ہندستان ہندوستان

دستاویز لیک ہونے سے قومی سلامتی کوخطرہ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 14-March-2019

نئی دہلی، (ایجنسی): رافیل مسئلے پر 14 مارچ کو ہونے والی سماعت سے پہلے مرکزی حکومت نے بدھ کو سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا۔ اپنے حلف نامے میں مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ حکومت کی معلومات یا منظوری کے بغیر خفیہ دستاویزات کی فوٹو کاپی کرکے 2 ممالک کے درمیان معاہدے کی خفیہ باتیں لیک کی گئیں۔ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ طیارے کی جنگی صلاحیت کی معلومات عوامی کئے جانے سے دشمن ممالک کو فائدہ ہو سکتا ہے۔مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ درخواست گزار غیر قانونی طریقے سے حاصل دستاویزات کورٹ میں رکھ رہے ہیں جس کا انہیں حق نہیں ہے۔ مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ دستاویزات سے مہیا اقتباس رکھ کر افواہ پھیلائی جا رہی ہے۔ مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ درخواست گزار یا دستاویزات لیک کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونا چاہئے۔ حلف نامے میں مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ نظر ثانی درخواستوں میں کوئی ایسی بات نہیں جو کورٹ کے فیصلے میں کمی بتا سکے۔آج ہی صبح وزارت دفاع نے رافیل معاملے میں نیا حلف نامہ دائر کرنے کی سپریم کورٹ سے اجازت مانگی تھی جس پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے وزارت دفاع کو نیا حلف نامہ دائر کرنے کی اجازت دے دی۔گزشتہ 6 مارچ کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر ریویو پٹیشن پر سماعت مکمل نہیں ہو سکی تھی۔ 6 مارچ کو سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ وزارت دفاع سے خفیہ دستاویزات چوری کئے گئے۔ انہی کی بنیاد پر گمراہ کن خبریں شائع کی جا رہی ہیں اور عرضی داخل کی گئی ہے۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے اس بات کو سنجیدگیسے لیتے ہوئے پوچھا کہ بتائیے اس مسئلے پر کیا کارروائی کر رہے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ جن دستاویزات پر ‘دی ہندو’ نے خبر شائع کی، ان پر صاف طور پر ‘خفیہ’ لکھا تھا۔ انہیں عوامی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو نظر انداز کر کے خبر لکھی گئی۔ یہ آفیشیل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ انہی دستاویزات کو عدالت میں بھی پیش کر دیا گیا۔اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ملک کو جدید طیاروں کی ضرورت ہے۔ یہاں کچھ لوگ سی بی آئی جانچ کروانے پر اڑے ہوئے ہیں۔ہمارے پڑوسی کے پاس ایف 16 ہے۔ہم سیکورٹی کو لے کر فکر مند ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper