دنیا بھر سے

والد کی بات نہ ماننے پر سعودی خاتون کیوں گرفتار ہو سکتی ہے

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 09-January-2019

بینکاک/ریاض، سعودی عرب کو گذشتہ برس خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی اٹھانے پر عالمی سطح پر سراہا گیا تاہم وہاں خواتین پر پابندیاں اب بھی موجود ہیں جن میں خاص کر مرد کی سرپرستی کا نظام شامل ہے جس کے تحت کسی عورت سے متعلق اہم فیصلے کرنے کا اختیار اس کے والد، بھائی، خاوند یا بیٹے کے پاس ہے۔ان پابندیوں کے مثال چند دن قبل ایک مرتبہ پھر اس وقت منظر عام پر آئی جب ایک جواں سال سعودی خاتون نے بینکاک میں ایک ہوٹل کے کمرے میں خود کو بند کر کے یہ کہا کہ اگر انھیں واپس گھر (سعودی عرب) بھیجا گیا تو انھیں قید کیے جانے کا خطرہ ہے۔سعودی خواتین کو پاسپورٹ کی درخواست دینے، بیرون ملک سفر یا حکومتی سکالرشپ پر بیرون ملک پڑھنے، شادی، قید سے رہائی حتیٰ کہ استحصال کا شکار خواتین کی پناہ گاہوں سے باہر آنے کے لیے بھی اپنے کسی مرد رشتہ دار کی اجازت درکار ہوتی ہے۔مصری نڑاد امریکی صحافی مونا ایلتھوے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس قسم کی پابندیاں ہر سعودی خاتون اور لڑکی پر پیدائش سے موت تک اثرانداز ہوتی ہیں۔ بنیادی طور پر ان سے نابالغوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے’۔سعودی عرب نے سنہ 2000 میں خواتین سے کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے کے اقوام متحدہ کے کنونشن کی توثیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں شریعہ اور اسلامی قوانین کے مطابق صنفی مساوات کو یقینی بنایا گیا ہے۔قدامت پسند خلیجی سلطنت نے سرکاری سکولوں میں خواتین اور لڑکیوں کے کھیلوں اور خواتین کے فٹبال سٹیڈیم جا کر میچ دیکھنے پر عائد پابندی بھی ختم کی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کے ماہرین نے فروری 2018 میں ملک میں خواتین سے امتیازی سلوک کی روک تھام سے متعلق مخصوص قانون اپنانے اور قانونی تعریف کی عدم موجودگی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ماہرین کے مطابق خواتین کی معاشرے اور معیشت میں شرکت میں بڑی رکاوٹ مرد کی سرپرستی کا نظام ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ نظام سعودی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ایک قرآنی آیت کی تشریح سے اخذ کیا گیا ہے جس کے مطابق ‘مرد عورتوں کے محافظ اور کفالت کرنے والے ہیں، کیونکہ خدا نے انھیں عورتوں سے زیادہ طاقتور بنایا ہے اور وہ اپنے وسائل سے ان کی کفالت کرتے ہیں۔’ہیومن رائٹس واچ نے سنہ 2016 میں کہا تھا کہ سعودی سلطنت مرد کی سرپرستی کے نظام کو بعض علاقوں میں ‘واضح طور پر اور براہ راست’ نافذ کرتی ہے اور متعدد خواتین کو، جنہوں نے اسے چیلنج کیا، قید اور استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔سنہ 2018 میں سماجی کارکن ثمر بداوی اپنا آبائی گھر چھوڑ کر ایک پناہ گاہ منتقل ہو گئی تھیں اور اس کی وجہ انھوں نے اپنے والد کی طرف سے اْن پر ہونے والا مبینہ جسمانی تشدد بتایا تھا۔ بعدازاں انھوں نے اپنے والد کی سرپرستی ختم کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی شروع کی۔بداوی کا کہنا تھا کہ مبینہ جوابی کارروائی کے طور پر اْن کے والد نے اْن کے خلاف ‘ نافرمان‘ ہونے کا دعویٰ دائر کر دیا۔ان الزامات کی بنیاد پر سنہ 2010 میں عدالت نے بداوی کو قید کرنے کا حکم دیا اور اْنھوں نے سات ماہ قید خانے میں گزارے۔ بعدازاں سماجی کارکنان کی جانب سے اس مقدمے کی طرف توجہ مبذول کرانے پر حکام نے اْن پر عائد الزامات خارج کر دیے۔اسی طرح ایک اور سماجی کارکن مریم العطیبی بھی سنہ 2017 میں ‘ نافرمانی‘ کے الزام میں تین ماہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر چکی ہیں۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر سرپرستی کے قانون کے خلاف مہم چلانے کے باعث اْنھیں اپنے والد اور بھائی کی طرف سے مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد وہ گھر چھوڑ کر چلی گئیں۔اْن کے ساتھی سماجی کارکنان نے ان کی رہائی کو اپنی جیت سے تعبیر کیا کیونکہ یہ رہائی کسی ‘مرد سرپرست’ کی غیر موجودگی میں عمل میں آئی تھی۔یہاں تک کہ وہ خواتین جو ابتدائی طور پر بیرونِ ملک فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں وہ بھی بعدازاں قید سے نہ بچ پائیں۔سنہ 2017 میں دینا علی السلوم کو زبردستی فلپائن سے واپس سعودی عرب لے جایا گیا جبکہ وہ آسٹریلیا جانا چاہتی تھیں۔ اْن کے مطابق وہ زبردستی کی شادی سے بچنے کے لیے گھر سے بھاگی تھیں۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اْنھیں کچھ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ السلومِ کو ایک پناہ گاہ میں کچھ عرصے کے لیے قید رکھا گیا تھا۔ تاہم یہ معلوم نہ ہو پایا کہ وہ واپس اپنے خاندان سے مل پائی ہیں یا نہیں۔عورتوں کے حقوق کے لیے سرکرداں کارکنان بہت عرصے سے سرپرستی کا قانون ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔سنہ 2016 میں اْنھوں نے اس سلسلے میں شاہی عدالت میں ایک درخواست جمع کروائی جس پر 14000 افراد کے دستخط موجود تھے۔ یہ درخواست اس وقت پیش کی گئی جب ٹوئٹر پر ایک مہم جس کا عنوان ‘سعودی خواتین سرپرستی کے قانون کا خاتمہ چاہتی ہیں’ زور و شور سے جاری تھی۔سعودی عرب کے مفتی اعظم عبدالعزیز الشیخ نے اس درخواست کو ‘اسلام کے خلاف جرم اور سعودی عرب کے معاشرتی وجود کے لیے خطرہ’ قرار دیا تاہم پانچ ماہ بعد شاہ سلمان نے ایک حکم نامے کے ذریعے خواتین کے لیے چند سرکاری خدمات تک رسائی کے لیے سرپرست کی اجازت کی شرط کو ختم کر دیا۔سنہ 2017 میں سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دی گئی۔ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنان نے نہ صرف اس فیصلے کا خیر مقدم کیا بلکہ برابری کے لیے جاری مہم کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا۔بعدازاں سنہ مئی 2018 میں ڈرائیونگ پر پابندی معطل ہونے سے چند ہفتے پہلے سعودی حکام نے خواتین کے حقوق کے حوالے سے جاری مہم کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جس کے دوران ایک درجن سے زیادہ سرگرم کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔گرفتار افراد میں بداوی بھی شامل تھیں جبکہ وہ مرد حضرات بھی گرفتار ہوئے جو اس مہم کے حامی تھے یا جنھوں نے عدالت میں اس کا دفاع کیا تھا۔گرفتار افراد پر سنگین جرائم کے ارتکاب کے الزامات لگائے گئے۔ ان الزامات میں ‘بیرونی عناصر کے ساتھ مشکوک روابط ‘ کا الزام بھی شامل تھا جس کی سزا طویل قید بھی ہو سکتی ہے۔ سرکاری سرپرستی میں چلنے والے خبر رساں اداروں نے ایسے افراد کو ’غدار‘ قرار دیا۔

About the author

Taasir Newspaper