فن فنکار

مجروح سلطانپوری نے زندگی اور معاشرہ میں برسوں مجاہدہ کیا جس کا عکس شاعری میں نظر آتا ہے

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 01-October-2018

ممبئی – (یواین آئی)مجروح سلطانپوری کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں،ترقی پسندتحریک سے وابستگی ایک شاعراور فلمی نغمہ نگارکی حیثیت سے کیا گیا ان کی صدسالہ سالگرہ کا آغاز ہوچکا ہے اور اس سلسلہ میں تقریب میں کہا گیا کہ مجروح سطانپوری کو زندگی میں اور معاشرے میں برسوں مجاہدہ کرنے کے نتیجے میں ایک اچھا شاعربنادیا اور وہ کامیابی سے ہمکنار ہوئے ۔اس کا اظہار ممبئی یونیورسٹی میں مجروح سلطانپوری :حیات وکمالات کے عنوان سے ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔اس موقع پر مرکزی وز یر سریش پربھو مہمان خصوصی تھے۔

سریش پربھو نے مجروح کی شاعری اور نغموں کا ذکر کیا اور کہا کہ ہم نے ان کی شاعری سنتے ہوئے ہی ہوش سنبھالا ہے ان کے نغمے ایسے ہیں جمہیں آسانی سے یاد کرلیا جاتا ہے اور فرواموش نہیں کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجروح سلطانپورمیں پیشے سے طبیب تھے ،اور اس سے چند لوگوں کو فائدہ پہنچتا ،لیکن قسمت نہیں مجروح صاحب کو شاعری کی دولت عطا ہوئی جس سے ہم جیسے روحانی مریضوں کا علاج ممکن ہوا۔

اس سے قبل فخر بحرین کے صدرشکیل صبر حدی نے مجروح کی شاعری کو پورے برصغیر کی شاعری قراردیا اور کہا کہ اردوکسی سے وابستہ نہیں ہے بلکہ اس خطہ کی زبان ہے اور اسکا دائرہ وسیع ہورہا ہے ۔یونیورسٹی کے وائس چانسلر سہاس پیڈنیکر نے کہا کہ جس طرح ان کے اشعار ماضی میں بھی اہمیت رکھتے تھے ،اسی طرح سے ان کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔

معروف وکیل اور مجروح سلطانپوری کے قربت رکھنے والے ایڈوکیٹ مجید میمن نے اس کا خصوصی ذکر کیا اور کہا کہ ان کے قریب رہ کر میں نے بہت کچھ سیکھا اور وہ میری زندگی کا ایک اہم باب ہے۔

انہوں نے موسیقار نوشاد اور مجروح صاحب کے گھروں پر جمنے والی محفلوں کا بھی ذکر کیا انہوں نے تین الگ الگ نسلوں کے ساتھ کام کیا اور اس کا تجربہ حاصل کیا جوکہ ان کے فن میں ہمیں نظرآتا ہے ۔شاعری اور نغمہ نگاری میں ان کا حصہ اتنا ہے کہ اس کے لیے کئی دفتر کھولے جاسکتے ہیں۔

اس قریب میں شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر میں کلیدی خطبہ دیا اور کہا کہ وہ ایک ایسے ستون ہیں ،جن کے بغیر اردوکی شاعری لکھی جاسکے گی اور نہ ہی شاعری پر بات کی جاسکے گی۔انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ اتفاقاً وجود میں نہیں آتے ہیں ،ان کے ساتھ ان کا مجاہد ہ اور جدوجہد ساتھ ہوتی ہیں۔مجروح نے غزل کا اس وقت دامن تھاما جب یہ صنف عدم دلچسپی کا شکار تھی اور انہوں نے اس میں جان ڈال دی اور ایسی اٹھان پیدا کی کہ پوری آن بان سے میدان میں ہے۔دوسرے اجلاس میں مجروح سلطانپوری پر مقالات پیش کیے گئے ۔

About the author

Taasir Newspaper