سیاست سیاست

کشتواڑ واقعہ جنگجویانہ کاروائی تھی، ملزمان کی شناخت کرلی گئی: گورنر ستیہ پال ملک

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 06-November-2018

جموں، (یو ا ین آئی) جموں وکشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ کشتواڑ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی سکریٹری انیل پریہار اور ان کے بھائی اجیت پریہار کی ہلاکت میں ملوث ملزمان کی شناخت کرلی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کو عنقریب عوام کے سامنے لایا جائے گا۔گورنر موصوف نے کہا کہ پریہار براداران کی ہلاکت کا واقعہ ایک جنگجویانہ کاروائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جنگجووں کی طرف سے یہ کاروائی مایوسی میں انجام دی گئی۔ستیہ پال ملک پیر کی صبح یہاں سول سکریٹریٹ میں دربار مو دفاتر کھلنے کے موقع پر نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا ‘یہاں (کشتواڑ میں) ایک بدقسمت واقعہ پیش آیا ہے۔ بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر اور ان کے بھائی کو ہلاک کیا گیا ہے۔ یہ (کشتواڑ) ایک بہت ہی حساس علاقہ ہے۔ اس سے ملحقہ تین چار قصبے ایسے ہیں جہاں لوگ رات بھر سہمے ہوئے تھے۔ انہیں ڈر تھا کہ کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ انہوں نے کہا ‘اچھی بات یہ ہوئی کہ دونوں کیمونٹیز (مسلمانوں اور ہندووں) نے ہلاکت کے اس واقعہ کی مذمت کی۔ مل جل کر امن کو بحال کیا۔ میں سب سے اپیل کرتا ہوں کہ امن کی فضا کو بنائے رکھیں۔ وہ لوگ (ملوثین) لگ بھگ پہنچان لئے گئے ہیں۔ اور بہت جلد آپ کے سامنے لائے جائیں گے۔یہ پوچھے جانے پر کہ ‘کیا کشتواڑ میں بی جے پی لیڈر اور ان کے بھائی پر حملہ جنگجووں کی طرف سے انجام دیا گیا تو گورنر ستیہ پال کا کہنا تھا ‘یہ سو فیصدی ثابت ہوگیا ہے کہ یہ ایک جنگجویانہ کاروائی تھی۔ یہ کوشش پہلے بھی ہوئی ہے، ہم اس کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنگجووں کی طرف سے کاروائی مایوسی میں انجام دی گئی۔ انہوں نے کہا ‘یہ ایک بہت ہی بدقسمت واقعہ پیش آیا ہے۔ یہ کاروائی مایوسی میں انجام دی گئی ہے۔ پورے ملک میں بات چل رہی تھی کہ ریاست میں چار مرحلوں پر محیط بلدیاتی انتخابات کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے بغیر اپنے اختتام کو پہنچ گئے۔ ایک چڑیا کی بھی موت نہیں ہوئی ہے۔ چالیس چالیس لوگوں کی موت ہوجاتی تھی۔ جب سری نگر پارلیمانی نشست کے لئے انتخاب ہوئے تو 9 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔گورنر موصوف نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں بیٹھے جنگجووں کے آقا ریاست میں بلدیاتی انتخابات کے پرامن انعقاد سے بوکھلا گئے۔ انہوں نے کہا ‘سرحد کے پار ان کے جو مالک لوگ بیٹھے ہیں، انہوں نے بوکھلاہٹ میں ان پر دباو ڈالا کہ کچھ کرو۔ تو جنگجو آتے تھے اور سیکورٹی فورسز کے ناکوں پر ہتھ گولہ یا کوئی دوسری چیز پھینک کر فرار ہوجاتے تھے۔ سیکورٹی فورسز ان کو ایک دو کلو میٹر کے فاصلہ طے کرنے کے بعد پکڑ لیتے تھے۔

About the author

Taasir Newspaper