ہندستان ہندوستان

سی آئی سی نے ارجت پٹیل کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 06-November-2018

نئی دہلی،(محمد گوہر):مرکزی حکومت اور آر بی آئی کے درمیان جاری گھمسان میں اب سی آئی سی یعنی سنٹرل انفارمیشن کمیشن بھی کود پڑا ہے۔ سی آئی سی نے آر بی آئی گورنر کو نوٹس جاری کر پوچھا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ابھی تک قصداً قرض نہ ادا کرنے والوں کی فہرست کیوں جاری نہیں کی گئی۔ ساتھ ہی سی آئی سی نے آر بی آئی سے گزارش کی ہے کہ سابق گورنر رگھو رام راجن کا وہ خط بھی برسرعام کیا جائے جو انھوں نے بیڈ لون یعنی ڈوبے ہوئے قرضوں کے بارے میں لکھا تھا۔سی آئی سی نے اس بات پر گہری ناراضگی ظاہر کی ہے کہ سپریم کورٹ کا حکم تھا اس کے باوجود 50 کروڑ روپے سے اوپر کے قرض والے ایسے قرض داروں کی فہرست اب تک کیوں نہیں جاری کی گئی جو قصداً قرض نہیں ادا کر رہے ہیں۔ وجہ بتاؤ نوٹس میں سی آئی سی نے آر بی آئی گورنر اْرجت پٹیلسے پوچھا ہے کہ اس وقت کے انفارمیشن کمشنر شیلیش گاندھی کے فیصلے کے بعد آئے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے آپ پر کیوں نہ زیادہ سے زیادہ جرمانہ لگایا جائے؟ نوٹس کا جواب دینے کے لیے اْرجت پٹیل کو 16 نومبر تک کا وقت دیا گیا ہے۔انفارمیشن کمشنر شری دھر آچاریْلو نے اس معاملے میں کہا کہ ’’اس سلسلے میں سنٹر انفارمیشن افسر کو سزا دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ انھوں نے تو اعلیٰ افسروں کی ہدایت پر کام کیا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ کمیشن اس کے لیے آر بی آئی گورنر کو ذمہ دار مانتا ہے اور اس لیے انھیں نوٹس دیا گیا ہے۔سی آئی سی نے اپنے نوٹس میں آر بی آئی گورنر کے اس بیان کا بھی تذکرہ کیا ہے جس میں 20 ستمبر کو آر بی آئی گورنر اْرجت پٹیل نے سی وی سی میں کہا تھا کہ وجلنس پر سی وی سی کی جانب سے جاری ہدایات کا مقصد زیادہ شفافیت، عام زندگی میں ایمانداری اور ایمانداری کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔انفارمیشن کمشنر شری دھر آچاریْلو نے کہا کہ ’’کمیشن کا ماننا ہے کہ آر ٹی آئی پالیسی کو لے کر جو آر بی آئی گورنر اور ڈپٹی گونر کہتے ہیں اور جو ان کی ویب سائٹ کہتی ہے اس میں کوئی میل نہیں ہے۔ جینتی لال معاملے میں سی آئی سی کے حکم کی سپریم کورٹ کی جانب سے تصدیق کیے جانے کے باوجود وجلنس رپورٹوں اور تجزیاتی رپورٹوں میں بہت زیادہ رازداری رکھی جا رہی ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ حکم کو اس طرح نظر انداز کرنے کے لیے سی پی آئی او کو سزا دینے سے کچھ نہیں ہوگ

About the author

Taasir Newspaper