ہندستان ہندوستان

بنگال کی سرزمین پرقاری احمر فاؤنڈیشن کی جانب سے ڈاکٹر مختار احمد فردین کاپرتپاک استقبال

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 11-January-2019

حیدرآباد۔ کولکتہ کی ززخیر ادبی سرزمین میں ادبا اور شعرا کی پذیرائی کرنا قاری احمر فانڈیشن کا شیوہ رہا ہے اور اسی ضمن میں آج کلکتہ کی معروف ادبی وسماجی تنظیم قاری احمر فانڈیشن کی جانب سے آج حیدر آباد سے تشریف فرما خادم ِ اردو اور آل انڈیا اردو ماس سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر مختار احمد فردین کی پذیرائی کی گئی۔قاری احمر فانڈیشن کے ڈائریکٹر اور سماجی خدمتگار زید انوار محمد کی جانب سے آج شام قاری احمر فانڈیشن کے دفتر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران ڈاکٹر مختار احمد فردین کو استقبالیہ دیا گیا۔اسی موقع پرآل انڈیا اردو ماس سوسائٹی فار پیسکی جانب سے زید انوار محمد کو ان کی سماجی وادبی خدمات کے اعتراف میں اردو انمول رتن ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔ ڈاکٹر مختار احمد فردین نے اس موقع پر کہا کہ آج خوشی کا موقع ہے کہ زید انوار جیسی ادب نواز شخضیت جنہیں میں گزشتہ ایک سال سے شوشل میڈیا اور اخبارات کے معرفت جانتا، سے نہ صرف ملنے کا اتفاق ہوا بلکہ ان کی ادب نوازی سے بھی روشناس ہونے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر مختار فردین نے مزید کہا کہ کلکتے کی سرزمین ادبی اعتبار سے کافی زیر خیز ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اب یہ صحافتی اعتبار سے اتنی زرخیز نہیں جتنی کہ پہلے تھی اور اب یہ سہرہ حیدر آباد کے سرآگیا ہے اسلئے اہل ِ بنگالہ کو چاہئے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کریں، اور خاص طور پر اردواخبارورسائل خرید کر پڑھیں اور ایک زندہ قوم بنیں کیوں کہ زندہ قوم وہی ہوتی ہیں جو اپنے اسلاف کی نشانیوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔ انہوں نے اسی کے ساتھ زید انوار سے کہاکہ وہ قوم وملت کے لئے ایک رول ماڈل اسکول کے قیام پر بھی توجہ دیں۔ اس موقع پر انہوں نے قاری احمر فانڈیشن کے ڈائریکٹر زید انوار محمد کو ان کی بے لوث سماجی و ادبی خدمات کے اعتراف میں اردو انمول رتن ایوارڈ پیش کیا۔ زید انوار محمد نے اس موقع پر کہا کہ سماج جو آپ کو دیتا ہے آپ اسے وہی لوٹاتے ہیں اور میں بھی اپنے قوم کو وہی دینے کی کوشش کرتا ہوں جس کا حقدار میں کبھی خود تھا۔ انہوں نے کہاکہ نئے سال کے موقع پر ہمیں یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ اسی نئے سال میں ایک نئے ہندوستان کا سورج طلوع ہوگا اور اس کے لئے ہمیں ابھی سے متحد ہونے کی ضرورت ہے، اب ہمیں سنی، وہابی، دیوبندی، شیعہ اور اہل حدیث ہونے کے بجائے ایک اور متحد امت ِ محمدیہ ؓ بن کر رہنا ہے اور اسی میں ہماری کامیابی ہے کیوں کہ آج ہم نے قر آن اور سنت ِ رسول ؓ کو چھوڑ دیا ہے تو ساری دنیا میں ہماری رسوائی ہورہی ہے اس لئے اب بھی وقت کہ مسلمان اپنی اہمیت کو سمجھیں۔انہوں نے مزید کہاکہ ہمیں قوم وملت کو ایک نئی سوچ نئی فکر دینی ہے اور قوم کے لئے کچھ ایسا کرجانا ہے جس سے آنے والی نسلیں ہمیں بھی یاد رکھیں اور انشا اللہ قاری احمر فانڈیشن کچھ ایسا ہی قوم کے لئے آنے والے دنوں میں کرنے جارہا ہے۔اس استقبالیہ تقریب کا آغاز طارق بیگ دہلوی نے نعت ِ نبی ؓ سے کیا۔دیگر شرکا میں شاعر اکبر حسین اکبر، فراغ روہوی،سید عثمان جاوید،محمد توقیر الدین، سرور دلکش، شہاب الدین سنیر صحافی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper