کھیل

بالر نے 360 ڈگری گھوم کر ڈالی گیند

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 09-November-2018

کلیانی، (یو این آئی ) بنگال اور اترپردیش کے درمیان کولکتہ کے مضافات میں واقع کلیانی میں انڈر -23 سی کے نائیڈو ٹرافي مقابلے میں اس وقت عجیب و غریب صورت حال پیدا ہو گئی جب اتر پردیش کے شیوا سنگھ نے 360 ڈگری گھوم گیند ڈالی لیکن امپائر نے اسے ڈیڈ بال قرار دیا۔عالمی معیار کی کرکٹ میں منفرد ایکشن والے کئی بولر ہوتے ہیں لیکن اترپردیش کے لیفٹ آرم اسپنر شیوا سنگھ کا یہ ایکشن تو بالکل نرالا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ شیوا اس سال انڈر -19 ورلڈ کپ جیتنے والی ہندستانی ٹیم کے رکن رہے تھے۔بنگال کی دوسری اننگز میں شیوا نے گیند ڈالنے کے وقت کریز کے پاس اپنی جگہ پر 360 ڈگری گھومنے کے بعد گیند ڈالی جسے بلے باز نے احتیاط سے کھیل لیا۔ لیکن جب شیوا 360 ڈگری سے گیند ڈال رہے تھے اسی وقت امپائر ونود سیشن نے ڈیڈ بال کا اشارہ کر دیا تھا جس پر شیوا اور یوپی کے فیلڈروں کو کافی حیرانی ہوئی۔اس کے بعد کھیل تھوڑی دیر کے لئے رک گیا اور امپائر سیشن نے ساتھی امپائر روی شنکر سے اس معاملے پر بات چیت کی۔ انہوں نے پھر شیوا اور یوپی کے کپتان شوم چودھری کو بتایا کہ اگر شیوا ایسی گیند ڈالنا جاری رکھتے ہیں تو امپائر اس گیند کو ڈیڈ بال قرار دیتے رہیں گے۔شیوا نے اس درمیان کہا کہ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے جب انہوں نے اس انداز میں گیند ڈالی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ گزشتہ ماہ 50 اوور کے وجے ہزارے ٹرافی ٹورنامنٹ میں انہوں نے کیرل کے خلاف اسی طرح 360 ڈگری گھومنے کے بعد گیند ڈالی تھی لیکن اس وقت امپائروں نے کوئی ڈیڈ بال نہیں دی تھی۔شیوا نے کہاکہ میرا ایکشن مکمل طور ٹھیک ہے۔ گیند بازوں کو بھی بلے بازوں کی طرح اس طرح کے ایکشن کی اجازت دی جانی چاہیے۔ جب بلے باز اچانک ایکشن بدل کر سوئچ ہٹ لگا سکتا ہے تو پھر بولر اپنا ایکشن کیوں نہیں تبدیل کر سکتے۔ میں ون ڈے اور ٹوئنٹی 20 میں مختلف انداز کا استعمال کرتا ہوں اور مجھے لگا کہ اس طرح کا استعمال بنگال کے بلے بازوں کے خلاف کرنا چاہیئے جو ایک شراکت بنا رہے تھے۔انہوں نے کہاکہ میں نے امپائر سے پوچھا کہ آپ نے اسے ڈیڈ بال کیوں قرار دیا۔ وجے ہزارے ٹرافی میں ایسا کرنے پر سب کچھ ٹھیک تھا تو یہاں کیوں غلط ہے۔ بلے باز ریورس سویپ اور سوئچ ہٹ لگا سکتے ہیں اور جب بولر کچھ مختلف کرتا ہے تو اسے ڈیڈ بال قرار دیا جاتا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper