سگولی کے سابق رکن اسمبلی اعجازالحق کاانتقال،نمازجنازہ آج،وزیراعلی نے فون پرکی تعزیت

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 17-October-2018

سگولی؍موتیہاری،(محمد اکرام)ضلع کے سگولی حلقہ کے سابق رکن اسمبلی ،سابق صوبائی ۲۰نکاتی بہارسرکار کے نائب سکریڑی اعجازالحق زندگی کے ۱۰۲سال بہاردیکھنے کے بعدمالک حقیقی سے جاملے۔ان کی موت کی خبرضلع میں آگ کی طرح پھیل گئی جس سے سماجی کارکن اورسیکولرطبقہ مین غم کی لہرڈورگئی اورسبھی طبقہ کی جانب سے تعزیتی پیغام موصول ہونے لگے۔نمازجنازہ آج قریب دس بجے انکے آبائی گائوں جٹوا،تھانہ بنجریامیں اداکرہزاروں نم آنکھوں کے ساتھ سپردخاک کیاجائے گا۔ملی جانکاری کے مطابق ۱۹۷۲میں سگولی حلقہ سے سوشلسٹ پارٹی کی ٹکٹ سے انتخابی میں اترے اورتاریخی جیت درج کرحلقہ میں ترقی کورفتاردی۔انہوںنے مختلف میدانوں میں کام کرضلع کے اندرکم ہی وقت میں لوگوں کے درمیان اپنی پکڑبنائی ساتھ ہی بنجریاکوبلاک بنانے میں سمیت جٹواگھاٹ کی تعمیرمیں انکاکلیدی رول رہاہے۔اس بابت مزیدجانکاری دیتے ہوئے ان لڑکے امیرالہدی نے نمائندے کوبتایاکہ انکی پیدائش بنجریاتھانہ حلقہ کے جٹواگائوں میں ۱۹۱۶ میں ہوئی۔انہوں نے ابتدائی تعلیم گائوں کے ہی اسکول میں حاصل کی اوراعلی تعلیم مخلص پورہائی اسکول،بنجریاسے حاصل کی۔۱۹۹۲میں بگہالوک سبھاحلقہ سے ایم پی کاانتخاب سوشلٹ پارٹی کی ٹکٹ پرلڑے،۱۹۷۲میں سگولی حلقہ سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے،۱۹۵۴میں اپنے والدمحترم غنی محمدکے نام پرمڈل اسکول جٹوابنواکریہاں کے بچے اوربچیوں کوتعلیم کی طرف راغب کرنے کاکام کے ساتھ ہی انہوںنے دیگرفلاحی وتعلیم میدان میں کام کرلوگوں کے پسندبنے رہے ساتھ ہی وہ چمپارن میں ھندومسلم اتحادکے لئے جانے جاتے تھے۔انکی موت کی خبرپروزیراعلی نتیش کمارنے انکے لڑکے امیرالہدی سے فون پربات کرتعزیت کی اورجلدہی تہوارکے بعدجٹواآنے کی یقین دلائی۔شانہوںنے اپنے پیچھے چھ لڑکے نورالہدی، ظہرالہدی، پروفیسر شفیرالہدی، ظفیرالہدی، امیرالہدی اورقمرالہدی کے نام شامل ہیں۔تعزیت کرنے والوں میں نرکٹیاں رکن اسمبلی ڈاکڑشمیم احمد،ڈھاکہ رکن اسمبلی فیصل رحمن،صحافی حامدرضا،شفیع احمد،سندیپ کوشل سمیت دیگرلوگ کے اسماء شامل ہیں۔