رام مندر نہیں تو ہم ملک کے سامنے سیاسی متبادل پیش کریںگے:توگڑیا

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 08-October-2018

ناگپور،(ایجنسی):وشو ہندو پریشد چھوڑ کر نئی تنظیم بین الاقوامی ہندو پریش( اے ایچ پی) کا قیام کرنے والے ڈاکٹر پروین توگڑیا نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دباؤ میں آر ایس ایس کا کردار تبدیل کیا گیا ہے جبکہ پارلیمنٹ میں قانون بنا کر رام مندر کی تعمیر کرانا ہی آر ایس ایس کا پرانا کردار تھا۔ناگ پور میں ریشم باغ واقع مہاتما پھولے بھون میں منعقد پریس کانفرنس میں اتوار کو ڈاکٹر پروین توگڑیا نے رامندر کو لے کر پارلیمنٹ میں قانون بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ سرکار ایس سی ایس ٹی ایکٹ میں ترمیم کر سکتی ہے تو پھر رام مندر کیحق میں قانون بھی بنا سکتی ہے ۔ ملک کے ہندوؤں میں اب مندر کو لے کر بیداری پیدا کرنے کی ضرورت نہیںہے ۔ وقت ہے نیند میں سونے کا ناٹک کرنیو الے سرکار کو جگانے کا ۔ایودھیا میں مندر کی تعمیر کو لے کر اے ایچ پی نے آنے والے 21اکتوبر کو ایودھیا کوچ کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔ اگر ایودھیا میں مندر نہیں بنتا ہے تو اے ایچ پی ملک کے عوام کے سامنے سیاسی متبادل پیش کرے گی۔ ایسے میں اے ایچ پی کانگریس جیسی پارٹی کا ساتھ نہیں دیگی بلکہ چھتر پتی شواجی مہاراج کے بھگوے جھنڈے کے نیچے ہندوؤں کو متحدکر کے ہندو سرکار بنائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے اب کی بار ہندووںٔ کی سرکار کا نعرہ بھی دیا ۔ ساتھ ہی شیو سینا کا ناملئے بغیر اشاروں اشاروں میں ادھوٹھاکرے کی مجوزہ ایودھیا یاترا کی بھی تعریف کی ۔پریس کانفرنس میں ڈاکٹر توگڑیا نے یہ بھی کہا کہ نریندرمودی سے ان کی کوئی ذاتی رنجش نہیں ہے ۔ وہ صرف رام مندر کے حق میں ہیں۔ مودی نہیں چاہتے تھے کہ وشو ہندو پریشد رام مندر کے مسئلے کو پر زور طریقے سے اٹھائے۔ اسی کے سبب مودی اور توگڑیا کے درمیان اختلافات ہوئے جس کے بعد ستمبر 2017میں بھوپال میں آر ایسایس کی جانب سے دباؤ بنایا گیا کہ کورٹ رام مندر کے مسئلے پر حل تلاش کرنے کو لے کر وشوہندو پریشد سنجیدہ ہو جائے لیکن رام کو اہمیت دیتے ہوئے توگڑیا نے وشو ہندو پریشد کو خیر باد کہہ دیا ور بین الاقوامی وشو ہندو پریشد کا قیام کیا۔