گجرات میں مزدوروں پر حملہ کے خلاف بھاکپا مالے نےنکالا احتجاجی مارچ

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 13-October-2018

بتیا(انیس الوریٰ)، بھاکپا مالے نے گجرات میں بہاری اور یوپی کے مزدوروں پر حملہ کے خلاف بھاکپا مالے نے بیتا ریلوے اسٹیشن کے پرتی واد مارچ مین روڈ ہوتے ہوئے شعبہ بابو چوک پہنچ کرمیٹنگ میں تبدیل ہوا۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے بھاکپا مالے لیڈر سنیل کمار راؤ نے کہا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ گجرات میں بہاری مزدور سمیت تمام ہندی زبان لوگوں پر لگاتار حملے جاری ہے۔ اور انہیں گجرات سے کھدیرا جارہاہے۔ ابھی تک 60ہزار لوگ گجرات چھوڑ چکے ہیں۔ اور ابھی تک لوگوں کا آنا جاری ہے۔ یہ نہ صرف بہاری مزدوروں کی روزی روٹی پر حملہ ہے بلکہ یہ ان کا بے عزتی بھی ہے۔ کل تک انہیں مہاراشٹر میں بے عزتی جھیلنی پڑی تھی۔ اب یہ گجرات میں چل رہاہے۔ ملک کے عواموں کو ملک میں ہی کہیں بھی روزی روٹی کے لئے جانے کی آزادی ہے لیکن آج ملک کے لئے لوگوں کو ملک کے اندر خدیرا جارہاہے۔ اگر کانگریسی نیتا حملہ کروارہے ہیں تو بھاجپا کو انہیں گرفتار کرنے سے کس نے روک رکھا ہے۔ دراصل مودی حکومت میں غریبوں اور مزدور درجہ کے لوگوں پر لگاتار چوطرفہ حملہ جاری ہے۔ مالے نیتا سنجے رام نے کہا کہ مودی کے گجرات ماڈل کی اصلیت بھی یہی ہے۔ 2014 کے پارلیمانی انتخاب کے وقت اترپردیش اوربہار کے مزدوروں نے مودی کی حمایت میں پرچار کیاتھا۔ اور ان کی جیت میں اہم رول ادا کیاتھا۔ اب انہیں یہ دن دیکھنا پڑرہاہے۔ آل انڈیا اسٹوڈنس ایسوسی ایشن آئیسا کے ضلع صدر سنجیت کمار نے کہا کہ بہار کے غریب لوگ روزی روٹی کی تلاش میں دردر کی ٹھوکر کھانے کو مجبورہیں۔ ترقی کے بڑے بڑے عوؤں کے بیچ بہار سے غریبوں کا روزی روٹی کے لئے دوسرے صوبہ جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ نوٹ بندی کے وقت بھی کافی تعداد میں بہار مزدوروں کی روزی روٹی چھینی گئی تھی اور انہیں بہار لوٹنا پڑا تھا۔ پروگرام میں رام بابو کمار سودھانشو شیکھر دھرم ناتھ کشواہا، ریکھی شاہ، دنیش رام، نظر عالم، تاج الدین منصوری اسلام انصاری منظور میاں وغیرہ لیڈروں نے بھی خطاب کیا۔