بریٹ کیواناح نے سپریم کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھا لیا

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 08-October-2018

واشنگٹن،(پی ایس آئی):جنسی الزامات کا سامنا کرنے والے قدامت پسند امریکی جج بریٹ کیواناح نے سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال کی ہیں۔ اس پیشرفت کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔خبر وں میں امریکی میڈیا کے حوالے سے اتوار کے دن بتایا ہے کہ بریٹ کیواناح نے سپریم کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ ہفتے کے دن امریکی سینیٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد کردہ اس امیدوار کے نام کی توثیق کی گئی تھی۔ سینیٹ میں کیواناح کے حق میں پچاس ووٹ پڑے جبکہ اڑتالیس ارکان نے ان کی مخالفت کی۔ناقدین کے مطابق ترپن سالہ کیواناح سپریم کورٹ کے جج کے طور پر کئی اہم معاملات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی پارٹی کے لیے فائدے مند ثابت ہو سکیں گے۔امریکا کی اس اعلیٰ ترین عدالت کے نو رکنی پینل میں شامل جج اسقاط حمل، گن کنٹرول اور انتخابی قوانین کے علاوہ کئی دیگر بہت اہم اور حساس معاملات میں حتمی رائے دینے کا اختیار رکھتے ہیں۔ کیواناح کے سپریم کورٹ میں جج بننے سے اب اس اہم ادارے میں ری پبلکن پارٹی کو پانچ چار سے اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیواناح کے سپریم کورٹ کے جج بننے کو ایک انتہائی اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔ ہفتے کی رات کنساس میں ایک ریلی سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا، ’’یہ ایک تاریخی رات ہے۔‘‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ملکی آئین سے محبت کرنے والے عوام کے لیے یہ ایک شاندار جیت ہے۔ امریکی سپریم کورٹ میں کسی بھی جج کی تعیناتی تاحیات ہوتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کے دن بریٹ کیواناح سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔ اس موقع پر ان کی حلف برداری کی عوامی تقریب کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ سینیٹ سے توثیق کے بعد کیواناح ہفتے کی رات ہی اپنے عہدے کا غیر رسمی حلف اٹھا لیا تھا۔جنسی الزامات کا سامنا کرنے والے بریٹ کیواناح کے خلاف امریکا بھر میں مظاہرے بھی کیے گئے۔ اس نامزدگی پر امریکی صدر ٹرمپ کو شدید دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا تاہم وہ اپنے اس فیصلے پر ڈٹے رہے۔