نہیں ملا نجیب احمدکا سراغ،سی بی آئی کو جانچ بند کرنے کی اجازت

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 09-October-2018

نئی دہلی،(سید شمیم احمد) :دہلی ہائی کورٹ نے جے این یو کے لا پتہ طالب علم نجیب احمد کے معاملے میںسی بی آئی کو جانچ بند کرنے کی اجازت دے دیہے ۔ پچھلے چار ستمبر کو ہائی کورٹ نے اس معاملے پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کاہکہ نجیب کی ماں کو اگر کوئی شکایت ہے تو وہ ٹرائل کورٹ میں کر سکتی ہے ۔ اگر انہیں جانچ کی اسٹیٹس رپورٹ چاہئے تووہ اس کے لئے ٹرائل کورٹ میں عرضی دائر کر سکتی ہیں۔سماعت کے دوران سی بی آئی کورٹ کو بتایا تھا کہ وہ ایک کلوزر رپورٹ داخل کرنا چاہتی ہے ۔ سماعت کے دوران نجیب احمد کی ماں نے سی بی آئی کی اسٹیٹس رپورٹ مانگی تھی ۔ نجیب کی ماںنے نجیب کے لا پتہ ہونے کی دوبارہ جانچ کی مانگ کی تھی ۔نجیب کی ماں فاطمہ نفیس نے کورٹ میں عرضی دائر کر کے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نجیب کو تلاش کرنے کے لئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کرنے کی ہدایت دیں۔ سی بی آئی نجیب احمد کے لا پتہ ہونے کے معاملے میں کورٹ میںسیل بند لفافے میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کر چکی ہے ۔سماعت کید وران ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو پھٹکار لگاتے ہوئے کاہ تھا کہ سیبی آئی کی جانب سے اس معاملے میں دلچسپی کی کمی ہے ۔ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ سیبی آئی ڈی آئی جی نجیب کو تلاش کرنے کے لئے ٹھیک سے سپر وائز نہیں کر رہیہیں۔پچھلے سولہ مئی2017کو دہلی ہائی کورٹ نے جے این یو کے لا پتہ طالب علم نجیب احمد کے لا پتہ ہونے کے معاملے کی سی بی آئی جانچ کا حکم دیا تھا ۔ اس کے بعد 29جون کو سی بی آئی نے نجیب کا سراغ دینے والے کو دس لاکھ روپے کا انعام دینے کا اعلان کیا تھا ۔ہائی کورٹ نے نجیب کا کوئی سراغ نہ مل پانے پر دہلی پولس کی کرائم برانچ کو پھٹکارلگائی تھی۔ کورٹ نے کاہ تھا کہ آپ ہر حالت میں اسے تلاش کیجئے ۔ ہمیں رزلٹ چاہئے ۔ کورت نے کہا تھ اکہ آپ صرف کاغذی کارروائی کر رہے ہیں اور صرف عوام کا پیسہ بر باد کر رہے ہیں ۔ نجیب احمد 15اکتوبر 2016سے غائب ہے ۔