سیاست سیاست

سی بی آئی ڈائرکٹر آلوک ورما کی چھٹی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 11-January-2019

نئی دہلی، (ایجنسی):وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت والی سلیکشن کمیٹی نے آلوک ورما کو جھٹکا دیا ہے۔ انہیں مرکزی تفتیشی ایجنسی (سی بی آئی) کے ڈائریکٹر کے عہدے سے پھر سے ہٹا دیا گیا ہے۔ جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت والی سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا۔ اس کمیٹی میں وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ سپریم کورٹ کے سینئر جسٹس اے کے سیکری اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما ملیکا ارجن کھڑگے شامل رہے۔ یہ میٹنگ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ پر ہوئی، جو تقریباً دو گھنٹے سے زیادہ وقت تک جاری رہی۔واضح ہو کہ اس اعلیٰ اختیارات کمیٹی میں جسٹس اے کے سیکری نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی جانب سے شرکت کی تھی۔ اس میٹنگ میں ملیکارجن کھڑگے ،وزیر اعظم نریندر مودی اور جسٹس سیکری سے غیر متفق نظر آئے اور کچھ اعتراضات درج کرائے۔ ان سب کے باوجود پینل نے دو۔ایک سے فیصلہ لیا اور آلوک ورما کو ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹا دیا۔ اس سے پہلے منگل کے روز سپریم کورٹ نے آلوک ورما کو ان کے عہدے پر بحال کر دیا تھا۔انہیں حکومت نے تقریباً دو ماہ قبل چھٹی پر بھیج دیا تھا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے بحال کئے جانے کے بعد جمعرات کو پی ایم مودی کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں انہیں سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ اس معاملے پر کمیٹی کی یہ دوسری میٹنگ تھے۔ اس سے قبل بدھ کے روز ہوئی میٹنگ بے نتیجہ رہی تھی۔واضح ہو کہ آلوک ورما اورخصوصی ڈائریکٹر راکیش استھانہ نے ایک دوسرے پر بدعنوانی کے الزام لگائے تھے، جس کے بعد انہیں جبراً چھٹی پر بھیج دیا گیا تھا۔ بدھ کو آلوک ورما دوبارہ عدالت سے بحال کئے جانے کے بعد اپناعہدہ سنبھالتے ہوئے ایم ناگیشور راؤ کے ذریعہ کئے گئے زیادہ تر تبادلوں سے متعلق احکامات کو منسوخ کر دیاتھا۔ قابل ذکر ہے کہ آلوک ورما اور راکیش استھانہ کو چھٹی پر بھیجے جانے کے بعد ناگیشور راؤ کو عبوری سی بی آئی سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق آلوک ورما نے جن افسروں کے تبادلے کے آرڈر منسوخ کئے، انہیں ورما کا معتمد سمجھا جاتا ہے۔ اصولوں کے مطابق وزیر اعظم کی صدارت والی اس کمیٹی میں چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے ایک جسٹس اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر شامل ہوتے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی طرف سے نامزد سپریم کورٹ کے سینئر کے جج اے کے سیکری اور لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملیکارجن کھڑگے نے بدھ کے روز ہوئی میٹنگ میں حصہ لیا تھا۔ کھڑگے نے اس معاملے میں مرکزی ویجلنس کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ سمیت دستاویزات مانگے ہیں۔کھڑگے نے کہا، ‘میں نے سی وی سی کی تحقیقات رپورٹوں سمیت کیس کے سلسلے میں حکومت سے کچھ دستاویزات مانگے ہیں’۔ چیف جسٹس گوگوئی اس بینچ کا حصہ تھے، جس نے منگل کے روز ورما کو سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدے پر بحال کرنے کا حکم دیا تھا، اس لئے انہوں نے سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ سے خود کو الگ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ فی الحال لوک سبھا میں کوئی اپوزیشن کا لیڈر نہیں ہے، کیونکہ کسی بھی اپوزیشن پارٹی کو کل ارکان کی 10 فیصد سیٹیں نہیں ملی تھیں۔ ملیکارجن کھڑگے لوک سبھا میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس کے لیڈر ہیں۔ عدالت نے حکومت سے اپنے فیصلے کے ایک ہفتے کے اندر ہی میٹنگ بلانے کو کہا تھا۔

About the author

Taasir Newspaper