سیاست سیاست

حکومت 3 طلاق پر دوبارہ آرڈیننس لائےگی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 11-January-2019

نئی دہلی، (سیدشمیم احمد) حکومت تین طلاق سے متعلق بل اور دو دیگر بل کے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں منظور نہ ہونے کی وجہ سے ان سے متعلق آرڈیننس دوبارہ لائےگی۔پارلیمانی امور کے وزیر مملکت وجے گوئل نے آج یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ تین طلاق کو قابل سزا جرم بنانے سے متعلق مسلم خواتین (شادی کے حقوق کے تحفظ)بل، 2018، انڈین کونسل آف میڈیکل سائنسز (ترمیمی) بل، 2018 اور کمپنی (ترمیمی) بل، 2019 لوک سبھا میں منظور ہو گئے ، لیکن انہیں راجیہ سبھا میں منظور نہیں کیا جا سکا۔ لہذا، حکومت ان پر دوبارہ آرڈیننس لائےگی۔تین طلاق اور انڈین کونسل آف میڈیکل سائنسز پر آرڈیننس گزشتہ برس ستمبر میں اور کمپنی قانون میں ترمیم کے لئے آرڈیننس گزشتہ برس نومبر میں لایا گیا تھا۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں تینوں سے متعلق بل لوک سبھا میں منظور ہو گئے، لیکن هنگامے کے سبب راجیہ سبھا میں زیادہ وقت کاروائی رکنے سے یہ ایوان بالا میں منظور نہیں ہو سکے۔قابل ذکر ہے کہ آرڈیننس لانے کے بعد پارلیمنٹ کے آئندہ سیشن میں اگر اس کی جگہ بل منظور نہیں ہو پاتا ہے تو آرڈیننس خودہی خارج ہو جاتا ہے۔تین طلاق سے متعلق آرڈیننس میں تحریری، زبانی یا کسی دوسرے ذریعے سے طلاقِ بدعت یا تین طلاق دینے کو غیر قانونی بنایا گیا ہے۔ اس میں ڈیجیٹل ذرائع سے دی جانے والی تین طلاق کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ تین طلاق دینے والے کے لئے تین سال تک کی سزا اور جرمانے کا بھی التزام ہے۔آرڈیننس کے ذریعے اسے غیر ضمانتی جرم بنایا گیا ہے، حالانکہ مجسٹریٹ کو میاں بیوی کے درمیان صلح کرانے اور بیوی کا موقف سننے کے بعد شوہر کو ضمانت دینے کا حق ہے۔کمپنی قانون میں ترمیم والے آرڈیننس کے ذریعے کمپنی قانون کی 16 دفعات میں ترامیم کی گئی ہیں۔ سزا کے التزام میں کچھ تبدیلیاں کرکے اقتصادی سزا کا التزام ہے۔ اس سے عدالت پر پڑنے والے چھوٹے معاملات کا بوجھ کم ہوگا اور وہ زیادہ سنگین کارپوریٹ جرائم کی سماعت پر اپنی توجہ مرکوز کر سکیں گی۔میڈیکل کونسل آف انڈیا (ایم سی آئی) سے متعلق آرڈیننس کے ذریعے گورننگ بورڈ بنا کر ایم سی آئی کا ا کام کاج اس کے سپرد کردیا گیاہے۔ایم سی آئی کا کام کاج دیکھنے والی نگراں کمیٹی کے سبھی ارکان کے ایک ساتھ استعفی دینے سے حکومت کو گورننگ بورڈ کے قیام کے لئے آرڈیننس لانا پڑا۔

About the author

Taasir Newspaper