ہندستان ہندوستان

بھگواملزمین پر یو اے پی اے قانون کا اطلاق ہوگا یا نہیں فیصلہ ۱۹؍ کو

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 11-October-2018

ممبئی (پریس ریلیز)مالیگائوں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملے کے کلیدی ملزم کرنل شریکانت پروہیت ودیگر کی جا نب سے یو اے پی اے قانون کے اطلاق کو غیر قانونی بتانے والی عرضداشت پر خصوصی این آئی عدالت میں آج فریقین بشمول متاثرین کی نمائندگی کرنے والے وکیل کی بحث کا اختتام عمل میں آیا جس کے بعد عدالت نے فیصلہ صادر کر نے کیلئے ۱۹؍ اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔آج خصوصی عدا لت کے جج وی ایس پڈالکرنے ہندوملزمین کے وکلاء اور این آئی اے کے اسپیشل پبلک پراسیکیو ٹر (وکیل استغاثہ) اوینا س رسا ل کی بحث کے اختتام کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی ) کی جانب سے متاثرین کی نمائندگی کرنے وا لے وکیل شر یف شیخ کو بحث کرنے کی اجازت دی جس کے بعد ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدا لت کو بتایا کہ کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 362 کے تحت نچلی عدالت خود کا فیصلہ تبدیل کر نے کی مجاز نہیں ہے کیونکہ گذشتہ برس دسمبر میں اسی عدالت کے جج ایس ڈی ٹیکولے نے یہ فیصلہ صادر کیا تھا کہ ملزمین کے خلاف یو اے پی اے قانون کی دفعات 16 اور 18 کا اطلاق ہوگا اور فرد جرم اسی کے مطابق عائد کی جائے گی ۔ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کرنل پروہیت و دیگر نے نچلی عدا لت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے ان کی عرضداشتیں یہ کہتے ہوئے خارج کردی تھی کہ یو اے پی ا ے قانون کے اطلاق کا فیصلہ نچلی عدالت کریگی حالانکہ نچلی عدالت پہلے اس کا فیصلہ کرچکی ہے لہذا اب سی آر پی سی کی دفعہ 362 کے تحت یہ عدالت فیصلہ تبدیل نہیں کرسکتی ہے اور ملزمین پر یو اے پی اے قانون کے تحت ہی مقدمہ چلنا چاہئے۔ایڈوکیٹ شریف شیخ نے کرنل پروہیت کی جانب سے اٹھائے جانے وا لے سوالا ت پر جوا ب دیتے ہوئے عدالت کو بتا یا کہ ملزمین جس خصوصی اجازت نامہ ٰ( سینکشن) میں جس خامی کا فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں انہیں اس کا فائدہ نہیں ملنا چاہئے کیونکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں نے متعدد فیصلوں میں اس بات کا اشا رہ دیا ہے کہ سینکشن میں موجود خامیوں کا فیصلہ عدالت کو ٹرائل کے اختتام کے بعد ہی کرنا چا ہئے اور اس کا فائدہ ملزمین کو دوران ٹرائل نہیں ملنا چاہئے۔ واضح رہے بھگواء ملزمین کا یہ کہنا ہیکہ این آئی اے نے اس مقدمہ پر جو یو اے پی اے قانون کا اطلاق کیا ہے وہ غیر قانونی ہے کیونکہ یو اے پی اے قانون کے اطلاق کے لیئے حکومت سے حاصل کی جانی والی خصوصی اجازت جسے لیگل ٹرم میں سینکشن کہتے ہیں نا قص ہے لہذا فرد جرم (چارج فریم) کرنے سے قبل اس ایشو کو حل کیا جانا چاہئے ۔دوران بحث خصوصی عدالت میں جمعیۃعلماء کی جانب سے ایڈوکیٹ شاہد ندیم،ایڈوکیٹ افضل نواز، ایڈو کیٹ ابھیشک پانڈے، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ، ایڈوکیٹ دھارا مہتا و دیگر موجود تھے۔ آج کی عدالتی کارروائی کے اختتام کے بعد متاثر ین کو قانونی امداد فراہم کر نے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ مالیگائوں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملے کا سامنا کرنے والے ملزمین مقد مہ کی سماعت شروع نہیں ہونا دینا چاہتے اور اسی لیئے وہ روزا نہ نت نئے ہتھکنڈ ے استعمال کر تے ہیں ، وہ کبھی ڈسچارج عرضداشت داخل کرد یتے ہیں تو کبھی یو اے پی اے قانون کو چیلنج کر کے عدا لت کا قیمتی وقت ضائع کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج متاثرین کی جانب سے ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت میں مدلل بحث کی ہے اور انہیں امید ہیکہ خصوصی این آئی اے عدالت قانون کی روشنی میں فیصلہ صادر کریگی تاکہ ان بم دھماکوں کے متاثرین کو انصاف مل سکے۔

About the author

Taasir Newspaper