دہلی

تخلیق کار کبھی نہیں مرتا، وہ مر کے بھی زندہ رہتا ہے ۔ پروفیسر شہپر رسول

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 01-October-2018

نئی دہلی – (یو این آئی) ایسی حرب جو لڑنے کے لئے نہیں بلکہ برائیوں کے خاتمے کے لئے پہلے اپنے اندرون اور پھر بیرون سے لڑی جائے در اصل حقیقی جنگ وہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ ملیہ اسلامیہ، شعبہء اردو کے سربراہ پروفیسر شہپر رسول نے یہاں منعقدہ خان جمیل مرحوم کے شعری مجموعہ ’جنگ یہ کتنی بڑی ہے‘ کی رسم اجرا کے موقع پر اپنے صدارتی خطبے میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک جینوین تخلیق کار اسی کی فصل کاٹنے کی کوشش کرتا ہے، اس کا مقصد لا متناہی ہوتا ہے، خان جمیل ایک بہترین شاعر تھے، جنھوں نے زندگی کے حقائق کو اپنی شاعری کے ذریعے بیان کرنے کی کوشش کی ہے، ان کے کلام میں نیا پن ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
اس موقع پر پروفیسر خالد محمود نے ایک تخلیق کار کے حوالے سے حساسیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حساسیت دو طرح کی ہوتی ہے ایک وہ جو صرف اپنے لئے ہو جب کہ دوسری قسم ان لوگوں کی ہوتی ہے جو دوسروں کے لئے بھی حساس ہوں، خان جمیل کا تعلق حساسیت کی دوسری قسم سے تھا۔ انھوں نے زندگی کی حقیقتوں کو اچھی طرح پہچان لیا تھا جس کا عکس ان کی شاعری میں بھی نظر آتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انسان کی زندگی ایک جنگ ہے جس سے وہ تا دمِ مرگ لڑتا رہتا ہے،خان جمیل نے اپنی شاعری میں اسی جنگ اور کشمکش کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔
پروفیسر کوثر مظہری نے کہا کہ خان جمیل کی شاعری معروضیت اور تسلسل کا پرتو ہے۔ انھوں نے جو کچھ بھی ادبی سرمایہ چھوڑا ہے وہ ایک شاہکار کا درجہ رکھتا ہے۔ ان کی باقی ماندہ تخلیقات کو بھی منظرِ عام پر لانا چاہئے تاکہ وہ ضائع نہ ہونے پائے۔ انھوں نے کہا کہ خان جمیل کی شاعری حقیقت اور سچائی کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے، ان کے اندر ایک پر اسرار شخص چھپا ہوا تھا، انھوں نے کہا کہ ان کے کلام میں وہ پراسراریت خوب دکھائی دیتی ہے۔
اس موقع پر خان جمیل کی صاحبزادی فرزانہ جمیل نے بھی انتہائی جذباتی اور رقت آمیز انداز میں اپنے والد سے متعلق احساسات و جذبات اور ان سے وابستہ یادیں بیان کیں، انھوں نے کہا کہ بیٹی ہونے کے ناطے انھوں نے اپنے والد کی زندگی کو بہت قریب سے دیکھا، ان کی زندگی میں جو بھی مصائب و آلام تھے وہ کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے، اس کا اثر ان کی تخلیق میں بھی نظر آتا ہے۔
کاروانِ اردو قطر کے صدر عتیق انظر نے بھی ان کی شاعری کے حوالے سے گفتگو کی جس میں انھوں نے شاعری کی خوبی بتاتے ہوئے کہا کہ اس میں لفظ ضائع نہیں ہوتے اور ایک کامیاب تخلیق کار کی یہ نشانی ہوتی ہے کہ وہ اسے خوش اسلوبی سے برتے خان جمیل کے یہاں یہ خصوصیت خوب پائی جاتی ہے، ان کے کلام کے ہر لفظ میں شعریت ہے۔
تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر خالد مبشر اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو نے انجام دیتے ہوئے بطور خراج عقیدت خان جمیل کا منتخب کلام بھی پیش کیا۔

About the author

Taasir Newspaper