سیاست سیاست

اوپیندر کشواہا نے ناگ منی اور پردیپ کے الزامات پر دی صفائی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 14-March-2019

پٹنہ،(اسٹاف رپورٹر) رالوسپا کے سربراہ اپندر کشواہا نے پارٹی کے باغی رہنما ناگمنی کے الزامات پر صفائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ناگمنی اور کبھی میرے معاون رہے پردیپ مشرا کے ذریعہ لوک سبھا انتخاب کیلئے ٹکٹ دینے کیلئے پیسے کی بات کو سرے سے خارج کر دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ اس پورے معاملے کا گڑھنے میں کسی اور کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پردیپ مشرا کے ذریعہ جو پیسے دئے جانے کا جو دعویٰ کیا جارہا ہے وہ صحیح ہے لیکن وہ ٹکٹ کے لئے نہیں بلکہ پارٹی چلانے اور کچھ ذاتی کام کیلئے دیاگیا تھا۔ جسے دینے والے نے خود ہی اعتراف کیا ہے۔ سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ موتیہاری سیٹ کے لئے ایک بڑے صنعت کار سے ڈیل کئے جانے کا الزام لگایاگیا ہے لیکن اس پورے معاملہ میں سب سے مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ابھی عظیم اتحاد میں سیٹ کو لے کر فیصلہ ہی نہیں ہوا ہے تو ایسے میں موتیہاری سیٹ کو کیسے دے دیاگیا۔ قابل ذکر ہے کہ آر ایل ایس پی سے حال ہی میں الگ ہوئے لیڈر ناگ منی اور پردیپ مشرا نے اوپیندر کشواہا پر ٹکٹ کے لئے پیسے لینے کا الزام لگایا تھا۔ پردیپ مشرا کے مطابق، اوپیندر کے لئے اسمبلی انتخابات میں ہیلی کاپٹر کا بندوبست کے علاوہ پارٹی کے لئے 10 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کئے اور کشواہا کے پارلیمنٹ بھون واقع ایس بی آئی کے اکاؤنٹ میں 90 لاکھ روپے چیک سے جمع کئے تھے۔ اس کے علاوہ پردیپ مشرا نے الزام لگایا تھا کہ موتیہاری سے ٹکٹ کی یقین دہانی کے باوجود اوپیندر نے مادھو آنند کے ساتھ ٹکٹ کی ڈیل کر لی۔ کشواہا پر ان پیسے سے مع اہل و عیال بیرون ملک سفر کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مشرا نے کہا تھا کہ تعلیم بہتر ریلی کے لئے انہوں نے کشواہا کو ڈرافٹ سے 55 لاکھ روپے دیے تھے۔ اس کے علاوہ ناگ منی نے بھی اوپیندر کشواہا پر نو کروڑ روپے میں آر ایل ایس پی کے سر براہ قومی جنرل سکریٹری مادھو آنند کو موتیہاری لوک سبھا سیٹ کے ٹکٹ دینے کا الزام لگایا تھا۔

About the author

Taasir Newspaper