دنیا بھر سے

ٹرمپ کی خواہش کے برخلاف صومالیہ میں امریکی حملوں کا سلسلہ جاری

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 11-January-2019

واشنگٹن ، امریکی فوج نے بدھ کے روز جاری ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اس نے صومالیہ میں ایک نیا حملہ کیا ہے۔ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باور کرایا تھا کہ وہ بیرون ملک عسکری کارروائیوں کو معلق کر دینے کے خواہش مند ہیں تاہم اس کے باوجود یہ رواں سال کے آغاز کے بعد سے اس نوعیت کی چوتھی کارروائی ہے۔افریقا کے لیے امریکی کمان نے اپنے بیان میں بتایا کہ امریکی فورسز نے منگل کے روز صومالیہ کے جنوب مغرب میں واقع علاقے میں شدت پسندوں کے ایک عسکری کیمپ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں چھ دہشت گرد ہلاک اور ان کی گاڑی تباہ ہو گئی۔شدت پسند تنظیم حرکۃ الشباب کے خلاف امریکی بم باری کی یہ تیسری کارروائی ہے۔ امریکا نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے پیر کے روز موگادیشو کے نزدیک چار جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا۔ علاوہ ازیں جنوب مغربی علاقے دیراؤ سینلے کے نزدیک اتوار کے روز ایک حملے میں حرکۃ الشباب کے چھ مسلح ارکان کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔اس سے قبل تین جنوری کو جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ امریکی فوج نے ایک روز قبل دیراؤ سینلے کے قریب کارروائی میں حرکۃ الشباب کے 10 جنجگوؤں کو ہلاک کر دیا۔امریکی فوج اپنے ہر بیان میں یہ باور کراتی ہے کہ اْس کا اور اْس کے حلیفوں (صومالیہ کی اتحادی حکومت اور افریقی یونین کی فوج( کا ہدف یہ ہے کہ حرکۃ الشباب کے جنگجوؤں کو ایسے مقامات پر مورچہ بند ہونے سے روکنا ہے جو ان کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن سکتے ہوں ،،، اور وہ وہاں سے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درامد کرنے کے علاوہ انسانی امداد کے سامان کی چوری اور مقامی آبادی کو بلیک کر سکتے ہوں تا کہ لوگ ان کی کارروائیوں کے لیے مالی رقوم فراہم کریں”۔افریقا میں امریکی کمان نے بدھ کے روز جاری بیان میں یہ بھی باور کرایا ہے کہ وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی تا کہ صومالیہ میں طویل دورانیے کے لیے سکیورٹی کی ذمے داری افریقی یونین کی فوج اور صومالیہ کی وفاقی حکومت کے حوالے کی جا سکے۔امریکی “NBC” نیٹ ورک یہ بتا چکا ہے کہ صدر ٹرمپ نے امریکی وزارت دفاع پینٹاگون سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ صومالیہ میں بڑی حد تک اپنی عسکری کارروائیوں پر روک لگائے۔

About the author

Taasir Newspaper