جسٹس گوگوئی بنے چیف جسٹس آف انڈیا ،کہا؛مفاد عامہ کاغلط استعمال نہیں

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 04-October-2018

نئی دہلی، (یو این آئی) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج رنجن گوگوئی نے ملک کے 46ویں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی ) کے طورپر آج حلف لیا۔صدر رامناتھ کووند نے راشٹرپتی بھون کے تاریخی دربار ہال میں کئی معزز شخصیات کی موجودگی میں انہیں سی جے آئی کے عہدہ کا حلف دلایا۔ وہ جج دیپک مشرا کی جگہ لیں گے جو بدھ کو ریٹائر ہوئے ہیں۔جسٹس گوگوئی کی مدت کار 13مہینہ سے تھوڑی زیادہ ہوگی اور وہ آئندہ برس 17نومبر کو ریٹائر ہوں گے۔حلف برداری کی تقریب میں پر وزیراعظم نریندر مودی، سابق وزیراعظم منموہن سنگھ ، ایچ ڈی دیوے گوڑا، لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن، وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ، وزیرخارجہ سشما سوراج، وزیر خزانہ ارون جیٹلی، ریلوے کے وزیر پیوش گوئل، قانون و انصاف کے وزیر روی شنکر پرساد، سائنس و تکنالوجی کے وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن، سماجی انصاف اور اختیارات کے وزیر تھاورچند گہلوت، فوڈ پروسیسنگ صنعت کی وزیر ہرسمرت کوربادل، وزیراعظم دفتر میں وزیرمملکت جتیندر سنگھ، انسانی وسائل کو فروغ کے وزیر پرکاش جاوڈیکر، سپریم کورٹ اور دہلی ہائی کورٹ کے کئی جج اور اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال موجود تھے۔لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے او رراجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد بھی تقریب میں موجود تھے۔حلف لینے کے بعد جج گوگوئی نے اپنی والدہ شانتی گوگوئی کے پیر چھوکر آشیرواد لیا۔18نومبر 1954کو پیدا ہوئے جج گوگوئی نے 1978میں وکالت پیشہ کی شروعات کی تھی۔ انہوں نے گوہاٹی ہائی کورٹ میں آئینی، کارادھان اور کمپنی امور میں وکالت کی۔انہیں 28فروری، 2001کو گوہاٹی ہائی کورٹ کا مستقل جج مقرر کیا گیا تھا۔ 9ستمبر 2010کو ان کا تبادلہ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں ہوگیا۔ انہیں 12 فروری، 2011کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔ انہیں عہدے میں ترقی دیکر 23اپریل 2012کوسپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔جج مشرا نے چیف جسٹس کے بعد سینئر ترین جج کے نام کی سفارش کرنے کی روایت کے مطابق گزشتہ مہینہ کے شروع میں ہی جج گوگوئی کے نام کی سفارش اپنے جانشین کے طورپر کی تھی۔نئے چیف جسٹس رنجن گو گوئی نے آج کام سنبھالتے ہی واضح کر دیا کہ ہر چیز کے لئے دائر مفاد عامہ کی عرضی سپریم کورٹ میں منطور نہیں کی جائے گی۔ انہوںنے کہا کہ کیا کورٹ ہر چیز کی مانیٹرنگ کر سکتی ہے۔ آج چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ میں جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس کے ایم جوزف شامل تھے۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے پہلے دن کی شروعات میں ہی منشن کرنے والے وکیل کو روکا۔ انہوںنے کہا کہ کوئی مینشننگ نہیں۔ ہم اس کے لئے پیرا میٹر طے کریں گے۔ آپ عرضی دائر کی جیے اور طے کارروائی سے لسٹ کی جائے گی۔چیف جسٹس کے سامنے جب وکیل پرشانت بھوشن نے مینشن کرتے ہوئے کہا کہ کچھ روہنگیا مسلمانوں کو جبراً واپس بھیجا جا رہ اہے تب چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عرضی دائر کی جئے یہ لسٹ کی جائے گی۔