ہندو ملزمین اور ریاستی و مرکزی حکومت کی عرضیوں پر سماعت ۱۶؍ اکتوبرسے متوقع

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 09-October-2018

ممبئی (پریس ریلیز)مالیگائوں ۲۰۰۶ ؁ء بم دھماکہ معاملے میں خصوصی این آئی اے عدالت کی جانب سے باعزت بری کیئے گئے ۹؍ مسلم نوجوانوں کے خلاف بی جے پی قیا دت والی مرکزی و ریاستی حکومت و بھگواء ملزمین کی جانب سے دائر کردہ اپیل پر آج ممبئی ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ نے سماعت کرتے ہو ئے فریقین کو حکم دیا کہ وہ ۱۶؍ اکتوبر سے بحث کر نےکیلئے تیار رہیں ۔ جسٹس ایس ایس شند ے اور جسٹس اے ایس گڈکری کے روبرو آج مشتر کہ عرضداشتوں کی سماعت عمل میںآئی جس کے دوران سرکاری وکیل نے بذاد خود عدالت سے وقت طلب کیا جبکہ عدالت میں جمعیۃ علماء مہارا شٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ساجد قریشی، ایڈوکیٹ حفیظ و دیگر موجود تھے جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ دیگر فریقین کی عرضداشتوں پر سماعت کیلئے تیار ہیں ۔واضح رہے کہ نو مسلم نوجوانو ں کے خلاف قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے)، ریاستی انسدادد ہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس ) نے مشترکہ اپیل دائر کی ہے جبکہ اسی معاملے میں گرفتار بھگواء دہشت گرد دھان سنگھ و دیگر بھگواء ملزمین نے بھی مسلم ملزمین کی باعزت رہائی کو چیلنج کیا ہے اور عدالت سے مطالبہ کیا ہیکہ نچلی عدالت کے فیصلہ کو مسترد کیا جائے کیونکہ ملزمین کے خلاف ثبوت وشواہد موجود ہیں اور باعزت بری کیئے گئے ملزمین ہی ۲۰۰۶ ء میں پاور لوم شہر میں ہوئے ان دھماکو ں کے اصل ملزمین ہیں ۔ عیاں رہے کہ ساڑھے پانچ برسوں تک اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے والے ملزمین نورالہدا شمش الضحی، شبیر احمد مسیح اللہ(مرحوم)، رئیس احمد رجب علی منصوری، ڈاکٹر سلمان فارسی عبدالطیف آئمی، ڈاکٹر فروغ اقبال احمد مخدومی، شیخ محمد علی عالم شیخ، آصف خان بشیر خان، محمد زاہد عبدالمجید انصاری،ابرار احمد غلام احمد کو خصوصی عدالت نے ۲۰۱۱؁ء میں ضمانت پر رہا کیا تھا اور اس کے بعد ان ملزمین نے جمعیۃ علماء کے توسط سے مقدمہ سے باعزت بری کیئے جانے کی عر ضداشت دا خل کی تھی جس کے بعد خصوصی عدا لت نے ناکافی شہادت کی بناء پر ۲۵؍ اپریل ۲۰۱۶ء کو ملزمین کو باعزت بری کردیا تھا لیکن مسلم نوجوانو ںکے مقدمہ سے ڈسچارج ہونے کے چند ماہ بعد ہی ریا ستی حکومت، قومی تفتیشی ایجنسی اوربھگواء ملزمین نے ممبئی ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی تھی جسے عدالت نے سماعت کے لیئے قبول کرلیا ہے ۔اسی درمیان جمعیۃ علماء قانونی امدا د کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ جمعیۃ علماء نے مالیگائو ں ۲۰۰۶ء بم دھماکہ معاملے سے باعز ت بری کیئے گئے مسلم نوجوانو ں کے دفاع کے لیئے سینئر وکلاء یوگ موہیت چودھری، عبدالوہاب خان ، شریف شیخ اور دیگر کی خدمات حاصل کی ہیں وہ استغاثہ و دیگر فریقوں کی بحث کا ہائی کورٹ میں جواب دیں گے۔