے اس ماحول میں مایوس نہ ہوں اور فرقہ پرستی کا حکمت عملی کیساتھ مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ 23اکتوبر کو تنظیم کی دہلی اکائی کے ذریعہ ماؤلنکر ہال میں قومی یکجہتی کانفرنس وقت کی ضرورت ہے تاکہ مایوس لوگوں کو سہارا دیا جاسکے اور فرقہ پرستی کی جڑوں کو محبت کے ذریعہ کاٹا جاسکے ۔طارق انور نے کہا کہ آج ملک گاندھی جی کی 150ویں یوم پیدائش منارہاہے۔ بہتر ہوتا کہ ملک میں محبت کے دیپ جلائے جاتے ۔ بے سہاروں کو سہارا دیا جاتا اورایک دوسرے سے محبت کرنے کی تعلیم دی جاتی ، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ لوگوں کو نفرت کیلئے آمادہ کیا جارہاہے ۔ دلتوں ، اقلیتوں اور کمزوروں کو کچلنے کی سازش ہورہی ہے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔طارق انور نے کہاکہ ملک کے نوجوان بے روزگاری کی مار جھیل رہے ہیں۔ کسان پریشان حال ہیں۔ چھوٹے موٹے روزگار پوری طرح تباہ ہوچکے ہیں۔ دنیا کی سب سے مضبوط ہماری متبادل معیشت کو کچلا جا چکا ہے۔ عورتوں کیساتھ عصمت دری کی خبریں عام ہورہی ہیں، ننھی ننھی بچیوں کو ہوس کا شکار بنایا جارہاہے اور ظالموں کی حمایت میں ریلیاں کی جارہی ہیں۔ایسے پر فتن اور پر خطر دور میں آل انڈیا قومی تنظیم کی دہلی اکائی کے ذریعہ 23اکتوبر کو ماؤلنکر ہال میں کانفرنس بلانا انتہائی خوش آئند قدم ہے تاکہ اپوزیشن کے لوگ سر جوڑ کر بیٹھیں اور حالات سے نمٹنے کا خاکہ تیار کریں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ آج بھی 69فیصد عوام بی جے پی کی نفرت کی پالیسی کو پسند نہیں کرتی ہے اور یہ ہماری جمہوریت کیلئے خوش آئند ہے لیکن حالات سے اسی وقت نمٹا جاسکتاہے جب پورا اپوزیشن ایک ساتھ متحد ہوکر فرقہ پرستی کا مقابلہ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہر جماعت اپنے اندر قربانی کا جذبہ رکھے۔انہوں نے بتایاکہ ٹاڈا کیخلاف قومی تنظیم کی جدوجہد کو لوگ آج بھی نہیں بھولے ہیں ۔ موجودہ حالات میں ایک بار پھر قومی تنظیم نے اپنی ذمہ داری سمجھی ہے اور قومی یکجہتی کیلئے ہم کوشاں ہیں اور اسی کے پیش نظر ہم نے 23اکتوبر کو ان تمام جماعتوں کو دعوت دی ہے جو نفرت اور فرقہ پرستی کیخلاف ہیں۔