ہندستان ہندوستان

سائنس سے غفلت برتنے والی قومیں مغلوب ہوجاتی ہیں: ڈاکٹر سراج اظہر

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 01-March-2019

حیدرآباد،(پریس نوٹ) سائنس کے معنی تسخیر، تحقیق، تخلیق کے ہیں۔ جو تخلیق کے میدان میں آگے بڑھے انہوں نے دنیا کو مسخر کرلیا اور جنہوں نے اس پر توجہ نہیں دی وہ مغلوب ہوگئے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز اسکالر ڈاکٹر قاضی سراج اظہر، یونیورسٹی آف مشی گن، امریکہ نے آج مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی میں اردو سائنس کانگریس کے افتتاحی اجلاس میں کیا۔ اردو مرکز برائے فروغِ علوم (سی پی کے یو) اور اسکول برائے سائنسی علوم کے اشتراک سے دو روزہ کانگریس کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے صدارت کی۔ رواں سال کانگریس کو قومی یومِ سائنس سے مربوط کردیا گیا۔ڈاکٹر سراج اظہر نے کہاکہ جو زبانیں سائنس و ٹکنالوجی سے نہیں جڑ پاتیں وہ ختم ہوجاتی ہیں۔ لیکن اردو ایک ترقی پسند زبان ہے۔ پہلے جامعہ عثمانیہ نے سائنسی علوم کی تعلیم کا اردو میں نظم کیا تھا۔ جو دنیا کی ایک عظیم یونیورسٹی بنی۔ اب ایک اور جامعہ وجود میں آچکی ہے، یعنی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی۔ یہاں پر اردو کا مستقبل محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ثابت ہوچکی ہے کہ طلبہ کو مادری زبان میں تعلیم کی فراہمی سودمند ہوتی ہے جس سے بچے نہ صرف علوم سے بہ آسانی روشناس ہوتے ہیں بلکہ دیگر زبانیں بھی وہ بہ آسانی سیکھ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے صدارتی خطاب میں کہا کہ اردو کو علوم کا ذریعہ بنانا مانو کے قیام کا مقصد ہے۔ اردو مادری زبان والے بچوں کو ابتدائی تعلیم اردو میں دینا ضروری ہے۔ ایک کمسن بچہ جس کے اطراف و اکناف میں اردو بولی جارہی ہو اُسے دوسری زبان کے ذریعہ تعلیم دینا سراسر نا انصافی ہے۔ طلبہ کے لیے نصابی کتابوں کی تیاری کی ضرورت کے تحت نظامت ترجمہ و اشاعت (ڈی ٹی پی) قائم کیا گیا۔ جس میں مسلسل نصابی اور علمی کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے سائنسی ذہن کو اپنانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ سائنسی ذہن رکھنے والے افراد کسی بھی بات کو غور کرنے کے بعد ہی اسے قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے اردو ماہنامہ سائنس جس کے 25 سال مکمل ہوچکے ہیں کے ابتدائی مراحل کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا نعرہ سائنس پڑھئے آگے بڑھئے، آج بھی کارگر ہے۔ڈاکٹر قیصر جمیل، مہاویر میڈیکل ریسرچ سنٹر نے کہا کہ مسلمان سائنس میں کافی پیچھے ہیں۔ اب تک صرف 12 مسلمانوں نے سائنس کا نوبل انعام حاصل کیا ہے۔ پیشۂ طب کے اہم عہدوں پر کام کرچکی محترمہ ڈاکٹر قیصر جمیل نے چند تازہ تحقیقات کے حوالے سے کہا کہ خون میں موجود بعض خلیے غذا کی عدم فراہمی کی صورت میں بیمار خلیوں کو کھاجاتے ہیں۔ اس طرح روزہ رکھنے سے بہت ساری بیماریاں بشمول کینسر کا بھی تدارک ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کھانے پینے کے معاملے میں احتیاط برتنے کی صلاح دی۔ پروفیسر زاہد حسین، جامعہ ملیہ اسلامیہ، مہمانِ اعزازی نے کہا کہ مظاہر فطرت کا مشاہدہ انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے تعلیم کے فاصلے ختم کردیئے ہیں۔ اس موقع پر مختلف کتابوں بشمول بنیادی اصولِ حشریات، مصنف ڈاکٹر شمس الاسلام فاروقی؛ توضیحی فرہنگ (غذا اور تغذیہ) از ڈاکٹر عابد معز؛ ڈیجیٹل الکٹرانکس اینڈ کمپیوٹر آرکٹیکچر از محبوب الحق ؛ مدارس کی تعلیم از ڈاکٹر فہیم اختر ندوی؛ تانے بانے از عبدالملک مومن؛ اردو رسم الخط کا ارتقاء از ڈاکٹر ابوالکلام، ناگپور؛ متوازن غذا اور صحت از ڈاکٹر رفیع الدین ناصر، اورنگ آباد؛ پرواز ہے کام تیرا از ڈاکٹر عزیز احمد عرسی، ورنگل؛ دانہ پانی از جمال نصرت کی رسم اجرا عمل میں آئی۔ ان کے علاوہ یونیورسٹی میں تدریس کے لیے ڈی ٹی پی کی جانب سے شائع کردہ کتب کی رسم اجرا بھی عمل میں آئی۔ رسم اجرا کے موقع پر ڈائرکٹر ڈی ٹی پی پروفیسر ظفر الدین بھی شہ نشین پر موجود تھے۔ ابتداء میں کانگریس کا تعارف پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر عابد معز، کنوینرو کنسلٹنٹ اردو مرکز برائے فروغِ علوم نے بتایا کہ گذشتہ سال ہمارے ساتھ شامل دو ساتھی، ڈاکٹر ریحان انصاری اور یوسف مڑکی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ انہوں نے بتایا کہ سائنس کانگریس کا مقصد سائنسی موضوعات پر لکھنے والوں کو تلاش ہے۔ اب بہت سارے لکھنے والے سامنے آگئے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں سے مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ بطور خاص مہاراشٹرا سے کافی تعداد میں لوگ موجود ہیں۔ ڈاکٹر آمنہ تحسین، انچارج مرکز برائے مطالعاتِ نسواں نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا، کارروائی چلائی اور شکریہ ادا کیا۔ پروفیسر سید نجم الحسن، ڈائرکٹر کانفرنس و ڈین سائنسس نے قومی یومِ سائنس کے ضمن میں منعقدہ تحریری، تقریری اور دیگر مقابلوں کی رپورٹ پیش کی۔ مقابلوں میں کامیاب طلبہ میں مہمانوں کے ہاتھوں انعامات کی تقسیم عمل میں آئی۔ جناب اخلاق الرحمن، ڈاٹا انٹری آپریٹر کی قرأت کلام پاک سے جلسے کا آغاز ہوا۔ دوپہر میں منفرد ماہنامہ ’’سائنس‘‘ کے 25 سال کی تکمیل پر میگزین کے جائزہ پر مبنی ڈاکٹر عبدالمعز شمس کی تدوین و ترتیب (انجمن فروغِ سائنس، علی گڑھ کی پیشکش)’’کاروانِ سائنس‘‘ کی رسم اجرا کی تقریب عمل میں آئی۔ ڈاکٹر عبدالمعز شمس، ڈاکٹر بی بی رضا خاتون، اسعد فیصل فاروقی نے اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر سائنس اور بانی مدیر ڈاکٹر محمد اسلم پرویزکے اعتراف خدمات کے طور پر بزم خواتین، حیدرآباد کی جانب سے سکریٹری ڈاکٹر امۃ الغفور صادقہ اور دیگر اراکین نے ڈاکٹر محمد اسلم پرویز کو یادگاری تحفہ دیا۔ پروفیسر فاطمہ پروین نے سپاس نامہ پڑھ کر سنایا۔ جناب احسن اعظمی، کنسلٹنٹ نے اس تقریب کی کارروائی چلائی۔

About the author

Taasir Newspaper