Uncategorized

رافیل معاملے میں راہل نے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا

Profile photo of Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 12-October-2018

نئی دہلی، (یواین آئی) کانگریس صدر راہل گاندھی نے رافیل لڑاکا طیارے سودے کے معاملہ پر وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ ملک کے وزیر اعظم بدعنوان ہیں اور وہ دفاعی سودے میں ہونے والی بدعنوانی میں سیدھے طور پر ملوث ہیں لہذا انہیں استعفی دےدینا چاہئے۔مسٹر گاندھی نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقد پریس کانفرنس میں کہا رافیل خریداری میں بڑا کرپشن ہوا ہے۔ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی سے اس کی جانچ کرائی جانی چاہئے۔ تحقیقات سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اس میں وزیر اعظم نے سیدھے سیدھے بدعنوانی کی ہے اور ان کی بھی جانچ ہونی چاہئے۔کانگریس صدر نے کہا کہ رافیل خریداری میں جس طرح سے پبلک سیکٹر کی کمپنی ایچ اے ایل سے ٹھیکہ چھین کر کر صنعتکار انیل امبانی کی کمپنی کو یہ کام دیا گیا ہے اس سے صاف ہے کہ خود کو ملک کا چوکیدار بتانے والے مسٹر مودی انل امبانی کے چوکیدار ہیں ۔ یہ براہ راست بدعنوانی کا معاملہ ہے اور مسٹر مودی نے یہ کرپشن کیا ہے لہذا انہیں اس بارے میں جواب دینا چاہیے یا پھر وہ استعفی دیں۔مسٹر گاندھی نے کہا کہ رافیل سودے میں ہونے والی بدعنوانی میں وزیراعظم شامل ہیں۔ اس بات کی شواہد فرانس سے مل رہے ہیں۔ پہلے فرانس کے سابق صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ انل امبانی کی کمپنی کو کام دینے کے لئے ہندوستانی حکومت نے کہا تھا اور اب رافیل طیارے بنانے والی کمپنی بھی یہی بات کہہ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ رافیل طیارہ ساز فرانسیسی کمپنی ڈیسالٹ کے اندرونی دستاویزات اس کی وضاحت ہے کہ ہندوستان کی جانب سے رافیل کا کام ایچ اے ایل سے ہٹاکر ریلائنس کو دینے کے لئے کہا گیا تھا۔ ڈیسالٹ کے ایک سینئر افسر نے اسی بنیاد پر وضاحت کی ہے کہ ریلائنس کو کام دینے کے لئے حکومت ہند کے ایک سینئر افسر نے کہا تھا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ آج ملک کا اہم مسئلہ بدعنوانی ہے لیکن وزیراعظم اس پر کچھ نہیں بول رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ملک کے نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان کے وزیراعظم بدعنوان ہیں، ملک کے نوجوان روزگار کی تلاش میں ہیں اور ہندوستان کے وزیراعظم انل امبانی کی چوکیداری کررہے ہیں۔ انل امبانی 45000 کروڑ روپے کے قرض دار ہیں۔ رافیل سودا طے پانے سے 10 دن قبل انہوں نے کمپنی کھولی اور وزیراعظم نے ہندوستان کے عوام اور فضائیہ کے 30 ہزار کروڑ روپے انل امبانی کی جیب میں ڈال دیئے ہیں ۔مسٹر گاندھی نے کہا کہ رافیل معاملے میں بدعنوانی ہوئی ہے ، یہ بدعنوانی وزیراعظم نے کی ہے اور یہ بات اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ مسٹر مودی کو اس بارے میں جواب دینا چاہیے۔ اگر وزیراعظم اس معاملے پر جواب نہیں دے پا رہے ہیں تو انہیں استعفی دے دینا چاہیے۔کانگریس صدر نے کہا وزیر دفاع نرملا سیتا رمن فرانس کے دورے پر جارہی ہیں۔ فرانسیسی کمپنی کے ساتھ رافیل سودے میں بدعنوانی سے متعلق ملک میں سوال اٹھائے جارہے ہیں اور اسی دوران ملک کی وزیر دفاع فرانس کے دورے پر جارہی ہیں،اس بات سے شبہ پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی وزیر دفاع فرانس جارہی ہیں۔ اس سے واضح پیغام اور کیا ہوسکتا ہے۔ وزیراعظم سے پورا ملک سوال پوچھ رہا ہے۔ کن فوری حالات کے سبب وہ فرانس جارہی ہیں۔ اس سے واضح صورتحال اور کیا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کو کسانوں کی بدحالی کی فکر نہیں ہے۔ ہندوستان کے کسان دبے کچلے ہوئے ہیں لیکن وزیراعظم انل امبانی کی چوکیداری کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرانس کے صدر ایمینل میکرو نے مجھ سے خاص طور پر کہا کہ منظور شدہ بنیاد پر رافیل کی قیمت نہیں لگائی گئی ہے۔ کمپنی کہتی ہے کہ معاوضہ مانگا گیا۔ لفظ دیکھئے معاوضہ۔ کس بات کی معاوضہ؟ وہاں کا افسر کہتا ہے کہ ہندوستانی وزیراعظم نے کہا ہے کہ %D

About the author

Profile photo of Taasir Newspaper

Taasir Newspaper

Skip to toolbar