دنیا بھر سے

جی 20: امریکہ اور چین فی الحال نئے محصول نہ عائد کرنے پر متفق

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 03-November-2018

لندن/ بیونس آئرس،امریکہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جنپنگ نے نئے تجارتی محصول پر 90 دنوں کے لیے روک لگانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اس بابت گفتگو ہو سکے۔دونوں رہنماؤں نے بیونس آئرس میں جی 20 کے سربراہ کانفرنس کے بعد ملاقات کی۔واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہونے کے بعد یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔چین نے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے یکم جنوری سنہ 2019 سے کسی نئے محصول کے نہ لگانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔اس سے قبل سنیچر کو جی 20 کے اجلاس میں رکن ممالک کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں تجارت میں جاری تفرقے پر روشنی ڈالی گئی لیکن اس میں پروٹیکشنزم یعنی ملکی مصنوعات کے تحفظ کے معاشی نظام پر کوئی تنقید نہیں کی گئی۔

رضامندی کن چیزوں پر؟

جی 20 کے سربراہ اجلاس میں شرکت سے قبل صدر ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو بتایا تھا کہ وہ چین سے درآمد کی جانے والی 200 ارب ڈالر کی تجارت پر اپنے منصوبے کے مطابق محصول میں اضافہ کریں گے۔ منصوبے کے مطابق یکم جنوری سے یہ محصول دس فیصد سے بڑھ کر 25 فیصد کیا جانا تھا۔وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اس پر عمل در آمد 90 دنوں کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ‘اگر اس مدت کے خاتمے کے بعد طرفین کسی معاہدے پر نہیں پہنچتے تو پھر محصول دس فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔’وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ اس کے بدلے میں چین نے امریکہ سے ‘بہت مقدار’ میں زراعتی، توانائی، صنعتی اور دیگر شعبوں سے مصنوعات خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ لیکن اس کی وضاحت نہیں کی ہے۔اس سے قبل چین کے سرکاری ٹی وی نے کہا: ‘یکم جنوری کے بعد سے کوئی اضافی محصول نہیں لگے گا اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری رہے گی۔’گذشتہ مہینوں کے درمیان دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے اربوں ڈالر کے ساز و سامان پر محصول لگایا ہے۔ امریکہ نے جولائی سے چین سے درآمد ہونے والے ڈھائی ارب ڈالر کے سامان پر محصول لگایا جس کے جواب میں چین نے 110 ارب ڈالر کے امریکی ساز و سامان پر محصول عائد کیا۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ارجنٹائن میں مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ باقی 267 ارب ڈالر کی سالانہ چینی تجارت پر بھی دس سے 25 فیصد محصول لگا دیں گے۔

بیونس آئرس میں مزید کیا ہوا؟

فرانسیسی رہنما امینوئل میکخواں نے میڈیا کو بتایا کہ تجارت تنازعات کی ضابطہ کار تنظیم ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی تجدید کاری کی ضرورت ہے۔
خبروں کے مطابق ایک سینیئر امریکی اہلکار نے بتایا کہ پہلی بار جی 20 تنظیم نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ڈبلیو ٹی او ‘فی الحال اپنے مقاصد کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے’ اور اس میں اصلاح کی ضرورت ہے۔خبروں کے مطابق ایک روسی اہلکار نے بتایا کہ جمعے کو صدر ٹرمپ نے روسی صدر ولادی میر پوتن سے جی 20 اجلاس کی سائد لائنز پر مختصر سی ملاقات کی۔اس سے قبل جی 20 سربراہ کانفرنس میں ترقی پزیر معیشت نے پروٹیکشنزم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

About the author

Taasir Newspaper