Uncategorized ہندستان ہندوستان

’علی گڑھ بچوں کا گھر ‘کے زیرِ اہتمام’ ہیلپنگ ہینڈ ‘کے تعاون سے غرباء میںکمبل اور گرم کپڑے تقسیم کئے گئے

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 31-December-2018

علی گڑھ (پریس ریلیز) ’ہیلپنگ ہینڈ‘ امریکہ کے اُن رفاعی اداروں میں ہے جو ملت کو بے بسی و بے کسی کی زندگی سے نکالنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ اس ادارے سے وابستہ افراد غریب و پسماندہ و نادار افراد کی ہر قسم کی مدد کرنا اپنا شعار تصور کرتے ہیں۔ فرید نواز’ ہیلپنگ ہینڈ‘ امریکہ کے ان ذمہ داروں میں ہیں جن کی زندگی کا مقصد ضرورت مندوں کی حاجت روائی ہے۔آپ ایک مخیر اور ہمدردِ ملت انسان ہیں اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ان کا یہی جذبۂ خیر انہیں ’علی گڑھ بچوں کا گھر‘ کی طرف کھینچ لایا۔ ’علی گڑھ بچوں کا گھر ‘میں ۳۰؍دسمبر۲۰۱۸ کا دن نہایت مبارک و مسعود دن ثابت ہواکیوں کہ اس دن ’ہیلپنگ ہینڈ ‘کے ذمہ دارفرید نواز اس ادارے میں تشریف لائے اور یہاں مقیم بچوں سے بھرپور ملاقات کی۔ اس موقع پر آپ نے بچوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ زندگی میں کامیابی کی کلید محنت، محنت اور مسلسل محنت ہے۔ جو بچے اپنے ابتدائی پندرہ سال محنت و مشقت کے ساتھ حصول تعلیم میں سرگرداںرہتے ہیں وہ بقیہ زندگی ،زندگی کے ہر میدان میں آگے کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ بچوں کو صرف اپنی تعلیم کی فکر کرنی چاہئے باقی سب کچھ اللہ پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہر دور میں ملت میں ایسے درد مند افراد پیدا کرتا رہا ہے جنھوں نے ملت کی زبوں حالی کو دور کرنے کی مخلصانہ کوششیں کی ہیں۔ ہماری تاریخ اس بات کی چشم دید گواہ ہے کہ مالی وسائل محنت کرنے والوں کے لیے کبھی سدِ راہ نہیں بنتے ۔ فرید نواز نے’ علی گڑھ بچوں کا گھر‘ کے چیئر مین امان اللہ خان کی ان کوششوں کو سراہا جو وہ ملت کو اوپر اٹھانے کے لیے کر رہے ہیں۔بچوں میں تعلیمی شوق اور ادارہ کے حُسن انتظام کے تعلق سے آپ نے دلی مسرت کا اظہار کیا اور کہاکہ سایۂ پدری سے محروم بچوںکو احساسِ محرومی سے نکالنا امان اللہ خان کا وہ زرین کارنامہ ہے جو تاریخ میں سنہرے الفاظ سے لکھا جائے گا۔ واضح ہو کہ’علی گڑھ بچوں کا گھرـ ‘ایک ایسا یتیم خانہ ہے جو حتی المقدور یہ کوشش کرتا ہے کہ اِس میں زیرِتعلیم اور مقیم بچوں کو کبھی بھی احساسِ یتیمی و محرومی نہ ہو۔ ادارہ ان کی پرورش وپرداخت، تعلیم و تربیت، صحت و حفظانِ صحت ، جسمانی کھیل و ورزش ہر سیر و تفریح کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کی مکمل شخصیت سازی کرتا ہے۔ فی الحال اس ادارے میں ۱۲۰ سے زائد یتیم و نادار بچے ور بچیاں ہیں جن پر پوری توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔یہاں سے دسواں درجہ پاس کرنے کے بعد اکثر بچے مشہور تعلیمی ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اورالحمد للہ یہاں پرورش پانے والے بہت سے بچوں نے یونیورسٹی اور اس سے ملحقہ اسکولوں و اداروں میں اعلیٰ تعلیمی ریکارڈ قائم کیاہے جن میں سے اب بہت سے ملک اور بیرونِ ملک میںروزگار سے وابستہ ہو چکے ہیں اور ایک کامیاب زندگی بسر کر رہے ہیں۔اس موقع پر اقرا کالونی میں واقع ’علی گڑھ بچیوں کا گھر‘ جو پوری طرح خواتین کے زیرِ انتظام ہے کی طالبات بھی موجود تھیں۔ پروگرام کی نظامت’ علی گڑھ بچوں کا گھر‘ کے طالبعلم سید حامد سینئر سکنڈری اسکول، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم مطیع الرحمٰن نے نہات خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی۔ جب ناظمِ اجلاس نے مہمانِ خصوصی فرید نواز کو اس شعر کے ساتھ مائک پر آنے کی دعوت دی تو پورا ہال تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونج اٹھا تھا؎

عظمتِ انسانت کے پاسباں ہیں یہ فریدؔ
باغِ علم و فن کے دلکش باغباں ہیں یہ فریدؔ
آکے امریکہ سے بیشک ملکِ ہندوستان میں
دیکھکر ’بچوں کا گھر‘ یوں شادماں ہیں یہ فریدؔ
ممبر پہ آپ آکے خطابت تو کیجئے
بچوں کو آج پند و نصیحت تو کیجئے
تقریرِ دلنشین کی تنویر سے یہاں
ملت کے دل سے دور جہالت تو کیجئے
فرید نواز سے بچوں نے مختلف النوع سوالات کرکے اپنائیت کا اظہار کیا۔ ’علی گڑھ بچوں کا گھر‘ کے ایک طالبعلم نے امریکہ اور ہندوستان میں پائی جانے والی خلیج کے بارے میں سوال کیا تو فرید نواز نے اس کا تسلی بخش جواب دیتے ہوئے ایمانداری، دیانتداری اور محنت کو ضروری قرار دیا۔’علی گڑھ بچوں کا گھر ‘کے زیرِ اہتمام’ ہیلپنگ ہینڈ ‘کے تعاون سے گذشتہ سالوں کی طرح امسال بھی ضرورتمند مستحق غریبوں ،ناداروں کو سردی سے حفاظت کی کمبل اور گرم کپڑے بھی تقسیم کئے گئے۔یہ تنظیم اپنا تعاون’ علی گڑھ بچوں کا گھر‘ کے واسطے سے علی گڑھ کے ضرورتمندوں کو پہونچا تی ہے ۔ اس سال بھی کئی سو کمبل تقسیم کرنے کا پروگرام ہے جو علی گڑھ کے مختلف علاقوں میں تقسیم کئے جائیں گے۔ آج تقریباً دو سو کمبل ، سویٹر اور گرم کپڑے ’علی گڑھ بچوں کا گھر ‘کے قرب وجوارکے علاقوں کے ضرورتمندوں میں تقسیم کئے گئے۔ ضرورتمندوں سے بطورِ خاص مخاطب ہوتے ہوئے فرید نوازنے فرمایا کہ دولت و ثروت ، امیری غریبی کوئی بھی چیز اس دنیا میں پائیدار نہیں ہے ، حالات انسان کے اختیار میں نہیں ہوتے ہیںلیکن حالات کو اپنے موافق کرنے کی کوشش ہر انسان کو کرنی چاہئے تاکہ وہ اللہ کے فضل و کرم اور اپنی جدّ و جہد سے دینے والا بن سکے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کی مدد انہیں لوگوں کو ملتی ہے جو اُسے لینے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اللہ کی مدد لینے کے لئے جس قدر محنت اور کوشش درکار ہے اگر آپ اُس میں کمی نہیں کریں گے تو انشاء اللہ بہت جلد آپ کا شمار دینے والوں میں ہونے لگے گا ۔ امان اللہ خاں نے شرکاء سے یہ اپیل کی کہ وہ اپنی دعائوں میں ہمیں اور ہمارے اداروں کو اور’ ہیلپنگ ہینڈ ‘کے ذمہ داروں کویاد رکھیں تاکہ یہ نیک کام تسلسل کے ساتھ جاری رہ سکے۔

About the author

Taasir Newspaper