سر سید احمد خاں نے اپنی خدمات سے پورے برصغیر کو متاثر کیا:ڈاکٹر بد رالدجیٰ خان

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 15-October-2018

علی گڑھ، (پریس ریلیز)اگر سر سید احمد خاں نے مدرسۃ العلوم قائم نہ کیا ہوتا تو بر صغیر کے مسلمانوں پر اس کے کیا اثرات ہوتے؟، یہی وہ سوال اور ذہن میں آنے والے ممکنہ متعدد جوابات ہیں جن کی وجہ سے کسی بھی قیمت پر سر سید احمد خاں اور ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔سر سید احمد خاں کی پیدائش 17اکتوبر 1817 کو ہوئی تھی ،اس لحاظ سے سر سید احمد خاں کی پیدائش کو آئندہ 17اکتوبر2018کو دوسو برس پورے ہوجائیں گے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اپنے بانی کے یوم پیدائش کے دو صد سال پورے ہونے پر اہم تقریبات کا اہتمام کر رہی ہے اور سر سید کے شایان شان ان کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہے۔سر سید احمدخاں نے 1875میں مدرسۃ العلوم قائم کیا جو 1877میں کالج میں تبدیل ہوا اور 1920میں اس کو یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا۔ سر سید احمد خاں نے یہ مدرسہ صرف مسلمانوں کی تعلیم کیلئے نہیں قائم کیا تھا بلکہ ملک و قوم کی فلاح و بہبود کیلئے قائم کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ حقوق جو ہندستانی، انگریزوں سے نہیں حاصل کر پا رہے ہیں تعلیم کی بدولت مل جائیں گے اور یہی ہوا بھی۔ آج بھی پوری دنیا میں پھیلے ہوئے علیگ اس بات کی نشانی ہیں کہ سرسید احمد خاں نے اس قوم کا اقبال بلند کیا اور ان کو عصری تقاضوں کے تحت ڈھالنے میں سب سے نمایاں کردار ادا کیا۔آج بھی کوئی ایسا ملک نہیں ہوگا جہاں سر سید احمد خاں کے یوم پیدائش پر تقریبات کا اہتمام نہ ہو رہا ہو۔یونیورسٹی نے یوں تو سال گذشتہ سے سر سید احمد خاں کی دو صد سالہ تقر یبات کا اہتمام کر رکھا ہے جس کے تحت سیمنار، مذاکرے اور دیگر پروگراموں کا اہتمام ہوا اور اس موقع پر متعدد کتابیں شائع کی گئیںجن کا تعلق سر سید احمد خاں کی حیات و خدمات اور ان کے افکار سے ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبا کے قیام کیلئے ایک ہال ہے جو سر سید احمد خاں کے نام سے موسوم ہے ۔سر سید ہال دو حصوں سر سید ہال (جنوبی)سر سید ہال(شمالی )میں منقسم ہے۔اسی ہال کے مغربی کنارے پر جامع مسجد واقع ہے جس کے صحن کے کنارے ایک حصے میں سر سید احمد خاں آسودۂ خاک ہیں۔یہ دونوں ہال سب سے قدیم اور قومی ورثے کے حامل ہیں مگر چونکہ سر سید ہال (جنوبی )میں صدر دروازہ وکٹوریہ گیٹ اور تاریخی اسٹریچی ہال ہے اس لئے یہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔اسٹریچی ہال وہی ہال جس کی تعمیر خود سر سید احمد خاں نے کرائی تھی ۔اسٹر یچی ہال کے ساتھ ہی اس پورے ہال کی عمارت سر سید احمد خاں کے وِژن کا منھ بولتا ہوا ثبوت ہے۔سر سید ہال (جنوبی )کو ہر معاملے میں یونیور سٹی میں مرکزیت حاصل ہے ۔یہاں بھی سر سید احمد خاں کی دو صدسالہ تقریبات کے سلسلہ میں 17؍اکتوبر کو اہم پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔اس ہال میں ایک ہزار سے زائد طلبا مقیم ہیں۔ سر سید ہال (جنوبی) کے پرووسٹ ڈاکٹر بدرالدجیٰ خان نے بتایا کہ بانی درسگاہ سر سید احمد خاں کے دو صد سالہ یوم پیدائش پر اہم تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے ،جس کی تیاریاں بہت پہلے سے کی جا رہی ہیں،انہوں نے بتایا کہ ہال کی تجدید کاری کا کام اسی کے پیش نظر کرایا گیا ہے اسی طرح اس ہال کی خوبصورتی میں اضافہ کیلئے یہاں ایک خطیر رقم سے فوارہ نصب کیا گیا ہے۔ہزار دشواریو ں کے باوجود ہم طلبا کے قیام و طعام کے ساتھ ہی بہتر تعلیمی ماحول کا نظم کرتے ہیں ،اس سلسلے میں حال ہی میں زر کثیر خرچ کرکے دارالمطالعہ کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا ہے تاکہ سر سید احمد خاں کے خوا ب کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں ہم اپنا چھوٹا سا کردار ادا کر سکیں ۔انہوں نے بتایا کہ اسٹریچی ہال کے سامنے ان تقر یبات کا اہتمام کیا جائیگا جن میں طلبا کے ساتھ ہی کثیر تعداد میں سابق طلبہ کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ڈاکٹر بدر الدجی خان نے کہا کہ بانی درسگاہ سر سید احمد خاں شخصیت ایسی ہے کہ اس پر جتنا بھی لکھا جائے کم ہے ۔مسلمانان ہند ہی نہیں بلکہ بر صغیر اور اگر میں یہ کہوں کہ سر سید نے اپنی خدمات جلیلہ سے پور دنیا کو متاثر کیا ہے تو مبالغہ نہ ہوگاکیونکہ علی گڑھ تحریک کے نتیجے میںجو انقلابات رونما ہوئے اس نے زما ن و مکان سے ما ورا ہو کر سب کو متاثر کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم ممنون قوم ہیں جو اپنے بزرگوں کو یاد رکھتے ہیں ،ان کی خدمات کو ہم فراموش نہیں کر تے بلکہ اسی کی روشنی میں ہم اپنی زندگی کا سفر کرتے ہیں کیو نکہ کامیابی بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے اور ان کی تعلیمات کو سینے سے لگانے میں ہے اسی لئے ہم نے دو صد سالہ تقر یبات کیلئےکچھ خاص تیار یا ں کر رکھی ہیں تاکہ سر سید احمد خاں کو ان کی شایان شان خرا ج عقیدت پیش کیا جا سکے۔