ہندستان ہندوستان

دہلی ہائی کورٹ سے راکیش استھانہ کو دھچکا، جاری رہے گی جانچ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 12-January-2019

نئی دہلی،(محمدگوہر): دہلی ہائی کورٹ نے سی بی آئی کے اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ اور ڈی ایس پی دیویندر کمار کی اپنے خلاف درج ایف آئی آر خارج اور کوئی بھی مخالف کارروائی کرنے پر روک لگانے کا مطالبہ کرنے والی درخواست مسترد کر دی ہے۔ جسٹس ناظم وزیری نے فیصلہ سناتے ہوئے سی بی آئی کو اس معاملے میں دس ہفتے میں تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت دی۔کورٹ نے کہا کہ ستیش استھانہ نے کافی سنگین الزام لگائے ہیں۔ کورٹ نے راکیش استھانہ کی گرفتاری پر لگی روک کو ہٹا لی ہے۔ کورٹ نے کہا کہ دفعہ 17 اے کے تحت کسی افسر کے خلاف بدعنوانی اورعوامی خدمات نہ کرنے کے معاملے میں استغاثہ کے لئے منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہے۔20 دسمبر، 2018 کو ہائی کورٹ نے تمام فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ 11 دسمبر، 2018 کو سی بی آئیرشوت اسکینڈل کیس میں رشوت دینے کی شکایت کرنے والے حیدرآباد رہائشی ستیش سانا کی گرفتاری پر روک لگانے والی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ہائیکورٹ نے ستیش سانا کو سی بی آئی تحقیقات میں تعاون کرنے کا ہدایت دی تھی۔سی بی آئی نے گزشتہ 10 نومبر کو راکیش استھانہ کے کیس میں ستیش سانا کے ساتھی پوجیت سے پوچھ گچھ کی تھی۔ گزشتہ 30 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے ستیش سانا کو سیکورٹی دینے کی ہدایت دی تھی۔ ستیش سانا نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرکے خود کے تحفظ کی مانگ کی تھی۔ آلوک ورما اور راکیش استھانہ کو چھٹی پر بھیجنے کے بعد ستیش سانا بھی خاندان سمیت کہیں غائب ہو گئے تھے۔ استھانہ کے خلاف کیس ستیش سانا سے منسلک ایک معاملے میں درج کیا گیا ہے۔ ستیش سانا ہی وہ شخص ہے، جس نے قریشی سے منسلک اپنا کیس رفع دفع کرنے کے لئے استھانہ کو 3 کروڑ روپے رشوت دینے کا الزام لگایا ہے۔سانا کا نام آلوک ورما اور اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ کو رشوت دینے کے الزام میں سامنے آیا ہے۔سانا کے مطابق اس سے رشوت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ایف آئی آر کے مطابق منوج پرساد اور سومیش پرساد ستیش سانا سے دبئی میں ملے اور اس کا معاملہ رفع دفع کرنے کی یقین دہانی کرائی۔سانا دبئی کا کاروباری ہے۔ سی بی آئی اس کے خلاف گوشت کاروباری سے تعلق کو لے کر تحقیقات کر رہی ہے۔ قریشی سال 2014 کے بعد سے بدعنوانی کے کیس میں بہت سے ایجنسیوں کے نشانے پر ہے۔سی بی آئی کے مطابق 2 کروڑ روپے کا تازہ رشوت ستیش نے خود کو 25 اکتوبر تک بچائے رکھنے کے لئے دی تھی۔ 10 اکتوبر کو 25 لاکھ روپے ادا کیے گئے اور باقی کے پیسے 16 اکتوبر تک ادا کرنے کی بات ہوئی۔ سی بی آئی نے 16 اکتوبر کو بچولیے منوج پرساد کو گرفتار کیا، جب وہ باقی کے پونے دو کروڑ روپے لینے بھارت آیا تھا۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ منوج پرساد کو ضمانت دے چکا ہے۔ گزشتہ 8 جنوری کو سپریم کورٹ نے سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما کو ان کے عہدے پر بحال کر دیا تھا۔

About the author

Taasir Newspaper