حلیف پارٹیاں چاہیں گی تو وزیر اعظم بننے کو تیار: راہل

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 06-October-2018

نئی دہلی، (یو این آئی) کانگریس صدر راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ملک کی 1.3ارب آبادی پر ایک ‘گھٹن بھری آڈیالوجی تھوپنا چاہتی ہے اس لئے اپوزیشن جماعتوں نے اسے اقتدار سے باہر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ خود ملک کا وزیر اعظم بننے کے لئے تیار ہیں۔مسٹر گاندھی نے جمعہ کو یہاں سولہویں ہندوستان ٹائمس لیڈرشپ سمٹ میں اہم صنعت کاروں، سفارت کاروں، سیاست دانوں اورمختلف شعبوں کے ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد کی حلیف جماعتیں انہیں وزیر اعظم بنانا چاہئیں گی تو وہ یہ ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔کانفرنس کے دوران سوال جواب کے سیشن میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ کانگریس اقتدارمیں آتی ہے تو کیا وہ وزیر اعظم بنیں گے ، مسٹر گاندھی نے کہا کہ اتحاد کی حلیف جماعتیں اگر یہ ذمہ داری سونپیں گی تو وہ ذمہ داری سنبھالنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے2019کے لوک سبھا الیکشن میں پہلے متحد ہوکر بی جے پی کو شکست دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے بعد ہی وزیر اعظم کے عہدہ کے بارے میں غور کیا جائے گا۔کانگریس صدر نے اس دوران بی جے پی حکومت پر سخت حملے کئے اور الزام لگایا کہ وہ ملک کی 1.3 ارب کی آبادی پر ‘گھٹن بھری آڈیالوجی تھوپ رہی ہے ۔ اقتدار کے نشے میں چور ان لوگوں کا دعوی ہے کہ علم پر ان کی ہی اجارہ داری ہے ۔ وہ لوگوں کی بات سننے کو بالکل تیار نہیں ہیں۔بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ اتحاد پر مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ لوک سبھا الیکشن کے لئے بی ایس پی قومی سطح پر اپوزیشن اتحاد کا حصہ ہوگی۔ مسٹر گاندھی نے دعوی کیا کہ اتحاد کے بغیر کانگریس مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اورراجستھان میں اسمبلی الیکشن جیتے گی۔انہوں نے کہا کہ ریاستوں اور مرکز میں الگ الگ حالات ہوتے ہیں۔ اس لئے اتحاد بھی حالات کے مطابق الگ الگ ہوتے ہیں۔ اس کے کئی اسباب ہوتے ہیں اور بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے یہ اشارہ دیا بھی ہے۔ انہوں نے حالانکہ یہ بھی کہا کہ اگر مدھیہ پردیش میں بی ایس پی کا کانگریس کے ساتھ اتحاد ہوتا ہے تو اس کے نتائج اچھے ہوں گے۔مسٹر گاندھی نے مکالمہ کو جمہوریت کے لئے ضروری بتایا اور کہا کہ ہندوستان میں مکالمہ کی اہمیت ہے او رہمارے یہاں مکالمہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک کی حکومت کا عوام سے مکالمہ نہیں ہے تو اس حکومت کا کوئی مطلب نہیں ہے۔کانگریس صدر نے کہا ہندوستان میں سب سے باہمی مکالمہ ہوتا ہے۔ ہم دوہرے پیمانے پر یقین نہیں رکھتے ۔ ہمیں ایسے ہندوستان کا تصور کرنا ہے جہاں کسی طر ح کا کوئی خوف نہ ہو۔نوٹ بندی کے بارے میں انہوں نے حکومت پر حملہ کیا اور کہا کہ یہ ایک مضحکہ خیز فیصلہ تھا۔ انہوں نے آدھار کے بارے میں بھی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا اور کہا کہ یہ زندگی کو بہتر اور سہل بنانے کی کوشش تھی لیکن اس کے ذریعہ لوگوں پر نگاہ رکھی جارہی ہے۔