دنیا بھر سے

آئس بوائے نے ایک سال میں چینی بچے وانگ کی زندگی کیسے بدل دی؟

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 10-January-2019

بیجنگ، چین میں جنوری سنہ 2018 میں ایک استاد کی جانب سے اپنے شاگرد کے سر پر جمی ہوئی برف اور سوجے ہوئے ہاتھوں کی تصاویر شیئر کرنے کے بعد ملک میں بچوں کی غربت کے حوالے سے ایک نئی بحث شروع ہوئی تھی۔چینی سوشل میڈیا صارفین نے وانگ نامی اس آٹھ سالہ بچے کو ’آئس بوائے‘ کا نام دیا تھا جو چین کے جنوبی صوبے میں منجمند ہوتے موسم میں ساڑھے چار کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنے کے بعد سکول جاتا تھا۔وانگ کے اتنے مشکل حالات میں سکول جانے کے عزم اور جماعت میں ان کی عمدہ کارکردگی نے ان کے لیے آن لائن پر ہمدردی اور حمایت پیدا کر دی۔چین کے اخبار پیپلز ڈیلی کے مطابق اب نو سال کی عمر کے وانگ کے لیے گذشتہ 12 ماہ کے دوران بہت کچھ بدل چکا ہے۔ انھیں اب برف میں میلوں کا سفر طے کر کے سکول نہیں جانا پڑتا ہے۔وانگ اور ان کا خاندان کیچڑ والی جگہ سے دو منزلہ مشترکہ گھر میں منقتل ہو چکا ہے جہاں سے ان کا سکول صرف دس منٹ کی مسافت پر ہے۔وانگ کے والد نے اخبار پیپلز ڈیلی کو بتایا ’زندگی اب بہت بہتر ہو گئی ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا ’مٹی کی دیواروں اور کیچڑ والی سڑک کے مقابلے میں اب ہم ہوا اور بارش سے محفوظ ہو چکے ہیں۔‘

’خوابوں کے بیج‘

وانگ کے سکول نے بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھایا ہے۔اطلاعات کے مطابق وانگ کے سکول کے کمروں میں ہیٹنگ کی سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں جبکہ سکول سے دور رہنے والے بچوں کے سونے کے لیے ایک مشترکہ کمرہ بنا دیا گیا ہے۔سکول کے نائب پرنسپل فو ہنگ نے وانگ کے حوالے سے بتایا ’وانگ ایک اچھا طالب علم ہے اور وہ اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ ملتا ہے‘۔ان کا مزید کہنا تھا ’تمام تر توجہ کی وجہ سے طلبہ کو دنیا کے عجائبات کو محسوس کرنے کا موقع ملا ہے اور ان کے خیالات میں بڑی حد تک تبدیلی آئی ہے۔ وہ ایک دن ان پہاڑوں سے باہر نکلیں گے جیسے خوابوں کے بیج ان میں بو دیے گئے ہیں اور وہ اپنے مستقبل کے بارے میں بہت پر امید ہیں‘۔وانگ کا خواب بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ سنہ 2018 میں تھا۔ وانگ مستقبل میں ایک پولیس افسر بننا چاہتے ہیں تاکہ وہ ’بْرے لڑکوں کو پکڑ سکیں۔‘چین میں ٹوئٹر کی طرح مائیگرو بلاگنگ سروس وائیبو کے تین ہزار سے زیادہ صارفین نے ہیش ٹیگ IceBoyAYearOn استعمال کرتے ہوئے وانگ کی کہانی پر بات کی ہے۔بہت سے لوگ ان رپورٹس کو ’خوش کن اختتام‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ایک صارف کا کہنا تھا ’ویب کی طاقت کا غلط اندازہ نہیں کرنا چاہیے۔ایک دوسرے سوشل میڈیا صارف چین لی نے وائیبو پر لکھا ’وانگ اور ان کے خاندان میں آنے والی تبدیلیاں اطمینان بخش ہیں۔ اس کا کریڈٹ عوام کی رائے اور مقامی حکومت اور بہت سے لوگوں کو جاتا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper