کھیل

جب تک جان ہے کرکٹ کھیلتا رہوں گا:سرفراز احمد

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 05-November-2018

دبئی (ایجنسی )ایکسپریس کو دبئی میں خصوصی انٹرویو کے دوران سرفراز احمد سے سوال کیا گیا کہ کرکٹ کمیٹی کے سربراہ محسن حسن خان نے آپ کو ٹیسٹ کپتانی سے ہٹانے کا مشورہ دیا ہے۔ جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کہنا تھا کہ میرا ارادہ کرکٹ کھیلنے کا ہے،جب تک جان ہے، ہمت ہے، کھیلتا رہوں گا،باقی جہاں تک کسی بھی فارمیٹ کی کپتانی کا سوال ہے،یہ بورڈ کی صوابدید ہے،جو بھی فیصلہ ہو، قبول کروں گا۔تینوں طرز کی کرکٹ میں کپتانی، کیپنگ اور بیٹنگ کی تہری ذمہ داریوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان ٹیم کی قیادت ہمیشہ ہی دباؤ والا کام ہوتی ہے،ان خوش نصیبوں میں سے ہوں جس کو کرکٹ کی سمجھ بوجھ رکھنے والے سینئرز کی رہنمائی حاصل ہے، معین خان، اعظم خان، ندیم خان اور دیگر مشکل وقت میں حوصلہ بڑھاتے ہیں،انھوں نے یہی سکھایا ہے کہ کیریئر میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں،برے وقت میں مضبوط رہنا ضروری ہے،ایشیا کپ میں مشکل دور تھا،کھلاڑیوں کی ہمت بندھائی کہ ان حالات سے نکلنا ہے، انھوں نے ٹیم کی ضرورت کو سمجھا،خود کو چیلنجز کیلیے تیار کیا اور فتوحات کے ٹریک پر واپس آگئے۔سخت تنقید کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمارا کلچر ہی ایسا ہے، جیتیں تو ہیرو، ہاریں تو کیا ہوتا ہے، سب جانتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انھوںنے کہا کہ سینئرز کو نظرانداز نہیں کیا جارہا، محمد حفیظ کی ضرورت پڑی توان کو موقع دیا،ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی تینوں شعبوں میں کھلاڑیوں نے پلان کے مطابق کھیل پیش کیا،خاص طور پر فیلڈنگ کا اہم کرداررہا،کھلاڑی اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں، کسی کو بھی سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ کن اوورز میں کہاں فیلڈنگ کرنا ہے، مسلسل 11سیریز جیتنے کا ریکارڈ قائم کرنے کیلیے سینئرز، جونیئرز، کوچنگ اسٹاف اور سلیکٹرز سب نے کوشش کی ہے، فتوحات کی راہ پر گامزن ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper