دنیا بھر سے

خبروں کے لیے اولین ترجیح ٹی وی بن گیا، اخبار کی جگہ سکڑ گئی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 07-November-2018

واشنگٹن ،امریکہ میں ٹیلی وڑن خبروں کے حصول کا آج بھی بدستو سب سے بڑا ذریعہ ہے جب کہ ڈیجیٹل میڈیم کے مقابلے میں کاغذ پر شائع ہونے والے اخباروں کی جگہ مزید سکڑتی جا رہی ہے۔امریکی تھنک ٹینک پیو ریسرچ سینٹر کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 47 فی صد امریکی خبروں کے لیے ٹیلی وڑن کو ترجیح دیتے ہیں جب کہ 34 فی صد خبریں پڑھنا پسند کرتے ہیں اور صرف 19 فی صد لوگ ایسے ہیں جو ریڈیو یا کسی اور الیکٹرانک میڈیم پر خبریں سننے کو اہمیت دیتے ہیں۔رائے عامہ کے اس جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ اخبارات کے لیے، جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں،مسائل میں مزید اضافہ ہو رہا ہے جب کہ آن لائن خبروں کے تمام ذرائع میں ٹیلی وڑن کو بدستور فوقیت حاصل ہے۔وہ افراد جو الیکٹرانک یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر خبریں دیکھنا پسند کرتے ہیں، ان میں سے 75 فی صد کا کہنا ہے کہ وہ ٹیلی وڑن کو ترجیح دیتے ہیں جب کہ آن لائن نیوز ویڈیوز کو پسند کرنے والوں کی شرح 20 فی صد ہے۔جہاں تک خبریں دیکھنے کی بجائے سننے کا تعلق ہے تو مختلف پلیٹ فارموں پر خبریں سننے کو ترجیح دینے والوں میں سے 63 فی صد ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو اولیت دیتے ہیں اور صرف 17 فی صد لوگ ایسے ہیں جو اخبار پڑھنا پسند کرتے ہیں۔سروے میں جن لوگوں نے پرنٹ میڈیا پر خبریں پڑھنے کو ترجیح دی ان کی تعداد محض 7ا فی صد ہے، جو سن 2016 میں ایک ایسے ہی سروے کی نسبت 11 فی صد کم ہے۔اگر لوگوں کی ترجیح کو عمر کے تناسب سے دیکھا جائے تو یہ دلچسپ انکشاف ہوتا ہے کہ 50 سال سے کم عمر کے افراد خبروں کے لیے انٹرنیٹ کو ترجیح دیتے ہیں، چاہے وہ خبریں پڑھیں، یا دیکھیں یا سنیں، ان کی ترجیج انٹرنیٹ ہوتی ہے۔اور 50 سال سے بڑی عمر کے افراد میں سے ایک تہائی کا کہنا تھا کہ وہ خبروں کے لیے کاغذ پر چھپا ہوا اخبار پڑھنے کی بجائے آن لائن جانا پسند کرتے ہیں۔خبریں سننے کے لیے ریڈیو اب بھی بدستور ایک مقبول میڈیم ہے لیکن اب زیادہ تر امریکی انٹرنیٹ ریڈیو پا پاڈ کاسٹ کے ذریعے خبریں سننا پسند کرتے ہیں۔خبروں سے متعلق اس سروے میں 3425 افراد کو اپنی رائے دینے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ یہ سروے 30 جولائی سے 12 اگست کے دوران کیا گیا۔ پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق اس میں غلطی کا امکان محض 2.9 فی صد ہے۔

About the author

Taasir Newspaper