وزیر اعظم بنے چیمپئنس آف دی ارتھ ، کہا ملک کے کروڑ لوگوں کا ہے یہ اعزاز

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 04-October-2018

نئی دہلی،  (سید شمیم احمد): وزیر اعظم نریندر مودی” چیمپئنس آف دی ارتھ” بن گئے ہیں۔بدھ کے روز اقوام متحدہ کے اس اعلیٰ ترین ماحولیاتی اعزاز سے انہیں نوازا گیا۔ دہلی میں ایک پروگرام میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹونیوگٹریس نے مشترکہ طور پر وزیر اعظم مودی اور فرانسیسی صدر میکرو ںکو یہ ایوارڈ فراہم کیا۔وزیر اعظم مودی نے اس اعزاز کے لئے اقوام متحدہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھارتیوں کودیا گیا اعزاز ہے۔ ہندوستانی ماحولیات کے تحفظ کے لئے پر عزم ہیں۔ وزیر اعظم کو یہ اعزاز ‘پالیسی لیڈر شپ ‘زمرے میں پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلی پر ان کی بہترین قیادت اور مثبت قدم کے لئے دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم مودی اور صدرمیکروں کے علاوہ، یہ اعزاز 5 دیگر افراد اور تنظیموں کو دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق، ‘اس سال کے ایوارڈ کے فاتحین کو کچھ انتہائی ناگزیر ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لئے ہمت، نئی سوچ اور انتھک کوششیں کرنے کے لئے نوازا جا رہا ہے’۔وزیر اعظم مودی نے ‘چیمپیئنس آف دی ارتھ ایوارڈ’ سے نوازے جانے کے بعد کہا ، “یہ اعزاز ماحولیات کے تحفظ کیلئے بھارت کے سوا سو کروڑ عوام کا عزم ہے۔کا چیمپئنس آف دی ارتھ ایوارڈ، بھارت کی اس ہمیشہ نئی نوعیت کی قدیمی روایت کا اعزاز ہے، جس نے قدرت میں ایشور کو دیکھا ہے۔ یہ بھارت کی عظیم خواتین کا اعزاز ہے جوتلسی کی پتیا بھی گن کر توڑتی ہیں۔ جوپودے میں بھی ایشور کی شکل کو دیکھتی ہیں اور جو چینٹی کو بھی دانہ دینا ثواب مانتی ہیں۔ یہ ہندوستان کے ان قبائلی بھائی بہنوں کا اعزار ہے جو زندگی سے زیادہ جنگلوں سے پیار کرتے ہیں۔ یہ بھارت کے ان ماہی گیروں کا اعزاز ہے جوسمندر سے اتنا ہی لیتے ہیں جتنا انکی روزی روٹی کے لئے ضروری ہو۔ یہ کسانوں کا اعزاز ہے جن کے لئے موسموں کی سائیکل ہی زندگی کی سائیکل ہے۔ انہوں نے کہا، ‘آبادی کوماحول پر،قدرت پر اضافی دبائو ڈالے بغیر، ترقی کے مواقع سے منسلک کرنے کے لئے سہارے کی ضرورت ہے۔ ہاتھ تھامنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے میں کلائیمیٹ جسٹس کی بات کر تا ہوں۔ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے کلائیمیٹ جسٹس کو یقینی بنائے بغیر نمٹا نہیں جا سکتا ہے’۔