دنیا بھر سے

ہر پانچ میں سے ایک جرمن شہری پارٹ ٹائم ملازمت پر مجبور

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 06-November-2018

برلن،(پی ایس آئی)ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے کئی جرمن شہریوں کو ایک سے زائد جگہوں پر ملازمت کرنی پڑتی ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں ایسے افراد کی تعداد میں اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے، جو پارٹ ٹائم ملازمت کرتے ہیں۔وفاقی جرمن حکومت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک جرمن شہری ’منی جاب‘ یا ’پارٹ ٹائم‘ نوکری کرتا ہے۔ جرمنی میں ’منی جاب‘ کسی ایسی ملازمت کو کہا جاتا ہے جس کی تنخواہ ماہانہ ساڑھے چار سو سے 512 یورو کے درمیان یا اس سے کم ہو۔ جرمنی میں بائیں بازو کی سیاسی جماعت لیفٹ پارٹی کی درخواست پر یہ اعداد و شمار وفاقی ایجنسی برائے ملازمت نے جاری کیے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی ملازمتیں کرنے والوں کی تعداد میں صرف ایک سال کے اندر پچاس ہزار افراد کا اضافہ ہوا ہے۔جرمنی میں بے روز گاری کی شرح دیگر یورپی ملکوں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ تاہم ایسے افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے، جنہیں ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے ایک سے زائد ملازمتوں کا سہارا لینا پڑے یا پھر جن کے پاس کوئی مستقل یا ’فل ٹائم‘ ملازمت ہے ہی نہیں۔ علاوہ ازیں ایک تازہ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ روز مرہ کی اشیاء￿ کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے جرمنی کی بیس فیصد عوام کو غربت کا خطرہ لاحق ہے۔جرمن اخبار ’رائنشے پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں سن 2015 سے کم از کم تنخواہ کا قانون نافذ ہے تاہم اس کے باوجود کمپنیاں اور ملازمتیں فراہم کرنے والے آج بھی اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہیں کہ ساڑھے چار سو یا اس سے کم اجرت دینے پر انہیں ملازمین کا ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا۔ رواں سال مارچ کے اختتام پر جرمنی بھر میں 32.7 ملین ملازمتوں میں سے 7.6 ملین ملازمتیں ایسی ہی تھیں۔ ایسی ملازمتوں کو ’مارجینل‘ کہا جاتا ہے اور پندرہ برس قبل کے مقابلے میں آج کل ایسی ملازمتوں کا تناسب پینتیس فیصد زیادہ ہے۔علاوہ ازیں جرمنی میں ملازمت کرنے والوں کی ساڑھے آٹھ فیصد تعداد یا تقریباً 2.8 ملین لوگ کوئی ’منی جاب‘ بھی کرتے ہیں۔ دس برس قبل یہ تعداد ڈیڑھ ملین تھی۔ایسی پارٹ ٹائم یا ’مارجینل‘ ملازمتیں زیادہ تر ریٹائرڈ افراد کرتے ہیں، جن کے لیے پینش کی رقوم ناکافی ثابت ہوتی ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper