دنیا بھر سے

افریقہ میں اب بیویوں پر تشدد نہیں بلکہ ان کے ساتھ گھریلو کام کاج پر توجہ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 03-November-2018

لندن/ روانڈا،افریقی ملک روانڈا میں نچلی سطح پر گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے مردوں کو گھریلو کام کاج سکھانے کے منصوبے کے اچھے نتائج برآمد ہونا شروع ہوئے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق مردوں کے گھریلو کاموں میں دلچسپی سے مختلف طبقات پر اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔موہوزا جین اپنی اہلیہ پر تشدد کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ بیویاں کا کام بچے پیدا کرنا اور ان کی دیکھ بھال کرنا ہے۔موہوزا جین کے مطابق وہ اپنے والد کی پیروی کرتے تھے جو گھر پر کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ میں جب بھی گھر آتا تھا تو اگر اگر کوئی کام مکمل نہیں ہوتا تھا تو اپنے بیوی سے برا سلوک کرتا۔روانڈا کے مشرقی صوبے مولیر میں نجی سطح پر گھریلو تشدد کے مسئلے کے حل کے لیے یہ پروگرام شروع کیا گیا جس میں موہوزا جین کا گاؤں بھی شامل تھا۔جین پیری کے مطابق پروگرام ’بندبیرہو‘ ایک رول ماڈل ہے جس کے نتیجے میں ان کے شوہر کے رویے کو تبدیل کرنے میں مدد ملی۔وہ کلاسوں میں شرکت کرتے ہیں جہاں کھانے بنانے سے لے کر صفائی ستھرائی تک کی تربیت دی جاتی ہے اور روایتی صنفی امتیاز کے چیلنج پر بات کی جاتی ہے۔

’اصل مرد کھانا نہیں پکا سکتا‘

’بندبیرہو‘ پروگرام کے مرکز میں جین پیری کو بتایا جاتا ہے کہ وہ کام کس طرح سے کیے جا سکتے ہیں جن کے بارے میں ماضی میں کہا جاتا تھا کہ یہ بیویوں کو ہی کرنے چاہیے۔انھوں نے بتایا کہ ’وہ گھر جائیں گے اور سکھائے گئے کام کی مشق کرنے کی کوشش کریں گے۔ اور پھر واپس بربیت پر جائیں گے جہاں عینی شاہدین بتائیں گے کہ انھوں نے ہمارے رویے میں تبدیلی دیکھی ہے۔‘جین پیری کے مطابق ’مجھے معلوم ہے کہ کھانا کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ میں بچوں کے کپڑے دھوتا ہوں اور جانتا ہوں کہ کس طرح سے کچے کیلے کو چھیلنا ہے اور کس طرح خشک سبزی کاساوا کی پسائی کرنی اور آٹے کو چھاننا ہے۔‘تاہم گھریلو تشدد کے رویے میں تبدیلی لانا کوئی آسان کام نہیں ہے جیسا کہ جین پیری کے دوست ان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں کہ وہ گھریلو کام کاج نہ کریں اور انھیں بتاتے ہیں کہ اصل مرد کھانا نہیں پکاتا لیکن جین نے اپنے خاندان کو حاصل ہونے والے فوائد کی وجہ سے اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے۔جین کے مطابق انھیں اپنے بچے اب اپنے زیادہ قریب محسوس ہوتے ہیں اور ان کی اہلیہ اب کیلے کا کاروبار چلاتی ہیں اور اس سے انھیں گھر کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔جین پیری کے مطابق ’اب میری بیوی کا رویہ ماضی کے برعکس مختلف ہے کیونکہ پہلے وہ میرے ساتھ برا سکول کرتی تھی کیونکہ میں بھی اس کے ساتھ ایسا ہی کرتا تھا تاہم اب بات چیت کے ذریعے رضامندی سے کام کرتے ہیں۔جین پیری کے مطابق انھوں نے اپنی اہلیہ کو آزادی دی ہے اور اب وہ کام کرتی ہے اور میں بھی کرتا ہوں لیکن اس سے پہلے میری رائے تھی کہ اسے گھر ہی میں رہنا چاہیے۔

خوف اور آزادی

جین پیری کی شریک حیات موسابموینا ڈیلفائن کا کہنا ہے کہ ’انھیں پہلے محدود آزادی تھی اور وہ خوف کی زندگی گزار رہی تھیں لیکن اب مجھے گھر میں کافی آزادی حاصل ہے اور آمدن کے لیے باہر جاتی ہوں جیسا کہ ہر کوئی جاتا ہے۔موسابموینا ڈیلفائن صبح بچے گھر سے نکلتی ہیں تاکہ مارکیٹ میں کیلے فروخت کر سکیں اور اس دوران جین پیری گھر پر ہی رہتے ہیں اور چار بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور گھر آ کر تسلی ہوتی ہے کیونکہ کھانا تیار ہوتا ہے۔اس منصوبے کو ابتدا میں لاطینی امریکہ مین کیئر کے نام سے شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ حقیقی صنفی مساوات اس وقت ہی ممکن ہے جب مرد بچوں کی دیکھ بھال اور گھریلو کام کاج کی آدھی ذمہ داری خود لیں۔روانڈا میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق بچوں کی دیکھ بھال کی تربیت حاصل کرنے والے مردوں کے شریک حیات پر تشدد کرنے کے رجحان میں تربیت نہ حاصل کرنے والے مردوں کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔تاہم تحقیق کے مطابق تین میں سے ایک خاتون جس کے شوہر نے پروگرام میں شرکت کی تھی اب بھی اپنے شوہر کے برے رویے کی شکایت کرتی ہے۔روانڈا کے شماریات کے قومی ادارے کے 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق 52 فیصد مردوں کا کہنا ہے کہ ان کا کبھی بھی اپنی شریک حیات سے پرتشدد رویہ نہیں رہا۔روانڈا میں یہ پروگرام چلانے والے ریسورس سینٹر کے مطابق وہ پروگرام کو دیگر علاقوں اور برادریوں تک وسعت دینا چاہتے ہیں۔ریسورس سینٹر کے چیئرمین فیڈلی روتیسائر کا کہنا ہے کہ ’ہمارے ہاں ابھی منفی سماجی رویے پائے جاتے ہیں، سماجی رکاوٹیں اور منفی رائے پائی جاتی ہے اور یہی ملک میں خواتین سے پرتشدد رویے کی وجوہات ہیں۔‘اس پروگرام سے نہ صرف ڈیلفائن اور ان کے شوہر جین پیری کو بلکہ پوری برادری کو فائدہ پہنچا ہے اور بقول پیری ’شادی کے دس برس بعد اب ہنی مون کر رہے ہیں۔ جب بھی محلے میں کوئی تنازع یا سکیورٹی مسئلہ بنتا ہے تو ہماری رائے کا احترام کیا جاتا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہمارے گھر میں کوئی مسائل نہیں ہیں۔‘

About the author

Taasir Newspaper