نتیش اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ملک و بیرون ملک میں مقبول:عابد

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 03-October-2018

مدھوبنی(پی آر)، مدرسہ قدریہ شکری ضلع مدھوبنی کے سینئر اساذ جناب مولانامحمد عابد حسین نے پریس ریلز جاری کر کہا ہے کہ جدیو کا بی جے پی سے اتحاد صرف بہار کی ترقی کی بنیاد پر کیاگیا ہے۔ فرقہ پرستی کی بنیاد پر نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ جناب نتیش کمار نے آج تک اپنے وصول وضابطہ سے ہٹ کر نہ کبھی سمجھوتہ کیا ہے۔ اور نہ کریں گے۔ چاہے اس کے انہیں بھاری قیمت چکانی پڑے۔ جناب عابد نےکہا کہ جناب نتیش کمار آج اپنی کارکردگی کی وجہ کر ہی ملک اور بیرون ملک میں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ آزاد کے بعد سے آج تک اتنا ترقیاتی کام کسی وزیراعلیٰ نے نہیں کیا۔ جہاںجائے ان کا کیاہوا کام سر چڑھ کر بولتا ہے۔ پل اور پلیا سڑک کا تو انہوں نے جال بچھادیاہے۔ جو اس سے پہلے بہار میں سڑک نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ گویا نتیش کمار نے بہار کو ملک کے نقشے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر اتنا کام کرنے کے باوجود بھی آئندہ انتخاب میں لوگوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا تو یاد رکھئے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اور آنے والے وزیراعلیٰ دل برداشتہ ہوکر کام بھی نہیں کریں گے۔ جناب عابد نے کہا کہ وزیراعلیٰ مسلمانوں کے معاملے میں مخلصی نظرکرتے ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کو جدیوسے بددل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ سیکولر اور صاف ستھری صبیحہ کے ہیں، بی جے پی میں رہ کر بھی ترقیاتی کام کریں سب کا ساتھ سب وکاس ہورہاہے تو برا کیاہے؟ جناب عابد نے کہا کہ سونااگر کیچڑ میں گرجائے تو سوناہی رہے گا۔ اس کی حیثیت نہیں بدلے گی۔ البتہ دودھ پینے والا اور خون دینے والا مجنوں کو ہمیں پرکھنا ہوگا۔ جناب عابد نے کہا کہ بہار کے اقلیتوں کے لئے نتیش کمار نے جو کام کردیا ہے دوسری سیاسی جماعتوں نے صرف ووٹ بینک کے طور استعمال کیا۔ پورے بہار میں اردو اساتذہ کی کثیر تعداد میں بحالی ۔ 205، 609 مدارس کی منظوری انجم ترقی اردو کے گرافٹ میں اضافہ بہار اردو اکاڈمی کے گرانٹ میں اضافہ ، ملحقہ مدارس کے اساتذہ کی تنخواہ میں اضافہ ، اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کےبجٹ میں  اضافہ وغیرہ اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری منصوبے بنائے گئے ہیں ، جن کا سیدھا فائدہ مسلمانوں کو پہنچنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدیو کا بی جےپی سے اتحاد ہونا سیاسی مجبوری تھی جو ہوئی لیکن اس کے اصول اورضابطے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ عظیم اتحاد کو توڑ کر بی جے پی میں شامل کیوں ہوئے اس پر انہوں نے شعرپڑھا۔

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
ورنہ یوں کوئی بے وفانہیں ہوتا