بہار کے مطالبات پر ہمدردی کے ساتھ غور کیاجائے گا : این کے سنگھ

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 02-October-2018

پٹنہ،( مشتاق احمد ) 15 ویں مالیاتی کمیشن کے چیئرمین این کے سنگھ نے کہاہے کہ وسائل کی تقسیم کے معاملے میں بہار کے مطالبات پر پوری ہمدردی کے ساتھ غوروخوض کیا جائے گا۔این کے سنگھ نے یہاں ایشیائی ڈیولپمنٹ ریسرچ انسٹی چیوٹ ( اے ڈی آر آئی )کی جانب سے ” بین ریاستی اور بین اضلاع عدم مساوات پر منعقد سمینار کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 15 ویں مالیاتی کمیشن بہار کے مسائل اور حالات پر ہمدردانہ ومشفقانہ غور وخوض کرنے کے بعد ہی مرکز کو اپنی سفارشات پیش کرے گا۔بہار کونظر انداز کرنے یا اس کے ساتھ غیر ہمدردانہ رویہ اختیار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے بہار قانون ساز اسمبلی کے چیئر مین وجے کمار چودھری کے بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے پر کہاکہ جب وہ خود بہار منصوبہ کونسل میں اور راجیہ سبھا کے رکن تھے تب اس وقت ان کے بھی اسی طرح کے خیالات تھے، ان کے خیال میں ابھی بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے لیکن ان کی صلاحیت میں ضرور تبدیلی آئی ہے ۔کمیشن کے چیئر مین نے کہاکہپہلی مالیاتی کمیشن کی تشکیل سال1952 میں ہوئی تھی اور اسے سول کورٹ کے اختیار ات دیئے گئے تھے تاکہ ریاستیں اپنے مطالبات مالیاتی کمیشن کے سامنے رکھ سکیں۔ مالیاتی کمیشن کو پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے کیونکہ وسائل تو وہی ہیں اور ریاست کے مطالبات کو بھی پورا کرنا ہے ۔انہوں نے کہاکہ نیپال سے نکلنے والی ندیوں کی وجہ سے بہار کو ہر سال سخت سیلاب کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتاہے لیکن جغرافیائی صورتحال کو بدلا نہیں جاسکتا ۔مسٹر سنگھ نے کہاکہ مالیاتی کمیشن نیتی آیوگ کے طریقہ کار پر تبصر ہ نہیں کر سکتا ۔ نیتی آیوگ ابھی دوسری شکل میں کام کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ منصوبہ کمیشن کے ختم ہوجانے کے بعد مالیاتی کمیشن مرکز کے مختلف منصوبوں پر ہورہے اخراجات کا بھی اندازہ لگارہاہے ۔کمیشن کے چیئرمین نے کہاکہ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اتنے سارے مرکزی اسپانسر پروگراموں کا چلنا اور ان پر رقم خرچ کئے جانے کی کیا ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مڈ ڈے میل منصوبہ کو نیشنل فوڈ پروٹیکشن قانون کے تحت لا یا گیا جبکہ منریگا کو قومی روزگار گارنٹی منصوبہ کے تحت لا یا گیا اور اب صحت حقوق کی بات ہورہی ہے ۔مسٹر سنگھ نے کہاکہ مالیاتی کمیشن بہتر کام کرنے والی ریاستوں کو ایوارڈ سے نوازے گا اور علاقائی عدم مساوات ختم کرنے کیلئے خصوصی امداد دے گی ۔ پچھلے مالیاتی کمیشن نے وسائل کی تقسیم میں فاریسٹ کوور کو بھی ایک پیمانہ بنایا تھا۔انہوںنے کہاکہ پندرہویں مالیاتی کمیشن فاریسٹ کوور کو ملنے والی ترجیحات میں تبدیلی کرے گا۔ پنچایتی راج اداروں کو ملنے والی رقوم پر بھی مالیاتی کمیشن غور کر ے گا۔ انہوںنے کہاکہ یہ کیسی ترقی ہورہی ہے کہ ودربھ اور مراٹھوارہ علاقوں میں قومی سطح سے بھی کم ترقی ہوئی ہے ۔اس موقع پر بہار قانون ساز اسمبلی کے چیئر مین وجے کمار چودھری نے کہاکہ پندرہویں مالیاتی کمیشن پہلا مالیاتی کمیشن ہو گا جو پلاننگ کمیشن کے ختم ہو جانے کے بعد اور اشیاءاور سروس ٹیکس ( جی ایس ٹی ) لاگو ہونے کے بعد اپنی سفارشات مرکزی حکومت کوپیش کرےگا۔ بہار علاقائی عدم مساوات کے مطالعہ کیلئے ایک آئیڈیل ریاست ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بہار کے مختلف اضلاع میں بھی ترقی میں کافی تفاوت ہے ۔مسٹر چودھری نے کہاکہ بہار میں خواتین اختیار کاری سمیت دیگر شعبوںمیں بہتر کام ہوئے ہیں اور پندرہویں مالیاتی کمیشن کو ریاست کی ان حصولیابیوںکیلئے ایوارڈ دینا چاہئے۔ بہار کی جغرافیائی صورتحال کو سمجھے بغیر ریاست کے ساتھ انصاف نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے کہاکہ جب شمال۔ مشرقی ریاستوں کو جغرافیائی ضابطوں کے مطابق خصوصی ریاست کا درجہ دیاجاسکتاہے تو بہار کو بھی یہ درجہ دیئے جانے پر غور وخوض کیاجانا چاہئے۔جھارکھنڈ کے فوڈ اور سپلائی کے وزیر سوریہ رائے نے کہاکہ ملک کا مشرقی علاقہ ہی صرف ایسا رہ گیا جس پر پورا دھیان نہیں دیا گیا ۔ مشرقی ریاستوں میں وسائل کا مکمل استعمال نہیں ہونے کی وجہ سے پسماندہ رگیا۔انہوں نے کہاکہ پسماندہ علاقہ گرانٹ فنڈ ملنے والی رقوم کا خرچ کیسے ہوا ، اس کا بھی مطالعہ کیاجانا چاہئے ۔ جب ریاستوں کے مختلف اضلاع میں نابرابر ی اتنی زیادہ ہے تو ایسے میں ریاستی منصوبہ محکمہ کیا کر رہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ مشرقی علاقوں کی ترقی کیلئے قومی سطح پر علاقائی نقطہ ¿ نظر سے کام ہونا چاہئے ۔مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مغربی بنگال حکومت سے کہا ہے کہ وہ روہنگیائی شہریوں کی شناخت کریں ، مرکزی حکومت میانمار حکومت سے سیاسی سطح پر بات چیت کے ذریعہ ان روہنگیائی شہریوں کو ڈی پورٹ کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے ۔شمال مشرقی ریاستوں کی زونل کونسل کی میٹنگ میں مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ریاستوں سے روہنگیائی شہریوں کی شناخت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ان کا بائیو میٹرک شناخت کی جائے اور اس کے بعد مرکزی حکومت کو رپورٹ پیش کریں ۔حکومت میانمار سے سیاسی بات چیت کے ذریعہ اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے گی ۔اس سے قبل راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ ہندوستان بھر میں موجود تمام روہنگیائای شہری غیر قانونی ہیں ۔ان میں سے کسی کو بھی رفیوجی کا درجہ حاص نہیں ہے ۔انہوں نے سیاسی جماعتوں سے کہا کہ اس مسئلے کو سیاسی نہ بنائیں ۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ روہنگیائی صرف شمال مشرقی ریاستوں میں موجود ہیں بلکہ یہ لوگ جنوبی ریاستوں تک پہنچ گئے ہیں ۔ریلوے پروٹیکشن پولس نے کل کیرالہ اتھارٹی کو متنبہ کیا تھا کہ کیرالہ میں بڑی تعداد میں رفیوجی پہنچ رہے ہیں ۔آر پی ایف نے 14ٹرینوں کی فہرست بھیجی تھی جس میں روہنگیائی گروپ کے کیرالہ پہنچنے کی امید ہے ۔چیف سیکورٹی کمشنر جنوب مشرقی ریلوے نے ریاستی ریلوے انتظامیہ سے کہا کہ اگر روہنگیائی پائے جاتے ہیں تو انہیں آر پی ایف کے حوالے کیا جائے ۔