دنیا بھر سے

سعودی عرب کا خاشقجی قتل کے ملزمان ترکی کے حوالے کرنے سے انکار

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 11-November-2018

ریاض، سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مشتبہ افراد کو ترکی کے حوالے کرنے کی بات کو مسترد کر دیا ہے۔عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ’ہم اپنے شہریوں کو کسی کے حوالے نہیں کرتے۔‘ابھی ایک ہفتہ قبل ہی ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے مشتبہ افراد کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا جبکہ بدھ کو ترک عدالت نے گرفتاری ورانٹ جاری کیے ۔سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل میں 11 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ترکی کی جانب سے جن افراد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں ان میں سابق سعودی انٹیلیجنس چیف احمد الاسیری اور سابق شاہی مشیر سعود القحطانی بھی شامل ہیں۔جمال خاشقجی کا قتل: مبینہ سعودی ’ہٹ سکواڈ‘ میں کون کون شامل تھا؟سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ترکی کی جانب سے معلومات کے تبادلے کے طریقہ کار پر شدید تنقید کی ہے۔خبر وں کے مطابق: ’ترک انتظامیہ معلومات کا تبادلہ اتنی جلدی نہیں کر سکی جتنی ہم ان سے امید کر رہے تھے۔‘’ہم نے ترکی میں اپنے دوستوں سے کہا کہ وہ ہمیں شواہد مہیا کریں جو ہم عدالت میں استمعال کر سکیں۔ ہمیں یہ معلومات اس طرح سے حاصل نہیں ہوئیں جس طرح سے ہونی چاہیے تھی۔‘دوسری جانب ترک صدر کا کہنا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کو قتل کرنے کا حکم سعودی حکومت کے اعلیٰ افراد کی جانب سے آیا لیکن انھوں نے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ وہ سعودی شاہی خاندان کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔

About the author

Taasir Newspaper