باپو کے نقش قدم پر چل کر ہی سماجی تبدیلی ممکن

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 03-October-2018

پٹنہ( اسٹاف رپورٹر ) : وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی یوم پیدائش پر ان کے مجسمے پر گلہائے عقید ت پیش کر کے انہیں پرخلوص خراج عقیدت پیش کیا ۔وزیراعلیٰ نے یہاں تاریخی گاندھی میدان میں بابائے قوم کے آدم قد مجسمے پر گلپوشی کے بعد بابائے قوم کے نظریات کو زندگی میں اپنانے کا بھی عہدکیااور غبارے اڑاکرپد یاترا کا آغاز کیا۔پد یاترامیں وزیراعلیٰ اور کثیر تعداد میں پارٹی کے رہنما بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ پروگرام آئندہ دوسال یعنی 02 اکتوبر 2020 تک چلے گا۔ گاندھی جی کے خیالات پر عمل کرنے کے لئے ہم لوگ پابندعہد ہیں۔ ہم مہذب انداز میں کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ترقیاتی کام کر رہے ہیں۔ صفائی کے تئیں ہم لوگ پر عزم ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ سماجی اصلاح کیلئے عوام کے مابین مہم چلا کر انہیں ترغیب دی جارہی ہے ۔ سماجی مہم کے تحت کم عمری کی شادی اور جہیز بندی اور شراب بندی کے لئے مسلسل بیداری مہم چلائی جارہی ہے ۔ چمپارن ستیہ گرہ کے 100 سال پورے ہونے پر صد سالہ تقریب منائی گئی اور اس دوران جن کاموں کا عہد کیا گیاانہیں حتمی شکل دی جارہی ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ چمپارن ستیہ گرہ صدسالہ تقریب منائے جانے کی کافی خوشی تھی اور حوصلہ مل رہا تھا۔ اسی طرح اب آئندہ دوسالوں تک گاندھی جی کے خیالات کو عوام تک پہنچایاجائے گا۔اس موقع پر نائب وزیراعلیٰ سشیل کما رمودی ، قانون ساز اسمبلی کے چیئر مین وجے کمار چودھری ،تعمیرات سڑک کے وزیر نند کشور یادو ، وزیراعلیٰ کے مشیر انجنی کمار سنگھ ، ممبر اسمبلی ارون کمار سنہا، رکن قانون ساز کونسل سنجے کمار سنگھ عرف گاندھی جی ، ریاستی فوڈ کمیشن کے رکن نند کشور کشواہا ، اسٹیٹ سٹیزن کونسل کے سابق جنرل سکریٹری اروند کمار سنگھ عرف چھوٹو سنگھ سمیت کئی سماجی اور سیاسی کارکنان نے بابائے قوم کے مجسمے پر گلپوشی کرکے انہیں صد صد سلام اور خراج عقیدت پیش کیا ۔بعد میں وزیر اعلیٰ نے باپو ہال ، سمراٹ اشوک کنووکیشن سینٹر میں بابائے قوم مہاتماگاندھی جی کے 150ویں یوم پیدائش سال تقریب کی شروعات کے موقع پر ریاستی سطح کے پروگرام کا شمع روشن کرکے افتتاح کیا ۔پروگرام کو خطاب کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج ہم لوگوں کے لیے خوشی کا مقام ہے کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی جی کے 150ویں’ جینتی‘ کے موقع پرحاضر ہوئے ہیں ۔ چمپارن ستیہ گراہ کا شتابدی سال منایا گیا ہے۔ اس دوران بہار کے لوگوں کو بیدار کر نے کیلئے گاندھی جی کے خیالات کو عام لوگوں تک پہنچانے کی کو شش کی گئی ہے۔ گاندھی جی کے چمپارن آنے کے 100واں سال کی شروعات میں ہی مکمل شراب بندی نافذ کی گئی ہے ۔ اس دوران سماج سدھار کے لیے کئی پروگرام چلائے گئے اور اس کے لیے سماج سدھار مہم کی شروعات کی گئی ۔ مکمل شراب بندی کے ذریعہ سماج سدھار کی بنیاد رکھی گئی ۔ لیکن چند لوگ اپنی فطرت سے ماحول خراب کر نے والے ہوتے ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گاندھی جی بھی چاہ کر سب کو مثالی نہیں بنا سکے ۔ حالانکہ گڑبڑی کر نے والے لوگوں کیساتھ قانون سختی سے کارروائی کر رہا ہے ۔ شراب بندی کے بعد سماج میں کافی تبدیلی آئی ہے اور ماحول بدلا ہے ۔اب امن کا ماحول ہے اور شراب چھوڑنے کے بعد جو پیسے کی بچت ہو رہی ہے اس کا مکمل استعمال بچوں کی اچھی تعلیم ، کھانے پینے اور اور رہن سہن پر کیا جا رہا ہے ۔ بہار میں شراب بندی کے اثر کو دیکھتے ہوئے دیگر ریاستوں میں بھی شراب بندی کا مطالبہ ہو نے لگا ہے باہر کے لوگ ریاست میں آکر اسے جاننے اور سمجھنے کی کو شش کررہے ہیں ۔ ہم سب کو اس مہم کر مضبوط طریقہ سے چلاتے رہنا ہے اور شراب بندی کے عہد کو جاری رکھنا ہے ۔ سرکاری ذرائع بھی مثالی نہیں ہو سکتے ہیں ،وہ بھی گڑبڑی کر نے پر سزا پارہے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اطفال شادی اور جہیزکی روایت کے خلاف مسلسل مہم چلائی جارہی ہے ۔ اطفال کی شادی میں کمی آئی ہے اور جہیز نہ لینے والے بھی سامنے آرہے ہیں ۔21جنوری 2017کو چار کروڑ لوگوں نے انسانی زنجیر بناکر شراب بندی کے حق میں اپنے عزم کااظہار کیا۔ ایک سال بعد 21جنوری ، 2018 کو اطفال شادی اور جہیز کی روایت کے خلاف انسانی زنجیر بنا کر ریاست کے لوگوں نے اپنا عہد کیا ۔ یہ دونوں پروگرام اپنے آپ میںخاص طریقہ کا رہا ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باپو کے خیالات کو عام لوگوں تک پہنچایا جارہا ہے ، اسکول کے بچوں کے ذریعہ ایک ایک کہانی اسکولوں میں پڑھی جارہی ہے ۔ نئی نسل کے 10 سے 15 فیصد لوگ اگر باپو کے خیالات سے متاثر ہو جاتے ہیں تو سماج بدل جائے گا ۔ باپو کی سوچ کے مطابق ہی ریاست میں ترقی کے کام کو مہذب طریقہ سے کیا جارہا ہے ۔ہر گھر نل کاجل ، اجابت خانہ کی تعمیر بجلی کاانتظام ہر گھر تک کیا جارہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باپو نے ایسے بھارت کا خواب دیکھاتھا جہاں سب کی حصہ داری ہو ، کوئی بھید بھائو نہ ہو ، شراب یا دوسری نشیلی اشیاء کی لعنت کے لیے کوئی جگہ نہ ہو اور خواتین کو بھی وہیں حقوق ملیں جو مردوں کو ہوں ۔ یعنی مساوات کا حق ۔ آج باپو اورچمپارن ستیہ گرہ سے جڑے ان کے معاونین کے مجسموںکی نقاب کشائی کی گئی ہے ۔ گاندھی جی نے چمپارن ستیہ گرہ کے دوران بھی صفائی کی نصیحت کی تھی ۔اس کے ساتھ ہی صحت اور تعلیم کی بات کی تھی ۔20نومبر ،2017کوبڑہروا ، لکھن سین ، بھیتی ہر وا کے اسکولوں کا میں نے جائزہ لیا۔ ان اسکولوں کو گاندھی جی کے ذریعہ بنیادی اسکولوں کی شکل میں کھولا گیا تھا جسے پھر سے ہم لوگوں نے زندہ کر نے کافیصلہ کیا ہے ۔ بھیتی ہر وا میں چمپارن ستیہ گرہ کے دوران ماتا کستوربا گاندھی ایک ماہ تک بھتیہر وا کے اسکول میں رکی تھیں ۔ اس کے لیے بھیتہر وا اور 12 اسکولوں کو جوڑ کر گاندھی جی بنیادی تعلیم کے تصور کوپھر قائم کیا جارہا ہے ۔ اس کے لیے ڈیولپمنٹ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ نے کام کر نا شروع کر دیا ہے ۔ ان اسکولوں میں آئی ٹی، کا انتظام ، کوشل وکاس اور آج کے دور میں تعلیم سے جڑی دیگر ضروری چیزوں کو شامل کیا جائیگا ۔