ہندستان ہندوستان

مولانا اسرار الحق قاسمی کے انتقال پر اشفاق کریم کا اظہار غم

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 07-November-2018

پٹنہ  ملت کے درد و فکر کو اوڑھنا بچھو نا بنانے والے ایک بیدار مغز تعلیمی رہنما اور ایماندار سیاسی لیڈر مولانا محمداسرار الحق قاسمی ایم پی کشن گنج کے کھونے کا احساس ہر فرد کو بے چین کئے ہوئے ہے ۔ ان کی رحلت ہمارے لئے ذاتی نقصان ہے ،وقت گزرنے کے ساتھ اس احساس میں مزید شدت ہوگی ۔یہ باتیں تعزیتی بیان میں کٹیہار میڈ یکل کالج کے چیئرمین و راجیہ سبھا ایم جناب احمد اشفاق کریم نے کہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وہ بے شک پوری دنیا کی خیر خواہی کیلئے سرگرم تھے ، لیکن علمی اور سیاسی کساد بازاری کے اس دور میں وہ ملت ، خاص طور پر سیمانچل کیلئے خدائی عطیہ تھے ، جو اب ڈھونڈنے سے بھی ہمیں نہیں ملے گا ۔احمد اشفاق کریم نے کہا کہ جب وہ پہلی بار کانگریس کے ٹکٹ پر مرحوم سید شہاب الدین کے مقابلے پارلیمانی انتخاب لڑ رہے تھے تو میں ان کے شانہ بشانہ تھا ، پھر اے ایم یو سنٹر کو زمین پر اتارنے کی کوششوں میں بھی ساتھ رہا اور قریب سے ان کو سمجھنے کا موقع ملا، آپ کی پوری زندگی قوم و ملت کی فلاح و بہبود کے لیے جد و جہد کرتے ہوئے بیتی۔ انہوں نے کہا کہ کٹیہار میڈیکل کالج کی سرگرمیوں سے مولانا کوخاص دلچسپی تھی ،یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر فون پر حالات کی جانکاری لیتے رہتے ۔ حال کے دنوں میں ملک کے حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں ، اس پر وہ کافی فکر مند تھے اور ہم جیسے لوگوں سے تبادلہ خیال کر تے رہتے تھے ۔ مولانا قاسمی سیمانچل کو تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے بلندیوں پر لے جانے کیلئے کوشاں اور سرگرم تھے ۔قائدین کو چاہیے کہ وہ ان کی فکر کو زمین پر اتارنے میں سرگرم رول ادا کرنا چاہیے۔پروردگار پسماندگان کو صبر جمیل دے اور ملت کو ان کا نعم البدل عطا کرے ،آمین ۔

About the author

Taasir Newspaper