ہندستان ہندوستان

چھ دسمبر یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 07-November-2018

نئی دہلی؍ممبئی؍ حیدرآباد (تاثیر بیورو):بابری مسجد کا یوم شہادت 6 دسمبر پورے ملک میں یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا۔ اس موقع پر دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ پر بابری مسجد کی تعمیر نو کیلئے دھرنا دیا گیا اور احتجاجی جلسوں اور جلوسوں کا انعقاد کیا گیا تو ممبئی میں بابری مسجد کی بازیابی کیلئے اجتماعی اذان اور دعا کا اہتمام کیا گیا۔ قومی راجدھانی دہلی میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ، نئی دہلی شاخ کے زیر اہتمام صبح 11بجے سے دوپہر2 بجے تک نئی دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ پر ’پھر بنے گی بابری مسجد، پھر بنے گا ہندوستان‘ کے نعرے کے ساتھ بابری مسجدکو دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنادیا گیا ۔ ایس ڈی پی آئی کے قومی جنرل سکریٹری محمد شفیع نے اپنے استقبالیہ تقریر میں کہا کہ آزاد ہندوستان میں دو عظیم سانحہ پیش آیا تھا ۔ جس میں ایک گاندھی جی کاقتل ہے اور دوسرا بابری مسجد کا انہدام ہے۔ بابری مسجد کی تعمیر نوسے ہی ملک کی آئین کی حفاظت ہوگی۔ احتجاجی مظاہرے میں” لبراہن کمیشن لاگو کرو ” اورـ” بابری مسجد منہدم کرنے کے ذمہ دار مجرموں کو سزا دو “کے نعرے لگائے گئے۔اس احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے قومی صدر ایم کے فیضی نے کہا کہ بابری مسجد کی تعمیر نو سے ہی ہندوستانی جمہوریت اور سیکولرزم اور عدلیہ کی عظمت کوبرقرار ہوسکتی ہے۔آج ملک کی کئی سیکولر پارٹیاں ہندو ووٹ بٹورنے کے لالچ میں بابری مسجد معاملہ پر اپنی مجرمانہ خاموشی توڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس سے واضح طور پر ان سیکولر پارٹیوں پر بھی ہندوتوا کا اثر پڑتا نظر آ رہا ہے۔ایسی صورت میں ایس ڈی پی آئی کا یقین ہے کہ اگر ملک کو فاشزم سے محفوظ رکھنا ہے تو بابری مسجد کی تعمیر نو ناگزیر معاملہ ہے اور تبھی ملک اپنے آئینی اقدار کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے۔ ہم ملک کے تمام ذمہ دار باشندگان سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری اس تشویش اور فکر کو گھر گھر تک پہنچایا جائے جس سے ملک کے سیکولر عوام میں ’’آزاد ہندوستان‘‘ کے وجود کو جمہوریت اور سیکولرزم کے تحت قائم ، دائم و تابندہ رکھنے کا عزم پیدا ہوسکے۔Rehabانڈیا فائونڈیشن کے چیئرمین ای ایم عبدالرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ 1992میں بابری مسجد کی شہادت کے اسی د اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا رائونے ملک کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ بابری مسجد کو اسی جگہ دوبارہ تعمیرکرکے دیا جائے گا۔ لیکن آج بابری مسجد کے 26سال گذر جانے کے بعد بھی بابری مسجد معاملے میں اس ملک کے سب سے بڑی اقلیتی طبقے کو انصاف نہیں ملا ہے۔ آر ایس ایس، بجرنگ دل، وشوا ہندو پریشد، شیو سینا جیسی ہندو توا طاقتیں متنازعہ مقام پر مندر تعمیر کرنے کیلئے عوام کو بھڑکا رہی ہیں لیکن دوسری طرف مسلمان اس ملک کے عدلیہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے عدلیہ کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں۔سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ بابری مسجد منہدم کرنے کیلئے بھیڑ کو اکسانے والے ایل کے اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی جیسے مجرموں کو ابھی تک سزا بھی نہیں دی گئی ہے۔احتجاجی مظاہرے میں پارٹی کے قومی نائب صدر دہلان باقوی،آر پی پانڈیا،قومی سکریٹریان الفانسو فرانکو،محترمہ یاسمین فاروقی، سیتارام کھوئیوال،ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی، پارٹی قومی خازن اڈوکیٹ ساجد صدیقی،ویمن انڈیا موئومنٹ(WIM) کی قومی صدر محترمہ مہرالنساء خان،پارٹی قومی ورکنگ کمیٹی رکن پروفیسر کویا، پاپولرفرنٹ آف انڈیا کے قومی جنرل سکریٹری محمد علی جناح،پاپولرفرنٹ نئی دہلی صوبائی صدر پرویز احمد ، ایس اے ایچ آر ڈی سی کے ایگزکیوٹیو ڈائرکٹر روی نائر، جن سماج پارٹی کے صدر ایڈوکیٹ اشوک بھارتی، لوک راج سنگٹھن کے صدر ایس راگھون، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد اور سکریٹری جنرل مجتبیٰ فاروق،، ایڈوکیٹ این ڈی پنچولی اور ایڈوکیٹ اے سی مائیکل نے خطاب کیا۔ دہلی کی شاہی جامع مسجد کے گیٹ نمبر ایک پر بھی ہر سال کی طرح اس سال بھی مسلم ڈیمو کرٹیک فورم کے زیر اہتمام ایک امن احتجاجی جلسہ دہلی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر شعیب اقبال کی قیا دت میں منعقد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شر کت کر پر امن احتجاج کیا۔اس جلسے میں بہت سے ہندو بھائیوں نے بھی شر کت کر قومی اتحاد کا ثبوت دیا ۔مظاہرین نے لاٹھی گولی کھائیں گے”مسجد وہیں بنائیں گے “کے نعرے بھی لگائے ۔اس موقع پر لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے سابق کونسلر اکرم قادری نے کہا کہ 400سال سے بھی زیا دہ وقت گذرنے کے بعد بھی حکومت ہند یہ پتہ لگانے میں ناکام رہی ہے کہ رام جی کا جنم کہاں اور کس مقام پر ہوا تھا ۔انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے جس کلیان سنگھ کے دور اقتدار میں بابری مسجد شہید کی گئی تھی اسے ملک کی سب سے بڑی عدالت نے صرف ایک دن کی ہی سزا دی ۔اس سے بھی زیا دہ افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ سزا یافتہ شخص آج را جستھان کا گورنر بنا بیٹھا ہے جو ملک کے آئین کا کھلا مذاق ہے ۔بازار سیتا رام بلاک کانگریس کے صدر جگموہن پر دھان نے کہا ملک میں جب جب انتخابات آتے ہیں تب تب بھا جپا ،آر ایس ایس اور ہندو تنظیموں کو رام مندر یاد آتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج عدلیہ حکومت کے دباؤمیں کام کر رہی ہے اس کا انکشاف ہال ہی میں سپریم کورٹ کے پانچ جج صاحبان کر چکے ہیں ۔آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے رکن اور دہلی گیٹ کے کونسلر آل محمد اقبال نے کہا کہ آر ایس ایس ،بجرنگ دل ،شیو سینا اور دیگر ہندو تنظیمیں اس ملک کے امن وامان کو تباہ کر نا چاہتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب تک بابری مسجد دوبارہ اسی جگہ نہیں بن جاتی ہمارے زخم ہرے رہیں گے ۔ملک کے اکثریتی طبقہ نے فرقہ پرست ہندو تنظیموں کے ایودھیا میںمنعقد ہونے والے دھرم سنسد میں شر کت نہ کرکے فرقہ پرستوں کے منصوبوں پر پانی پھیر دیا ۔انہوں نے کہا میں مبار کباد دیتا ہوں ان لوگوں کو جنہوں نے ان کے جھانسے میں نہ آکر ان فرقہ پرستوں کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا ۔انہوں نے کہا کہ ہندو ستان کا مسلمان محب وطن ہے اور ملک میں مان و مان چاہتا ہے ۔اب حد ہو چکی مندر اور مسجد کے جھانسے میں ہندو اور مسلمان آنے والا نہیں ۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ قومی اتحاد کو قائم رکھیں کسی دشمن کی چال کو کا میاب نہ ہونے دیں ۔ ادھر عروس البلاد ممبئی میں بابری مسجد کی26؍ ویں برسی کے موقع پر رضا اکیڈمی کے اعلان پر بھیونڈی کے مختلف علاقوں میں اجتماعی طور پر اذانیں دی گئیں۔ خاص طور پر کوٹرگیٹ پر وقت سے پہلے ہی ہزاروں افراد جمع ہوگئے،پونے تین بجے اذان شروع کی۔ بابری مسجد کی شہادت پر خدا کی وحدانیت کے لاہوتی نغموں سے لوگوں کی روحیں جھوم اٹھیں اور لوگوں نے مل کر اجتماع طور پر اذان دی۔ بعدہٗ بابری مسجد کی بازیابی اور انصاف کے حصول کے لئے پرسوز دعا کی گئی اور اللہ کی بارگاہ میں التجا کی گئی کہ بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر کے اسباب وہ غیب سے پیدا فرمادے اور ملک میں مسلمانوں کو استحکام امن و سکون اور غلبہ عطا فرمائے۔رضا اکیڈمی بھیونڈی کے جنرل سیکریٹری محمد شرجیل رضاقادری نے میڈیا کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایک دفعہ مسجد قائم ہوجانے کے بعد کسی مسلمان کو چاہے وہ عالم ہو مفتی ہو کہ صوفی ہو اسے یہ حق نہیں ہے کہ وہ مسجد کی مسجدیت کو ختم کردے اس لئے بابری مسجد سے مسلمان کبھی دستبردار نہیں ہوسکتے۔ ۶؍دسمبر کو اذان کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک بابری مسجد میں اذان شروع نہ ہوجائے ۔حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ جہاں بابری مسجد تھی وہیں مسجد کو تعمیر کیا جائے ، اگر مسجد پکی نہیں بنا سکتے تو کچی مسجد ہی تعمیر کر دی جائے ، اگر وہ بھی نہ ہو تو کم از کم حکومت بابری مسجد کی جگہ پر ہم کو نماز پڑھنے کا پرمیشن دے دے ، پھر ہم مسجد اپنے طریقے سے بنالیں۔ جن شر پسندوں نے بابری مسجد کو شہید کیا ان خاطیوں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ ہزاروں کے تعداد میں مسلمان شریک تھے۔ بھیونڈی پولیس نے نظم و نسق کا بھر پور انتظام کیا تھا ۔ جکات ناکہ سے تین بتی تک جانے والے راستہ کو پولیس نے مکمل طور پور بند کردیا تھا۔ بھیونڈی کی مرکزی مسجد کوٹرگیٹ کے علاوہ بھیونڈی کے بیشتر علاقوں میں بھی اجتماعی طور پر اذانیں دی گئیں ۔

About the author

Taasir Newspaper