سیاست سیاست

اترپردیش میں ایس پی،بی ایس پی اتحاد کااعلان آج

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 12-January-2019

لکھنؤ،(یو این آئی) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور کئی دیگر چھوٹی پارٹیوں کے درمیان مہاگٹھ بندھن کا اعلان سنیچر کو یہاں کیا جائے گا۔15 جنوری کو پریاگ راج میں کنبھ میلے میں پہلا شاہی اسنان ہوگا۔ اسی دن بی ایس پی سربراہ مایاوتی اور ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کی اہلیہ ڈمپل یادو اپنی سالگرہ منائیں گی۔ دونوں بڑی پارٹیوں بی ایس پی اور ایس پی کے لیڈروں نے سنیچر کو لکھنؤ میں مشترکہ نامہ نگاروں کی کانفرنس بلایا یا جس میں محترمہ مایاوتی اور اکھلیش یادو موجود رہیں گے۔ امید کی جارہی ہے کہ دونوں لیڈر مہاگٹھ بندھن کا اعلان کریں گے۔ایس پی کے قومی سکریٹری راجندر چودھری اور بی ایس پی کے سکریٹری جنرل ستیش چندرا نے مشترکہ بیان جاری کرکے یہاں بتایا کہ نامہ نگاروں کی کانفرنس کو ایس پی صدر اکھلیش یادو اور بی ایس پی سربراہ محترمہ مایاوتی خطاب کریں گی۔اس سے پہلے دونوں پارٹیوں کے لیڈران جمعہ کی شام لکھنؤ میں ملاقات کریں گے۔ محترمہ مایاوتی نئی دہلی سے جمعرات کی شام کو یہاں پہنچ گئی ہیں جبکہ مسٹر اکھلیش یادو جمعہ دوپہر میں ٹوئٹر کے ذریعہ قنوج میں ای۔چوپال میں حصہ لیں گے۔مسٹر اکھلیش یادو نے کہا کہ اب ٹوئٹر کے ذریعہ گاؤں والوں کو ڈیجیٹل دنیا سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ اس کی شروعات قنوج کے فقیر پور گاؤں سے کی گئی ہے۔ایس پی صدر نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کہتے تھے کہ ملک میں سبھی سلاٹر ہاؤس بند کردیئے جائیں گے۔ اس وقت ایسا لگتا ہے کہ سبھی سلاٹر ہاؤس سماج وادی پارٹی کے لیڈروں کے ہیں لیکن اس میں بی جے پی کے لیڈر بھی شامل تھے۔ ریاستی حکومت نے گائے کی حفاظت کے لئے شراب پر مزید ٹیکس لگادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کام دھینو اسکیم اس لئے شروع کی گئی تھی جس سے ریاست میں دودھ کی پیداوار بڑھ جائے لیکن اب جن لوگوں نے بینک سے قرض لیا اب وہ قسط بھی نہیں دےپارہے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئے گی تو ہم اس اسکیم کے تحت لئے گئے قرض کا سارا سود معاف کردیں گے۔مسٹر یادو نے کہا کہ گنگا صفائی کے سلسلے میں حکومت کی نیت صاف نہیں ہے۔ جب تک نیت صاف نہیں ہوگی گنگا صاف نہیں ہوگی۔اس موقع پر اترپردیش کے سابق وزیراعلی کے ساتھ اسٹیج پر ڈمپل یادو اور ٹوئٹر انڈیا کےگلوبل نائب صدر کالن کراویل بھی موجود تھے۔

About the author

Taasir Newspaper