نتیش نے کیا پھر خصوصی درجہ کامطالبہ

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 04-October-2018

پٹنہ ،:(اسٹاف رپورٹر) :آج وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ واقع ’ سنواد ،‘میں 15ویں مالی کمیشن کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار شامل ہوئے ۔ مالی کمیشن کی طرف سے کمیشن کے چیئر مین این کے سنگھ ، کمیشن کے رکن ششی کانت داس ، ڈاکٹر انوپم سنگھ ، ڈاکٹر اشوک لاہیری ، سیکریٹری اروند مہتا ، اور جوائٹ سیکریٹری مکھمت سنگھ بھاٹیا،ڈاکٹر روی کوٹااور کمیشن کے دیگر نمائندے شامل ہوئے ۔ بہار سرکارکے مالی محکمہ کی پرنسپل سیکریٹری محترمہ سجاتا چتر ویدی اور مالیات سیکریٹری (اخراجات) راجل سنگھ نے15ویں مالی کمیشن کے سامنے تفصیلی پرزنٹیشن دیا ۔15ویں مالی کمیشن کے سامنے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپنے خطاب میں کہا کہ پرزنٹیشن کے ذریعہ کمیشن کو تمام باتوں سے آگاہ کرادیا گیا ہے اور کمیشن نے بھی چرچا کر کے ساری چیزوں کو بہتر طریقہ سے سمجھا ہے ۔ نائب وزیر اعلیٰ سشل کمار مودی نے اعدادو شمار کے ذریعہ کمیشن کو مالی صورت حال سے آگاہ کرایا ۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ مالی کمیشن آئین کے دائرہ میں رہ کر کام کر تاہے اور پورے ملک کے لیے سوچتا ہے ۔ریوینو کے کلیکشن اور وسائل کو مناسب تقسیم کے درمیان توازن قائم کر تا ہے ۔ ملک کے حاشیہ پر زندگی گزارہے شخص کو مین اسٹریم میںلانا گاندھی جی کا بھی تصور تھا ۔ اقتصادی نشاندہی کے ذریعہ اسے اور بھی آسان بنا یا جا سکتا ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار ’لینڈ لاکڈ‘ریاست ہے اور یہاں دیگر سرحدی ریاستوں کی طرح انڈسٹری اور ٹریڈ کے لیے سرمایہ کاری نہیں ہے ۔ یہ ریاست کو خصوصی درجہ ملنے سے ہی ممکن ہے ۔ دیگر ریاستوں کے مقابلہ میں یہاں پر فی شخص آمدنی کم ہے۔لیکن یہاںپر ذاتی طور پر کام کے ذریعہ لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے ۔ جو اعداد و شمار میں دیکھائی نہیں دیتا ہے۔ جو ریاست پسماندہ ہے ، وسائل کی کمی ہے وہاں پر دیگر ریاستوں کی طرح مساوات کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کر نا مناسب نہیں ۔ اس کے سبب جوریاستیں پسماندہ ہیں وہ پسماندہ ہوتی ہی چلی جائیں گی ۔ ریاست بہار کی آبادی زیادہ ہے اس کی وجہ تاریخی بھی ہے، کیوںکہ یہ علاقہ اپجائو تھا، ماحول بہتر تھا اور دیگر کئی اسباب تھے۔ یہاں آبادی کی کثافت بہت زیادہ ہے ،تو بہتر سہولت کے لیے کئی کام ریاستی حکومت اپنے فنڈ سے کررہی ہے ۔ آبادی پر قابو پانے کے لیے لڑکیوں کو تعلیم سے آراستہ کر نا ضروری کام مان کر ہم لوگ ہر ایک گرام پنچایت میں +2 اسکول کھولنے کے منصوبہ پر کام کررہے ہیں ۔ ابھی تک اپنے فنڈ سے 1,200 گرام پنچایتوں پلیس ٹو اسکول قائم کر چکی ہے۔بہار میں کل 8400 گرام پنچایت ہیں ۔ باقی پنچایتوں میں اسکول کھولنے کے لیے 8 سے 9ہزار کروڑ روپے کی ضرورت ہے ۔ اس پر آپ لوگوں کو غور کر نا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کو تعلیم سے آراستہ کر نے کے لیے سائیکل اور پوشاک منصوبہ نافذ کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اپنے بجٹ سے 1100 پنچایتوں میں پنچایت سرکاربھون کی تعمیر کرایا ہے ۔ پنچایت راج نظام کو مضبوط بنا نے کی سمت میں یہ ایک اہم قدم ہے ۔ یہ عمارت بہترین طریقہ سے تعمیر کی گئی ہے ۔ اس میں بنک کھولنے کے لیے بھی ہم جگہ دینے کو تیار ہیں ۔یعنی اس عمارت کے ذریعہ اس گرام پنچایت کے سارے کام کو نپٹانے میں سہولت ہو گی ۔ باقی بچے پنچایتوں میں عمارت تعمیر کر نے کے لیے اور بھی پیسوں کی ضرورت ہے اس پر بھی غور کر نا ہو گا ۔وزیر اعلیٰ ہے کہا کہ یہاں کریڈٹ ڈیپازٹ ریسیو کم ہے ، یہاں لوگ زیادہ تر پیسہ بنک میںہی جمع رکھتے ہیں، یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے یہاں کے لوگوں کا پیسہ بنک جمع کی شکل میں قبول کر کے دوسری ریاستوں کے امیر لوگوں کو قرض کی شکل میں دے رہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ سال 2005 میں اقتدار سنبھالنے کے وقت ریاست کا بجٹ 30ہزار کروڑ روپے کا تھا اور آج ایک لاکھ 80ہزار کروڑ روپے کا ہو گیا ہے ۔ ریاستی حکومت ترقی کے لیے ہر ایک علاقہ میں کام کررہی ہے ۔ چاہے ایگریکلچر ہو، تعلیم ہو ، صحت ہو ، انفرااسٹرکچر ہو ۔ بہار میں زمین کی قیمت بڑھ گئی ہے ۔ ایگریکلچر علاقہ رہائش بنتا جارہا ہے اور رہائشی علاقہ کمر شیل بن رہا ہے۔ ان اسباب سے زمین ایکوائر کر نے میں بھی مسائل پیدا ہو تے ہیں ۔ انفرااسٹرکچر کے کے شعبہ میںکام ہو نے سے یہاں کے مزدوروں کی ذاتی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار آفات متاثر ریاست ہے یہاں سیلاب نیپال ، اترا کھنڈ اور مدھیہ پردیش کی ندیوں سے آتے ہیں ، جس سے 70فیصد علاقہ سیلاب سے متاثررہتاہے۔ ہم لوگ زلزلہ زون میں بھی آتے ہیں اور اس کا اثر مستقبل میں نظر آسکتا ہے ۔ آفات کے لیے مرکزی حکومت 500 کروڑ دیتی ہے اس میں بھی اضافہ کر نے کی ضرورت ہے ۔سال 2017میں آئے بھیانک سیلاب میں 18 لاکھ متاثرکنبوں کو 6ہزار روپے فی کنبہ مدد کی رقم کھاتوں میںبھیجی گئی ،جس میں کل خرچ 2400 کروڑ روپے ریاستی حکومت نے اپنی طرف سے دیا تھا ۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ میرامانناہے کہ ریاست کے خزانہ پر پہلا حق آفات متاثرین کا ہے۔ ہم لوگو حادثات اور ایمرجینسی واقعات کے لیے معاوضہ کے طور پر 4لاکھ روپے تک کی رقم 24 گھنٹہ کے اندر مہیا کراد یتے ہیں۔ بہار آفات متاثرہ ریاست ہے تو اس کے لیے بھی غور کیاجائے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آپ لوگ اپنے بجٹ التزام میں جنگلاتی علاقہ کو اہمیت دیتے ہیں ۔ جھارکھنڈ سے تقسیم کے وقت بہار میں جنگلی علاقہ تقریبا 7فیصد تھا ،جو اب تقریبا 15فیصد ہو گیاہے ۔ اس کے لیے ہر یالی ڈیولپمنٹ مشن کا قیام کیا گیا ہے ۔ 22 کروڑ سے زیادہ پودے لگا ئے گئے۔ ریاست ہریالی کے نقطہ نظر سے 17 فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکتی ہے۔