ریاست

شعبۂ قانون کے طلباء کی حوصلہ افزائی مشترکہ قومی و ملی ذمہ داری

Profile photo of Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 11-October-2018

علی گڑھ (پریس ریلیز)تعلیمی وظیفہ کے زیادہ تر میڈیکل اور انجینئرنگ کے طلباء ہی حقدار سمجھے جا تے ہیں حالانکہ اور بھی شعبے ہیں جہاں ہمیں طلباء کی اخلاقی و مالی معاونت کرنی چاہئے۔ اس ضمن میں اگر توجہ نہیں ہوئی ہے تو اس کے اسباب پر ایک طویل و گرما گرم مذاکرہ درکار ہے تاکہ فلاحی اداروں کو احساس دلایا جا سکے کہ علم و عمل کے اور بھی اہم شعبے ہیں جن میں ملت کی نمائند گی کی شرح کم ہونے کی وجہ سے بحیثیت مجموعی کافی نقصان ہو ریا ہے۔ مذکورہ باتوں کی طرف امان اللہ خان نے توجہ مرکوز کراتے ہوئے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر فعال فلاحی اداروں سے اس بے حد اہم پہلو پر متوجہ ہونے کی درخوا ست کی اور کہا کہ بندھے ٹکے انداز سے اوپر اٹھ کر کام کرنا موجودہ وقت میں انتہائی ضروری ہے اور اس جانب سے مزید بے اعتنائی ہمارے حق میں بہتر نتائج کی نوید نہیں بن سکتی ہے۔ اس لئے ایک ناگزیر ملی ذمہ داری ہے کہ ہم شعبۂ قانون کے طلباء کی ہر اعتبار سے حوصلہ افزائی کریں۔مسلم ایجوکیشنل ٹرسٹ نئی دہلی گذشتہ تین دہائیوں سے ہندوستان میں حصولِ علم کے خواہشمند مستحق باصلاحیت ہونہار طلباء کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے کیلئے ایک مختص رقم وظیفہ کے طور پر دیتی ہے۔ مسلم ایجوکیشنل ٹرسٹ اسکالر شپ کا یہ پروگرام ملک میں ۱۹۸۳ سے تسلسل کے ساتھ امان اللہ خان کی نگرانی میں چل رہا ہے۔ طلباء کی سہولت کی خاطر امان اللہ خان نے اس کام کو مختلف زون میں تقسیم کر رکھا ہے اور ہر زون کے صوبوں میں ایک آنریری اسٹوڈ ینٹس کائونسلر ہوتا ہے جو اپنے صوبے کے طلبا کی دیکھ ریکھ کرتا ہے ۔ اس وظیفہ کی فراہمی کا اولین و اہم ترین مقصد طلباء میں ملی ہمدردی کا احساس جاگزیں کرنا اور اس عزم مصمم سے ہمکنار کرنا ہے کہ وہ بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوکر ملت کے سرکردہ افراد کی قطار میں نمایاں مقام حاصل کریں اسی مقصد سے اس اسکالر شپ کو حاصل کرنے والے طلباء کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کیلئے مختلف النوع پرو گرام ملک کے مختلف صوبوں میں منعقد کئے جاتے ہیں جس میں ملک کے نامور دانشوران اور عظیم مفکرین اپنے خطا ب سے نوازتے ہیں تاکہ طلباء اپنے اندر تعلیم حاصل کرنے کا جوش و جذبہ پیدا کریں۔ اس اسکا لرشپ پروگرام کے تحت میڈ یکل سائنسیز اور انجینئرنگ سائنسیزکے طلباء کو گذشتہ پینتیس سالوں سے وظیفہ دیا جا رہا ہے۔ اس پرگرام کو توسیع دیتے ہوئے مسلم ایجوکیشنل ٹرسٹ نے دو سال قبل قانون ، منیجمنٹ اور جرنلزم کے طلباء کو بھی اسکالر شپ دینا شروع کر دیا ہے اور اسے مزید توسیع دینے کا پروگرام ہے ۔ اسی سلسلے میں مورخہ ۹؍اکتوبر کو شعبۂ قانو ن ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک نشست پروفیسر جاوید طالب چیرمین شعبۂ قانون کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں مہمانِ خصو صی کی حیثیت سے امان اللہ خان، چیرمین مسلم ایجو کیشنل ٹرسٹ، نئی دہلی نے شرکت کی ۔ اسکالر شپ پروگرام انچارج انیس احمد بھی شریک ہوئے۔ پروفیسر جاوید طالب نے مہمانِ خصو صی کا استقبال کرتے ہوئے اُن کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی کوششوں کی بدولت شعبۂ قانون کے مستحق اور ہونہار طلباء کو اسکالر شپ کیلئے منتخب کیا جانے لگا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ قانون ایسا موضوع ہے جس کی زندگی کے ہر شعبے میں ضرور ت ہوتی ہے۔ ہماری سماجی زندگی ہو یا عائلی زندگی، خانگی زندگی کے مسائل ہوں یا بیرونی معاملات سبھی جگہ پر اگرقا نون کی رہنمائی نہ ہو تو زندگی اجیرن ہو جاتی ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے باصلاحیت ذہین طلبا کو قانون کی تعلیم دلائیں کیوں کہ اگر ہمارا قانون مضبوط ہوگا تو ہم زندگی کے ہر شعبے میں مضبوط ہوں گے۔ مسلم ایجوکیشنل ٹرسٹ کی حوصلہ افزائی سے ہمیں امید ہے کہ اس شعبہ کے ذہین و باصلاحیت طلباء قانون کے شعبے میں مزید ترقی کر کے ملک و ملت کا نام روشن کریں گے۔امان اللہ خان نے فرمایا کہ مسلم ایجوکیشنل ٹرسٹ کے تحت گذشتہ پینتیس سالو ں میں دس ہزار سے زائد طلباء کو وظائف دئے جا چکے ہیں ۔ اس اسکالر شپ کا مقصد ایسے طلباء کو اوپر اٹھاناہے جو صلا حیت کے باوجود معاشی پریشا نیو ں کی وجہ سے یکسوئی کے ساتھ اپنی پڑھائی کو جاری رکھنے میں دقّت محسوس کرتے ہیں۔انیس احمد نے پروفیسر جاوید طا لب اور امان اللہ خان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے شعبۂ قانون کے طلبا کو اس اسکالر شپ سے مستفید ہونے کا موقع دیا۔پروفیسر ظہیر الدین ،ڈین فیکلٹی آف لا نے وظیفہ پانے والے طلبا ء سے کہا کہ وہ اس رقم کا استعمال اپنی فی کی ادائیگی اور کتابوں پر کریں ۔پروگرام کے اخیر میں امان اللہ خان، پروفیسر جاوید طالب اور پروفیسر ظہیر الدین نے طلبا ء کے درمیان چیک تقسیم کئے۔اس موقع پر شعبہ کے اساتذہ اور وظیفہ پانے والے طلباء و طالبات کے علاوہ اس شعبہ کے متعدد طلباء موجود تھے۔

About the author

Profile photo of Taasir Newspaper

Taasir Newspaper

Skip to toolbar