دنیا بھر سے

رہف القنون: جب ٹوئٹر نے ایک سعودی خاتون کی جان بچائی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 12-January-2019

لندن،۱۱؍جنوریپانچ جنوری کی شام ٹوئٹر پر بنائے گئے ایک نئے اکاؤنٹ سے کی جانے والی ٹویٹس نے ایک پیچیدہ صورتحال کو دنیا پر واضح کرنا شروع کیا۔یہ ٹویٹس 18 سالہ سعودی لڑکی رہف محمد القنون کی تھیں جو کویت میں مقیم اپنا سعودی خاندان چھوڑ کر بھاگ نکلی تھیں اور اس وقت بینکاک کے ہوائی اڈے پر ایک ہوٹل کے کمرے میں موجود تھیں۔جب انھوں نے سلسلہ وار ٹویٹس کے ذریعے مدد کی درخواست کی تو ان کے فالوورز کی تعداد 24 تھی۔عربی زبان میں لکھی ہوئی ان کی پہلی ٹویٹ کا متن تھا ’میں وہ لڑکی ہوں جو تھائی لینڈ بھاگ آئی ہے۔ اب میں شدید خطرے میں ہوں کیونکہ سعودی قونصل خانہ مجھے واپسی پر مجبور کر رہا ہے۔‘اس کے بعد انھوں نے جو کہا اس کو نظر انداز کرنا مشکل تھا۔ ’میں خوف زدہ ہوں کہ میرا خاندان مجھے مار دے گا۔‘لوگوں نے توجہ دی اور پہلا ٹویٹ ’سیو رہف‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر گردش کرنے لگا۔چند ہی منٹوں بعد حقوقِ انسانی کی مصری نڑاد امریکی کارکن مونا التھاوی نے عربی زبان میں لکھی ہوئی ان ٹویٹس کا انگلش میں ترجمہ کیا اور انھیں اپنے ہزاروں فالوورز کو بھیج دیا۔چند ہی گھنٹوں میں اس ٹویٹ نے ہیومن رائٹس واچ کی توجہ حاصل کی اور بالاخر بینکاک میں موجود تنظیم کے ایشیا کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر فِل رابرٹسن نے اسے ری ٹویٹ کیا۔اتوار کی صبح تک وہ رہف محمد القنون کے ساتھ ٹوئٹر کے ذریعے براہ راست رابطے میں تھے اور ہوائی اڈے پر موجود حکام سے نمٹنے برتاؤ کے حوالے سے ان کی رہنمائی کر رہے تھے۔

ہیش ٹیگ ’سیو رہف

اس سب کے باوجود رہف نے ہمت نہ ہاری اور ہوائی اڈے پر ان کہ ساتھ کیا ہو رہا ہے وہ ہر گزرتے پل کے ساتھ اپنی اْس حالتِ زار کے حوالے سے ویڈیوز ٹوئٹر پر ڈالتی رہیں۔ اتوار کے دن بھر میں ان کی یہ پوسٹس زور پکڑتی گئیں۔جس ڈر اور بے خوفی کا انھوں نے اپنی ٹویٹس کے ذریعے اظہار کیا وہ ٹوئٹر استعمال کرنے والوں کی ہمدردی اور حمایت حاصل کرنے کا باعث بنا۔ہیش ٹیگ ’سیو رہف‘ مقبول ہوتا گیا اور ٹوئٹر کے مطابق اتوار کی سہ پہر تک اس موضوع پر پانچ لاکھ سے زائد ٹویٹس ہو چکی تھیں۔24 گھنٹے سے بھی کم ٹائم میں اس نامعلوم سعودی لڑکی جس کے حوالے سے کبھی کسی نے نہ سنا تھا اس کے فالوورز 24 سے بڑھ کر 27000 سے بھی زیادہ ہو چکے تھے۔ہیومن رائٹس واچ کے فِل رابرٹسن نے بی بی سی کو بتایا ’جب میں نے رہف محمد القنون کا یہ بیان سنا کہ انھوں نے اپنا دین ترک کر دیا ہے تو مجھے معلوم تھا کہ اگر اب ان کو سعودی عرب واپس بھیجا گیا تو یہ ان کے لیے بہت برا ہو گا۔‘’اس وقت میرے ذہن میں اور کوئی سوال نہ تھا بس یہ کہ اسے ہماری مدد کی ضرورت تھی۔‘ترکِ اسلام سعودی عرب میں قابلِ تعزیر جرم ہے جس کی سزا موت ہے۔رہف محمد القنون کی مدد کرنے کی تحریک نے خاص کر آسٹریلیا میں بہت زور پکڑا جہاں اب ان کی ممکنہ آباد کاری کے حوالے سے معاملہ زیرِ غور ہے۔ٹوئٹر کی جانب سے بی بی سی کو بھیجے گئے ایک اعلامیے کے مطابق کمپنی ’ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے جہاں پسے ہوئے لوگوں کو دیکھا اور سنا جا سکے۔ یہ ہمارے ہونے کا بنیادی مقصد ہے اور ہماری خدمات کے موثر کن ہونے کے لیے ضروری ہے۔‘

یہاں سے کہانی ڈرامائی رخ اختیار کرتی ہے

پیر کی صبح معاملات نے گھمبیر شکل اختیار کی جب تھائی لینڈ کے حکام القنون کو کویت واپس بھیجنے کے لیے ان کے ہوٹل کے کمرے میں پہنچے۔رہف نے ہیومن رائٹس واچ کا اپنا موبائل کسی بھی صورت حکام کے حوالے نہ کرنے کا مشورہ مانا جو کہ بعد ازاں بہت صائب ثابت ہوا۔انھوں نے اپنے آپ کو ایک آسٹرییوی صحافی صوفی میکنیل کے ساتھ کمرے میں محصور کر لیا اور جہاز میں سوار ہونے سے انکار کر دیا۔ وہ لگاتار اپنی حالتِ زار کے حوالے سے ٹوئٹر پر لکھتی رہیں۔اس کے بعد ان کے فالوورز کی تعداد تقریباً دوگنی ہو کر 66400 سے بھی بڑھ گئی۔بی بی سی جنوب مشرقی ایشیا کے نمائندے جوناتھن ہیڈ ان غیر ملکی صحافیوں میں شامل تھے جو اس معاملے پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ رہف محمد القنون کہ ساتھ جو کچھ ہوا اس میں کار فرما عوامل میں اس معاملے کی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بے تحاشہ تشہیر ایک اہم عنصر تھا۔’رہف محمد القنون ایک ڈری ہوئی نوجوان لڑکی تھی۔ رہف کی حالتِ زار میں دلچسپی نے اس کی ٹوئٹر فالوونگ کو بڑھایا تاوقتیکہ تھائی حکام نے پیر کی صبح اسے اپنے ملک سے بیدخل کرنے کا منصوبہ بنایا۔‘انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک بھرپور انسانی کہانی تھی جو اس وقت رونما ہو رہی تھی اور جس کا اختتام غیر یقینی تھا۔‘فِل رابرٹسن کا کہنا ہے کہ ’بحرانی صورتحال میں مدد اور جوابی تدبیر کے سلسلے میں رہف محمد القنون کے لیے ٹوئٹر سماجی رابطے کا بہترین ذریعہ تھا جس نے معلومات کی تیز ترین رسائی ممکن بنائی۔‘انھوں نے کہا کہ ٹوئٹر پر حمایت میں اضافے نے صحافیوں اور ایڈیٹرز کی توجہ حاصل کی اور اس کی وجہ سے ہی تھائی لینڈ کے مرکزی ذرائع ابلاغ متوجہ ہوئے۔ان کی ٹویٹس نے مقامی سفارت کاروں، حکومتوں، اور اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کے اعلٰی عہدیداران کی توجہ بھی اس مسئلے کی جانب مبذول کروائی۔انھوں نے کہا ’یہ سب اس لیے بھی ضروری تھا تاکہ تھائی لینڈ کی حکومت اپنے نقطہ نظر یا منصوبہ کے حوالے سے دوبارہ سوچے کیوں کہ یہ واضح تھا کہ رہف محمد القنون چپکے سے (واپس) نہ جائے گی۔‘بی بی سی کے جوناتھن ہیڈ کہتے ہیں ’اتوار کی رات تک تھائی حکام بضد تھے کہ ان کو (رہف) واپس بھیجا جائے گا اور تھائی میڈیا اس حوالے سے کچھ رپورٹ نہں کر رہا تھا، تاہم سوموار کی صبح تک صورتحال بدل چکی تھی۔‘’آج رہف القنون محفوظ ہیں اور اقوامِ متحدہ نے ان کو قانونی پناہ گزین کا درجہ دیا ہے۔‘نوجوان اور سوشل میڈیا استعمال کرنے کا فن جاننے والی رہف محمد القنون ایک کامیاب آن لائن مہم کے ذریعہ معاملات اپنے ہاتھ میں لینے اور اپنے آپ کو محفوظ کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ٹوئٹر پر 126000 فالورز کے ساتھ وہ اس حالتِ زار سے نکل چکی ہیں۔ یہ فالوورز ان پانچ دنوں میں بنے تھے جن میں وہ ٹوئٹر پر فعال رہیں۔اسی طرح کے ایک اور معاملے میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ٹوئٹر اور فیس بک اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے ایک مصری آدمی جو کہ ملائئشین ایئرپورٹ پر مہینوں پھنسا رہا تھا کینیڈا میں پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔لیکن وہ تمام افراد جن کی زندگی کو خطرہ در پیش ہو وہ اتنے خوش قسمت نہیں ہوتے۔

About the author

Taasir Newspaper